new zara meri bhi suno1

میری اولاد میری اُمید تم، میرے لیے دُعا کرنا، سعودی معلمہ کا طلبہ کے نام پیغام

Spread the love

ریاض (جے ٹی این آن لائن ذرا میری بھی سُنو) میری اولاد میری اُمید

کرونا کی وبا دُنیا بھر میں لاکھوں افراد کو لقمہ اجل بنا چکی ہے اور یہ سلسلہ

ابھی تھما نہیں بلکہ جاری ہے۔ بھارت میں روزانہ 3 سے 4 ہزار افراد وباء سے

مر رہے ہیں۔ اس موذی وبا نے کئی دُکھ بھری کہانیوں کو جنم دیا ہے، ایسی ہی

ایک کہانی سعودیہ میں کرونا سے وفات پانیوالی معلمہ سوزان کی وصیت کی

صورت میں سامنے آئی ہے۔ جس نے ہزاروں آنکھوں کو اشکبار کرنے کیساتھ

ساتھ ایک انتہائی اعلیٰ سبق بھی دیا ہے اگر ہر انسان اسے ہمیشہ یاد رکھے تو یہ

دنیا جنت بن سکتی ہے-

=-.-= ذرا میری بھی سنو کے عنوان سے مزید خبریں ( == پڑھیں == )

میڈیا کے مطابق حال ہی میں کرونا وباء کے نتیجے میں فوت ہونیوالی ایک معلمہ

سوزان عبدالقادر المصری کی وفات کے بعد اس کی ایک وصیت سامنے آئی ہے

جس پر شہریوں نے صدمے سے بھرپور تاثرات اور تبصرے کیے ہیں۔ کرونا سے

وفات پانیوالی ” سوزان المصری ” نے بسترعلالت پر زندگی کے آخری لمحات میں

یہ وصیت تحریر کی اور بعدازاں وہ وبا کو شکست نہ دے سکیں اور چل بسیں۔

سوزان عبدالقادرالمصری مکہ معظمہ کے انٹرمیڈیٹ سکول 12 کی معلمہ تھیں اور

وہ کئی روز سے ایک ہسپتال میں کرونا وبا سے لڑ رہی تھیں۔

=-.-= زندگی نے وفا نہ کی تو میری اُمید صرف تم ہو، سوزان کی وصیت

اپنے وصیت نما پیغام میں معلمہ سوزان المصری نے لکھا ” السلام علیکم ورحمة

اللہ وبرکاتہ، الحمد اللہ علی کل حال، میں کرونا کا شکار ہو ہوں۔ میرا جسم تھکاوٹ

اور بیماری سے چُور چُور ہو چکا ہے۔ میں آکسیجن کی مدد سے سانس لے رہی

ہوں۔ اگر میں اس مصیبت سے بچ گئی تو یہ میرے رب کا فضل ہو گا۔ اگر میری

زندگی نے وفا نہ کی تو میری کوئی اولاد نہیں جو میرے مرنے کے بعد میرے لیے

دعا کرے۔ میرے چاہنے والے اور میرے طلبہ ہی میری امید ہیں۔ میں تمہیں وصیت

کرتی ہوں تم ہی میرے بیٹے اور بیٹیاں ہو۔ میرے لیے رحمت کی دعا کرنا۔ مجھے

فراموش نہ کرنا۔ آپ لوگوں سے گذارش ہے۔ اللہ کی قسم میں بہت تھک چکی ہوں۔

=-= قارئین کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اس دُکھ بھری وصیت کو بدنصیب سوزان کے ایک سٹوڈنٹ نے سوشل میڈیا پر

بھی پوسٹ کر دیا۔ جس کے بعد شہریوں نے فوت ہونیوالی معلمہ کی خدمات کو

خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے اس کیلئے مغفرت کی دعا کی ہے اور اس کی

جوانی میں موت پر بہت زیادہ رنج اور دُکھ کا اظہار کیا جبکہ مرحومہ کے

سٹوڈنٹس بھی اس کی وفات پر صدمے اور گہرے رنج کی کیفیت سے دوچار ہیں۔

میری اولاد میری اُمید

Leave a Reply