مہنگائی کم ہوگئی،مزید کم ہو گی تو شرح سود بھی نیچے آئے گی، گورنر سٹیٹ بینک

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر نے کہا ہے کہ کورونا کے باعث چین کے

منسوخ ہونے والے آرڈرز پاکستان کو مل رہے ہیں۔پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کا

اجلاس چیئرمین رانا تنویر حسین کی زیر صدارت اسلام آباد میں ہوا۔گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر نے

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو مانیٹری پالیسی اور مہنگائی پر بریفنگ دی۔رضا باقر نے کہا کہ جولائی سے

زرمبادلہ ذخائر میں ساڑھے 9 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا ہے ،ذخائر بڑھتے رہے تو عالمی مالیاتی

فنڈ(آئی ایم ایف) سمیت کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔انہوں نے بتایا کہ

کورونا وائرس کی وجہ سے چین کے آرڈر منسوخ ہو رہے ہیں اور چین کے منسوخ آرڈر اب پاکستان

کو مل رہے ہیں جب کہ پاکستان کو چین سے سپلائی بھی متاثر ہورہی ہے، ایران میں کورونا وائرس

کے بھی منفی اثرات یہاں آسکتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ ڈالر 162 سے 155 روپے کی سطح پر آچکا ہے

جب کہ مہنگائی میں 2 فیصد کمی آگئی ہے اور یہ مزید کم ہوگی، رواں مالی سال مہنگائی 11 سے 12

فیصد رہے گی،مہنگائی مزید کم ہونے سے شرح سود میں بھی کمی آئے گی۔گورنر اسٹیٹ بینک نے

کہا کہ آئی ایم ایف معاشی اصلاحات میں شراکت دار ہے، آئی ایم ایف سے بات چیت کچھ لو اور کچھ

دو کی بنیاد پرہوتی ہے، ہم چاہتے ہیں کہ زرمبادلہ ذخائر برآمدات میں اضافے سے بڑھیں، لوگ فارن

کرنسی اکاؤ نٹس روپے میں منتقل کر رہے ہیں۔گورنر سٹیٹ بینک رضا باقر کانے کہا کہجب بھی

شرح سود کا ذکر ہوتا ہے ہم اسے بزنس مین کے نکتہ نظر سے دیکھتے ہیں۔ آنے والے وقت میں

مہنگائی جیسے جیسے کم ہوگی ویسے ویسے شرح سود کم ہو گی۔ گورنر سٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ

شرح سود کا بڑھنا کوئی بری نہیں ہے، ایک طبقہ وہ بھی ہے جو اپنی جمع پونجی لگا کر اس کے

منافع پر گزارا کرتا ہے۔ڈاکٹر رضا باقر کا مزید کہنا تھا کہ جب شرح سود کم ہوتی ہے تو وہ سفید پوش

آدمی متاثر ہوتا ہے، ایک ماہ قبل ساڑھے 14 فیصد سے زائد مہنگائی تھی، اب ساڑھے 12 فیصد تک

آگئی ہے۔بریفنگ کے دوران انہوں نے مزید کہا کہ ہماری سیونگز بھارت سے کافی کم ہیں، قومی

بچت بڑھانے کے لئے ہمیں اقدامات کرنا ہوں گے، بھارت اور بنگلا دیش کے مقابلے میں ہماری

سیونگ کم ہے۔گورنر سٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ ہمارے ملک میں سیونگ ریٹ کم ہے، نیشنل سیونگ

کم ہوئیں تو کرنٹ اکاونٹ خسارہ بڑھے گا۔ڈاکٹر رضا باقر کا مزید کہنا تھا کہ ایکسچینج ریٹ بڑھنے

کی وجہ خزانہ خالی ہونا تھا، ریفارمز پیکیج شروع ہونے وقت سے ساڑھے نو ارب ڈالر زرمبادلہ

ذخائر بڑھے۔ جب خزانے میں پیسہ ہوگا تو کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ان

کا کہنا تھا کہ ڈالر ایک سو پانچ سے بڑھتا بڑھتا 162تک چلا گیا، لوگ ہر روز رات کو کہہ رہے

تھے ڈالر آسمان تک جائے گا، ڈالر کو 154.155 پر لاکر کھڑا کیا ہے۔رضا باقر کا مزید کہنا تھا کہ

مہنگائی سپلائی اور ایکسچینج ریٹ کی وجہ سے بڑھی۔ سال 2011ء￿ میں ساڑھے تیرہ فیصد

مہنگائی تھی، پہلے ڈالر کو مصنوعی جگہ پر رکھا ہوا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ اس لئے غیر ملکی سرمایہ

کار ڈرتا بھی تھا کہ یہ عارضی ہے، اگر پیسہ باہر جاتا بھی ہے تو بھی کافی سرمایہ پڑا ہوا ہوگا، تین

ارب ڈالرز جو آئے ہیں یہ چار سے پانچ فیصد تک سود پرآئے ہیں۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply