104

مہنگائی بڑھے گی تو مقتدر حلقوں پر بھی آنچ آئے گی ، بلاول

Spread the love

لاہور (سٹاف رپورٹر)چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے

کہ آرمی چیف سے میری کوئی ملاقات یا رابطہ نہیں ہوا،آرمی ایکٹ میں ترامیم

کسی کے کہنے پر واپس نہیں لیں،ہم سلیکٹڈ وزیر اعظم کو نہیں مانتے، سازش

جمہوری بھی ہوتی ہے،حکومت کیخلاف کسی بھی غیر جمہوری سازش میں شامل

نہیں ہونگے، حکومت جادو پر چل رہی ہے اور اس جادو کا توڑ عوام ہے، کراچی

اور گجرات کے عوام بھی حکومت سے خوش نہیں، اپوزیشن کیلئے مشکل کر دیا

گیا ہے کہ وہ اپنی سیاست کرے، شہباز شریف کی غیر موجودگی میں اس کردار

کی کمی محسوس ہو رہی ہے، اپوزیشن کے درمیان ماضی میں جو بہتر رابطہ رہا

وہ اس طرح نہیں رہا، تالی دو ہاتھوں سے بجتی ہے لیکن ایک ہاتھ غائب ہے، ہم

حکومت کو صرف آئینی طریقہ کار سے ہٹانا چاہتے ہیں۔ چیئرمین بلاول بھٹو

زرداری نے بدھ کو لاہور میں مصروف دن گذارا۔بلاول ہائوس میں پنجاب اور

لاہور کی تنظیم کے عہدیداروں قمرزمان کائرہ، چودھری منظور احمد،، سید حسن

مرتضی، چودھری اسلم گل ملک عثمان، ثمینہ خالد گھرکی عزیزالرحمان چن،

اسرار بٹ نے ملاقات کی۔ بلاول بھٹو نے سنیئر اینکر پرسنز سے ملاقات کے

علاوہ سندر سلطانکے میں پی پی راہنما جمیل احمد منج سے ان کی والدہ کے انتقال

پر جاکرتعزیت کی۔ بلاول بھٹو زرداری کاپریس کانفرنس اور مختلف موقع پر

گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ مولانا کی تحریک میں پارلیمنٹ میں ان کے ساتھ

ہیںلیکن احتجاجی طریقہ کار پر سوچ مختلف ہے۔مہنگائی بڑھے گی تو عمران خان

کو برا بھلا کہنے کے ساتھ ساتھ مقتدر حلقوں پر بھی آنچ آئیگی، مقتدر حلقوں سے

کوئی رابطہ نہیںلیکن تمام اداروں کو سمجھنا پڑے گا کہ حالات کس قدر دگر گوں

ہو چکے مگران کے پیار کا انداز بڑا عجیب ہے، میں نے سنا کہ ملکی خفیہ ادارے

مہنگائی بڑھنے کا کھوج لگائیں گے۔ ہم عوام کے مسائل پر بات کرتے ہیں حکومت

جواب نہیں دیتی، پنجاب آ کر پارٹی ورکرز اور دانشوروں سے مشورہ کر رہا ہوں

کہ کیسے سرکار کی چھٹی کی جائے، مانتا ہوں کہ سندھ کے حوالے سے ہماری

کارکردگی خراب بتائی جاتی ہے، حکومت کا ادارہ شماریات کہہ رہا ہے کہ اتنی

مہنگائی کبھی نہیں بڑھی، ایف بی آر کہہ رہا ہے کہ ٹیکس کا ہدف پورا نہیں ہو

رہا، ٹیکس کا ہدف پورا نہیں ہو گا تو مزید مہنگائی ہو گی، حکومت ہر بات پر

کردار کشی پر اتر آتی ہے، بیروزگاری اور غربت کا طوفان ہے، حکومت اپنی

کارکردگی کے بارے میں بات کرنے کو تیار نہیں، سٹیٹ بینک کہہ رہا ہے کہ

کبھی اتنے قرضے نہیں لئے گئے، پی ٹی آئی ،آئی ایم ایف ڈیل عوام دشمن ثابت

ہوئی، لوگوں کیلئے گھر چلانا مشکل ہو گیا ہے، یہ نالائق حکومت ہے، غریب

عوام کا معاشی قتل ہو رہا ہے، وزراء￿ کہتے ہیں آئی ایم ایف بہت خوش ہے،

وزراء￿ عوام سے بھی پوچھیں کہ حکومت معیشت کیسے چلا رہی ہے۔بلاول کا

کہنا تھا کہ تحریک انصاف کو بنانا اور اسے کھڑا کرنا 2008ء میں ہی شروع ہو

گیا تھا۔ عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے بلاول کا کہنا تھا کہ یہ ملک کا واحد

وزیراعظم ہے جو کشمیر پر قومی اتفاق رائے نہیں بنا سکا۔چیئرمین پیپلز پارٹی

کاکہنا تھاکہ اپوزیشن لیڈر کا کردار انتہائی اہم ہوتا ہے، اہم معاملات پر اپوزیشن کا

مؤقف بیان کرنا ان کی ذمہ داری ہوتی ہے، اس لیے شہباز شریف کی غیر

موجودگی میں اس کردار کی کمی محسوس ہو رہی ہے۔۔ان کا کہنا تھا کہ امید ہے

کہ شہباز شریف جلد وطن واپس آکر اپنا کردار ادا کریں گے، اپوزیشن نے مہنگائی

میں پِسے عوام کے لیے سیاست نہ کی تو عوام سیاسی جماعتوں سے لاتعلق

ہوجائیں گے۔۔سندھ میں گذشتہ دنوں قتل ہونے والے صحافی عزیز میمن کے حوالے

سے ان کا کہنا تھا کہ مقتول کے اہل خانہ جوڈیشل کمیشن بنانا چاہتے ہیں تو سندھ

حکومت اس کے لیے تیار ہے اس سے قبل بلاول بھٹو زرداری سے پی پی پی

سینٹرل پنجاب کی قیادت کی بلاول ہاؤس میں ملاقات چیئرمین بلاول بھٹو زرداری

کو پی پی پی پنجاب کی لیڈرشپ نے صوبے کی سیاسی صورت حال سے آگاہ کیا ۔

اس موقع پر بلاول بھٹو نے کہا کہ پنجاب کے عوام مسلط کی گئی تبدیلی کی بھاری

قیمت ادا کررہے ہیں مہنگائی اور بیروزگاری کی وجہ سے آج پنجاب کے عوام

مسائل کا شکار ہیں سلیکٹڈ حکمران کبھی بھی پنجاب کے مسائل حل نہیں کرسکتے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ عوامی مسائل کو ہر فورم پر اجاگر کیا جائے،

پاکستان پیپلزپارٹی اور لاہور کا ایک گہرا تاریخی رشتہ ہے ۔ چیئرمین بلاول بھٹو

زرداری سے ملاقات کرنے والوں میں قمرزمان کائرہ، ثمینہ خالد گھرکی اور اسلم

گل چوہدری منظور، حسن مرتضی، عزیزالرحمان چن، اسرار بٹ اور ملک عثمان

نے بھی ملاقات کی اس موقع پر بلاول بھٹو زرداری نے واضح کر دیا ہے کہ

وہحکومت کیخلاف کسی غیر جمہوری سازش میں شامل نہیں ہوں گے۔ حکومت

صرف آئینی طریقے سے ہٹانا چاہتے ہیں۔ اجلاس سے خطاب میں بلاول بھٹو نے

مہنگائی کے خلاف جلسوں اور احتجاج کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہم

سلیکٹڈ وزیراعظم کو نہیں مانتے۔ عوام مسلط کی گئی تبدیلی کی بھاری قیمت ادا کر

رہے ہیں۔۔ آئی ایم ایف معاہدے میں عام آدمی کے مسائل کا خیال نہیں رکھا گیا۔ان کا

کہنا تھا کہ ٹیکس کے ایسے اہداف رکھے جا رہے ہیں جس سے عام آدمی کی کمر

ٹوٹ رہی ہے۔ ہم بھی آئی ایم ایف کے پاس گئے تھے لیکن ایسی ظالمانہ پالیسیاں

نافذ نہیں کیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا اپنا پلان یہ ہے کہ ملک بھر میں جلسے،

جلوس، سیمنار کریں گے اور ضلع ضلع جائیں گے۔چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ

اپوزیشن کے لئے سیاست کرنا مشکل کر دیا گیا ہے۔ ہم حکومت صرف آئینی طریقہ

کار سے ہٹانا چاہتے ہیں۔ کسی بھی غیر جمہوری سازش میں شامل نہیں ہونگے

بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے گومل یونیورسٹی کے طلبہ کے احتجاج و موقف

کی حمایت کااعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ طلبہ کے مسائل حل کرنے کے بجائے

ان پر تشدد اور انتقامی کاروائیوں سمیت یونیورسٹی کو بند کرنا بلاجواز ہے۔ بلاول

بھٹو زرداری نے کہا کہ سلیکٹڈ حکومت کا ہاضمہ اتنا خراب ہے کہ حق و سچ کی

چھوٹی سی بات سننا بھی برداشت نہیں ہوتی حقوق کے لیئے اٹھنے والی ہر آواز کو

جبر سے دبانا کٹھ پتلیوں کا وطیرہ بن چکا ہے پارلیمان کو ربڑ اسٹیمپ اور تعلیمی

اداروں کو انگوٹھاچھاپ پیدا کرنے والے کارخانے بنانا سلیکٹڈ حکومت کا مشن

ہے۔انہوں نے کہا کہ حکمران گذشتہ انتخابات سے پہلے کیئے گئے وعدے ایسے

بھول گئے، جیسے گدھے کے سر سے سینگ طلبہ کے مسائل حل نہ کرنے اور

تعلیمی ادارے بند کرنے سے کیا ملک ترقی کرے گا؟: بلاول بھٹو زرداری نے

مطالبہ کیا ہے کہ طلبہ کے جائز مطالبات فوراً تسلیم اور یونیورسٹی میں تدریسی

عمل بلاتاخیر بحال کیا جائے

اپنا تبصرہ بھیجیں