shabaz sharif

اپوزیشن مستعفی ہونے کیلئے تیار، حکومت کو مزید وقت نہیں دے سکتے، شہباز شریف

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لاہور(جے ٹی این آن لائن نیوز) میاں شہباز شریف

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز

شریف نے کہا ہے گرفتاری کا سامنا کروں گا۔ بہت ہو گیا حکومت کو اب ایک

منٹ بھی نہیں دیں گے، اب وقت آ گیا ہے حکومت کو بے نقاب کیا جائے۔ سینئر

صحافیوں کیساتھ ملاقات میں انکا کہنا تھا آج تک مفاہمت سے کوئی ذاتی فائدہ

نہیں اٹھایا، عوام کی خدمت سے سیاسی جماعتوں کی عزت بڑھے گی۔

== پڑھیں= : عمران خان کیخلاف ہرجانہ دعویٰ کیس کی سماعت روزانہ کی جائے
——————————————————————————–

نظام تب طاقتور ہو گا جب سیاسی جماعتیں عوام کی خدمت کریں گی۔ ہزاروں

آرٹیکل 6 لے آئیں عوامی خدمت کرنے تک نظام مضبوط نہیں ہو گا۔ انکا کہنا تھا

ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی ہوئی میرے مقدمات کی اس مقابلے میں کوئی حیثیت

نہیں۔ ہمیں اپنی تاریخ سے سبق سیکھنا چاہیے۔

==: میرے قائد نواز شریف کی تقریر آئین سے متصادم نہیں تھی، صدر (ن) لیگ

شہباز شریف نے کہا میرے قائد نوازشریف کی اے پی سی میں تقریر آئین سے

متصادم نہیں تھی، انہوں نے تو اداروں کو اپنی حدود میں رہنے کی تلقین کی،

مستقبل کیلئے اپنی تجاویز دیں، جن پر غور کرنا چاہیے، مفاہمت ان کا نظریہ ہے

مگر مفاہمت سے کبھی کوئی فائدہ نہیں لیا۔ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف

کا مزید کہنا تھا حکومت کو جتنا وقت دینا تھا دے چکے مزید وقت نہیں دیں گے،

عمران خان مجھے ہر صورت گرفتار کروانا چاہتے ہیں، اے پی سی فیصلوں پر

ہر صورت عملدرآمد ہو گا۔

===: فضل الرحمن کو اپوزیشن اتحاد کی سربراہی بزرگی کے باعث دی

سربراہ جے یو آئی (ف) مولانا فضل الرحمن بزرگ سیاستدان ہیں اسلئے اپوزیشن

اتحاد کی انہیں قیادت سونپی، ہمارے منصوبوں میں شفافیت ہے ایک دھیلے کی

کرپشن نہیں کی گئی، ریاستی اداروں سے میرا رابطہ اسوقت سے ہے جب

سے سیاست میں ہوں۔ خود کو اے پی سی کے فیصلے کا پابند سمجھتے ہیں۔

مجھ سے اسلئے پریشان ہیں کہ میں سیاسی مفاہمت کا داعی ہوں، آرمی چیف

سے سیاسی لیڈر شپ کی ملاقات کی خاص سٹریٹجک اہمیت تھی، اس میں وزیر

اعظم کا نہ ہونا کیا ثابت کرتا ہے۔ عوام کی بھرپور تائید اور حمایت ہی ماروا ئے

آئین کا راستہ روک سکتی ہے۔

===: گلگت بلتستان سے متعلق فیصلہ کشمیر پالیسی کے تحت کیا جانا چاہیے

گلگت بلتستان کے بارے میں کوئی بھی فیصلہ، کشمیر پالیسی سے ہٹ کر نہیں

ہونا چاہیے۔ مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی دونوں تیار ہیں، جب وقت آیا تو اسمبلیوں

سے مستعفی ہونے میں دیر نہیں لگائیں گے۔ پارٹی رہنماؤں خواجہ آصف، احسن

اقبال اور رانا ثنا اللہ کے ہمراہ سینئر اخبار نویسوں سے گفتگو میں انکا یہ بھی

کہنا تھا تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق ہے آئندہ الیکشن شفاف ہونا چاہیے۔ الیکشن

میں کسی بھی جانب سے مداخلت نہ ہو، اس ایجنڈ ے کی تکمیل تک نئے الیکشن

نہیں ہونے چاہیں، گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت پارلیمان کے ذریعے تبدیل کی

جائے۔

===: مشاورت اور مفاہمت سے ہی ملک آگے چل سکتا ہے۔

قومی خزانے کے اربوں روپے بچائے، کبھی تنخواہ نہیں لی، بیرون ملک تمام

دورے اپنے خرچ پر کیے، فوج سے بطور ادارہ 25سال سے رابطے میں ہیں،

مشاورت اور مفاہمت سے ہی ملک آگے چل سکتا ہے۔

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

میاں شہباز شریف

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply