Halat e Hazra,Current Affair

مہنگائی پے مہنگائی اور وزیراعظم عمران خان کی انگڑائی

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

(تحریر:— مامن زہرا) مہنگائی پے مہنگائی

ویسے تو ملک میں مہنگائی کی موجودہ صورتحال کوئی نئی نہیں یہ سلسلہ گزشتہ تین دہائیوں سے مسلسل جاری ہے، خصوصاً بجٹ سے چند ماہ قبل اشیائے ضرورت سمیت بجلی، گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوجاتا ہے، جس کو وفاقی حکومتیں ’’حکمت عملی ‘‘ سے اور بڑی صفائی سے بجٹ کا حصہ بناتی رہیں ہیں- یوں کبھی بھی قیمتوں میں کمی نہیں ہو پائی، اس بنیادی مسئلے کو ایشو بنا کر ماضی میں حکومتیں عوام سے ووٹ بھی لیتی رہی ہیں، مگر تحریک انصاف کا معاملہ ہی الگ ہے- انہوں نے جہاں مہنگائی کو بنیادی ایشو قرار دیا وہاں اور بھی کئی خواب دکھائے جو تاحال تو ’’ کالے ‘‘ ہی نظر آرہے ہیں کیونکہ ’’سنہرے ‘‘ کی آئندہ دور دور تک امید کی کوئی کرن دکھائی نہیں دے رہی- مزید جاننے کیلئے پڑھیں

حکومتی معاشی ٹیم کی نااہلی و ناکامی بے نقاب

البتہ یہ ضرور ہوا ہے کہ تحریک انصاف کی قیادت سمیت اقتصادیات کے ’’ارسطو ‘‘ اس برے طریقے سے ناکام ہوئے کہ فارمولا وزیر خزانہ جس کو اس ملک کی نہ تو اقتصادیات کے بارے میں کوئی بنیادی معلومات ہیں اور نہ ہی ان امور پر قابو پانے کی صلاحیت، حالت یہ ہے کہ ’’فارمولا ‘‘ مشیر خزانہ کی تمام تر صلاحیتوں کے باوجود مہنگائی دنوں نہیں بلکہ گھنٹوں کے حساب سے بڑھ رہی ہے اور وزیراعظم عمران خان جو بظاہر بنی گالا کی چار دیواری میں قید ہوکر رہ گئے ہیں کو علم بھی نہیں ہوگا کہ اس وقت شاید اپوزیشن تو ان کیساتھ کھڑی ہے کیونکہ وہ چاہتی ہے کہ جمہوریت کا پہیہ چلتا رہے اور یہ حکومت بھی اپنا آئینی وقت مکمل کرلے لیکن انہیں یہ ادارک نہیں ہوپا رہا کہ ان کی اپنی پارٹی کے کارکنوں سمیت اب تو وزراء نے بھی رویے تبدیل کرلئے ہیں اور نہ چاہتے ہوئے بھی ان کے منہ سے سیدھی بات نکل جاتی ہے-

حکومتی اتحادی بھی غصے میں

اتحادیوں کے غصے اور عزائم اگر کسی نے انہیں بتا دئیے ہوں تو ٹھیک ہے ورنہ وہ ٹیلی ویژن پر لاکھ مستفید ہوسکتے ہوں، عوامی رابطہ بالکل کٹ چکا ہے جو ان کی ناکامی میں بنیادی کردار ادا کرسکتا ہے کیونکہ پاکستان جیسے زرعی ملک میں آٹے کا بحران آنا سمجھ سے بالا تر ہے محض ڈیڑھ سال قبل صرف پنجاب کے پاس پورے ملک کیلئے اگلے تین سال تک کی گندم کا ذخیرہ موجود تھا لیکن کیا ہوا کیا اس کے بارے میں وزیر خوراک سمیع اللہ چودھری سے جواب طلب کیا گیا کہ گندم کا ذخیرہ کس کو بیچ دیا گیا اور کس کس نے اس کھیل میں ہاتھ رنگے-

آٹا بحران کا فائدہ آخر اُٹھایا کس نے؟

عوام کو قطاروں میں لگ کر 70 روپے روپے کلو آٹا خریدنے پر کس نے مجبور کیا۔ جو آسانی سے دستیاب بھی نہیں، اسلئے تو مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے سوال اٹھایا کہ اس وقت آٹا بحران سے کون فائدہ اٹھا رہا ہے اس کا ذمہ دار کون ہے گندم کا تین سالوں کیلئے رکھا گیا سٹاک کہاں گیا ؟ مہنگائی پے مہنگائی

زرعی ملک و وافر ذخائر کے باوجود آٹا بحران بڑا سوالیہ نشان

موجودہ حکومت کی مکمل ناکامی کا ثبوت ہے کہ مستقبل کونظر انداز کرتے ہوئے چالیس ہزار میٹرک ٹن گندم افغانستان کو بیچ دی گئی۔ ایسا کیوں کیا گیا اور اب گندم درآمد کرنے کیلئے کون پلان بنا رہا ہے- اس کا جواب دہ کون ہوگا۔ یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا مگر ایک بات واضح ہے کہ اس وقت عوام دو وقت کی روٹی کیلئے تنگ ہورہے ہیں اوپر سے آٹے کے بعد چینی اور دیگر اشیائے خورونوش کی عدم دستیابی اور قیمتوں میں اضافے نے ان کا بھرکس نکال دیا ہے۔ لیکن حکومت ہے کہ میٹنگ میٹنگ کھیل رہی ہے کیونکہ جو لوگ یہ بحران پیدا کررہے ہیں وہی تو انتظامیہ کو لمبی لمبی ’’ڈوینشز’’دیتے ہیں جس کا ریکارڈ بھی نہیں ہوتا۔ مہنگائی پے مہنگائی

غربت سے ذہنی تناؤ اور اموات میں مسلسل اضافہ

پولیس کا یہ عالم ہے کہ وہ چوری کو تو ماننے کو تیار ہی نہیں جبکہ ڈکیتی کا پرچہ بھی نہیں دے رہے اگر اصرار کیا جائے تو گھر کے کسی اہم فرد پر شک ظاہر کرکے اسے گرفتار کرلیا جاتا ہے، یوں ڈکیتوں کے ہاتھوں لٹنے واے پولیس سے مزید لٹنے اور بے عزت ہونے کے بعد صبر کا لمبا گونٹ پی کر بیٹھ جاتے ہیں- معاشی بدحالی کا یہ عالم ہے کہ بین الاقوامی تنظیم کے کئے گئے سروے کے مطابق 31 فیصد پاکستانی ملازمتوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں- افراد زر بیروزگاری اور غربت کی وجہ سے ذہنی دبائو ہی نہیں اموات کی شرح میں بھی اضافہ ہوگیا ہے- مہنگائی پے مہنگائی

قومی انڈکس خطرے کے نشان سے جُڑ چکا

قومی انڈکس متعدد غریب ممالک سے بھی نیچے کی سطح پر ہے جنوبی ایشیائی ممالک میں رواں برس ترقی کی جس شرح کی توقع کی جارہی ہے اس میں بھارت 5.7 سے بڑھ کر 6.6 بنگلہ دیش 8.1 سے کم ہوکر 7.8 جبکہ پاکستان 3.3 سے کم ہوکر 2.1 تک رہنے کی پیش گوئی ہے- یعنی رواں سال اور اس سے اگلے سال مزید مہنگائی کا ریلا آنے والا ہے اور اس میں شاید یہ حکومت خود بھی بہہ جائے، کیونکہ مختلف سیاسی جماعتوں سمیت تحریک انصاف کی اپنی قیادت نے نہ صرف تنقید شروع کردی ہے بلکہ کارکنوں نے تو باقاعدہ سوشل میڈیا پر تحریک انصاف کیخلاف آواز حق بھی بلند کرنا شروع کردی ہے-

فروری کا آخری عشرہ جے یوآئی (ف) ماہ مارچ پیپلز پارٹی منتخب کر چکی

جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی (ف) نے رواں ماہ سے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی نے مارچ کے مہینے کو حکومت مخالف تحریک کیلئے چُن لیا ہے، حکومت کی معاشی، خارجی اور کشمیر پالیسی پر سخت تنقید کی جاری ہے جبکہ احتساب کے نعرے کو ڈھونگ قرار دیدیا گیا ہے- کہا جا رہا ہے پڑوسی ملک کارخانے لگارہے ہیں اورہماری حکومت لنگر خانے کھولنے پر لگی ہوئی ہے نااہلی کی انتہا ہوچکی ہے کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ مہنگائی پے مہنگائی

حکومت کی سُسستی و لاپرواہی ان کی رخصت کا پروانہ

ایسے میں وزیر اعظم عمران خان کا انگڑائی لینا اور ایک ہنگامی میٹنگ میں اپنی معاشی ٹیم کو ملک میں جاری مہنگائی کنٹرول کرنے، عوام کو اشیائے ضروریہ سستے داموں فراہم کرنے کا ٹاسک دیتے ہوئے یہ کہنا کہ اگر ہم عوام کو ریلیف نہیں دے سکتے تو ان پر حکومت کا حق بھی نہیں رکھتے، بظاہر تو بڑی اچھی اور حق گوئی کی بات ہے مگر کیا کیا جائے خدشہ ہے کہیں کوئی “یوٹرن” نہ لے لیا جائے- لیکن اب کی بار یہ طے ہے عمران اینڈ کمپنی نے عوام کو ریلیف دینے میں سُستی و لاپرواہی سے کام لیا تو آئندہ بجٹ کے بعد حکومت خود کو فارغ سمجھے، کہ آوازہ خلق نقارہ خدا-

پڑھیں : — آکھ پٹ اے ” نیا پاکستان “ اے

مہنگائی پے مہنگائی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply