west-indian-cricket-team-s-arrival-proof-of-peace-in-pakistan-shahbaz-sharif-1522596159-7883

مہمند ڈیم ٹھیکہ سے متعلق پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے،شہباز شریف

Spread the love

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے مطالبہ کیا ہے کہ مہمند ڈیم کا ٹھیکہ دینا مفادات کا ٹکرائو ہے اس سے متعلق پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جائے،سنگل بڈ پر 309ارب روپے کا ٹھیکہ دینے کی بجائے دیگر آپشنز کی جانب جانا چاہیے تھا،اجلاس میں اراکین اسمبلی کے طرز عمل سے متعلق پارلیمانی اخلاقیات کمیٹی قائم کرنے کی تحریک اوربلوچستان کے قحط زدہ 18 اضلاع کو آفت زدہ قرار دینے کی قرارداد بھی متفقہ طور پر منظور کرلی گئی، وقفہ سوالات میں قومی اسمبلی کو بتایا گیا کہ گذشتہ مالی سال کے مقابلے میں ملکی برآمدات میں اضافہ ہوا ہے۔قومی اسمبلی کا اجلاس گزشتہ روزسپیکر اسد قیصر کے زیرصدارت شروع ہوا تو اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ گزارش ہے ڈیم کے معاملے پرسپیکر رولنگ دیں۔انہوں نے کہاکہ مجھے وزیراعظم کے مشیررزاق داؤد سے کوئی ذاتی مسئلہ نہیں لیکن عوام کا پیسا کہاں خرچ ہورہا ہے اس بارے عوام کوجاننے کاحق ہے۔ شہباز شریف نے کہاکہ سنگل بولی پیپرارولز کی روح کی خلاف ورزی ہے جبکہ موجودہ مشیرکی کمپنی کو ٹھیکہ ایوارڈ کرنا مفادات کا ٹکراؤ ہے، اس معاملے کے جائزہ کیلئے کمیٹی تشکیل دی جائے اور کمیٹی ایک ہفتے میں ایوان کو رپورٹ پیش کرے کہ سنگل بڈ پر 309 ارب کا ٹھیکہ کس طرح دیا گیا ۔ اپوزیشن لیڈر نے شکوہ کرتے ہوئے کہاکہ جمعرات کو اپنے خطاب کے دوران میں نے شکوہ کیا تھا مگر اس کے جواب میں گالی سننی پڑی جس پر سپیکر قومی اسمبلی نے کہاکہ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ایوان کے اندر کوئی بھی تضحیک آمیز گفتگو نہیں کرے گاحکومت اور اپوزیشن کے اراکین تہذیب کے دائرے میں رہ رہتے ہوئے تنقید کریں گے۔ اجلاس کے دوران قومی اسمبلی کے اراکین کے طرز عمل کی نگرانی کیلئے کمیٹی کے قیام کی تحریک بھی منظور کر لی گئی تحریک وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے پیش کی جس کے تحت کمیٹی ایوان کے اندر اور باہر اراکین کے طرز عمل کے بارے میں اپنی رپورٹ پیش کرکے سفارشات پیش کرے گی اور اسی طرح اراکین اسمبلی کی جانب سے ضابط اخلاق کی خلاف ورزی کے معاملات کا بھی جائزہ لے گی ،کمیٹی میں تمام سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی لیڈر شریک ہونگے۔اجلاس میں بلوچستان کے قحط زدہ 18 اضلاع کو آفت زدہ قرار دینے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی۔ وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے عالیہ کامران اور بلوچستان سے دیگر خواتین ارکان کی جانب سے یہ قرارداد ایوان میں پیش کی جس میں کہا گیا کہ بلوچستان میں حالیہ قحط اور خشک سالی کی وجہ سے وہاں کے عوام مشکلات کا شکار ہیں۔ لائیو سٹاک اور جانی نقصان ہو رہا ہے۔ فاقہ کشی اور پینے کا پانی دستیاب نہیں ہے اس لئے قحط سے متاثرہ 18 اضلاع کو آفت زدہ علاقہ قرار دیا جائے۔

Leave a Reply