مہنگائی کا نیا طوفان ،گھی ، کوکنگ آئل ،دودھ، ایل پی جی اوربجلی کی قیمتوں میں اضافہ

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مہنگائی کا نیا طوفان

اسلام آباد(جے ٹی این آن لائن نیوز) یوٹیلیٹی سٹورز پر گھی اور کوگنگ آئل

سمیت دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کردیا گیا ہے۔یوٹیلیٹی اسٹور پر

قیمتوں کے اضافے کا نوٹیفیکشن جاری کردیا گیا ہے جس کے بعد یوٹیلیٹی اسٹورز پر بھی سستی اشیا

دستیاب نہیں۔ نئی قیمتوں کے تحت گھی 33روپے فی کلو اور کوکنگ آئل کی قیمت میں 20روپے فی

لیٹر اضافہ کیا گیا ہے جب کہ ٹوتھ برش 14سے لیکر 35روپے مہنگا کردیا گیا۔ نئی قیمتوں کا اطلاق

فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔اسی طرح یوٹیلٹی اسٹورز پر سوپ سمیت دیگر اشیا بھی مہنگی کردی

گئی ہیں، ٹوٹھ پیسٹ کی قیمت میں 5سے لیکر 20روپے تک اضافہ ہوا ہے۔ مہنگی ہونے والی دیگر

اشیا میں کاجو 200گرام 24سے لیکر 47روپے، ریڈ چیلی پاڈر 73روپے، ملک چاکلیٹ کی قیمت میں

5روپے کا اضافہ اور شوینگ کریم 20 روپے تک مہنگی کردی گئی۔واضح رہے کہ چھ روز قبل بھی

یوٹیلیٹی اسٹور پر مختلف برانڈز کیگھی کی فی کلو قیمت میں چار روپے تک اضافہ کیا گیا تھا جس

سے فی کلو قیمت 237روپے سے بڑھا کر 241روپے کردی گئی تھی، اسی طرح دودھ کی قیمت میں

بھی پانچ روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا تھا، جس کے کے بعد قیمت 147 روپے سے بڑھ کر 152روپے

فی لیٹر ہوگئی تھی۔دوسری طرف آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا)نے ماہ اکتوبر 2020کیلئے

ایل پی جی قیمت میں اضافہ کر دیا ۔اوگرا نے ماہ اکتوبر کے لیے ایل پی جی قیمت میں 2روپے

87پیسے فی کلو گرام اضافہ کیا جس کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔ ایل پی جی سلنڈر کی

قیمت میں 33.90روپے فی سلنڈر اضافے کا اعلان کیا گیا ہے۔ایل پی جی کی قیمت میں اضافے کے

بعد 11.8کلو گھریلو سلنڈر کی نئی قیمت 1416.29روپے ہوگئی ہے، ستمبر میں 11.8کلو گرام گھریلو

سلنڈر کی قیمت 1382.38روپے تھی۔پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن نے حکومتی ناقص پالیسیوں کے

نتیجے میں اگلے ماہ آٹے کے بحران کی پیشگوئی کردی ہے ۔پاکستان فلو ر ملز ایسوسی ایشن کے

چیئرمین عاصم رضا نے کہا ہے کہ حکومت کی ناقص پالیسیوں سے اگلے ماہ میں آٹے کا شدید بحران

آنے والا ہے۔ لاہور میں فلور ملز ایسوسی ایشن کے سالانہ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے عاصم رضا

نے کہا کہ اس وقت ملک میں 30لاکھ ٹن گندم کی قلت ہے اور گندم کے بحران کی وجہ فیڈ ملز کو

گندم فراہمی ہے۔ اس سال بلوچستان کو بالکل گندم نہیں دی گئی اور گندم کا جو ریٹ دسمبر میں ہونا تھا

وہ جون میں ہو گیا تھا، نجی شعبہ 15لاکھ ٹن گندم درآمد کررہا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت بھی اتنی

ہی گندم درآمد کرے، دسمبر کے بعد گندم کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہو گی۔

مہنگائی کا نیا طوفان

ستاروں کا مکمل احوال جاننے کیلئے وزٹ کریں ….. ( جتن آن لائن کُنڈلی )

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply