0

مہر خلیل، بیٹی، اہلیہ اورذیشان کی لاشیں گھر پہنچنے پر کہرام، رقت آمیز مناظر، نماز جنازہ ادا، سپرد خاک

Spread the love

ساہیوال میں کاو¿نٹر ٹیرر ازم ڈیپارٹمنٹ سے جعلی مقابلے میں جاں بحق ہونےوالے چاروں افراد کی نماز جنازہ فیروز پورروڈ پر ادا کر دی گئی جبکہ مقتول مہر خلیل ،مقتولہ نبیلہ اور 12 سالہ معصوم اریبہ کو آہوں اور سسکیوں میں سپرد خاک کر دیا گیا، نماز جنازہ میں مرنےوالوں کے اہل خانہ ، رشتہ داروں، دوست احباب اور اہل علاقہ سمیت ہزاروں افراد نے شرکت کی ، اس موقع پر پولیس کی جانب سے سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے اور نماز جنازہ کے مقام کی جانب آنےوالے تمام راستوں کو بند رکھا گیا۔اس سے پہلے جاں بحق ہونے والے چار افراد کی لاشیں گھروںمیں پہنچنے پر کہرام مچ گیا ، اہل خانہ ، رشتہ دار اورمحلے دار دھاڑیں مار مار کر روتے رہے جس کی وجہ سے انتہائی رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے، دو خواتین غم سے نڈھال ہو کر بیہوش بھی ہو گئیں۔اس موقع پر خواتین پولیس اہلکاروں کی جھولیاں اٹھا اٹھا کر بددعائیں دیتی رہیں ۔ سانحہ ساہیوال میں سی ٹی ڈی کے ہاتھوں مارے جانے والے ذیشان کے اہلخانہ نے نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد ایک بار پھر فیروز پور روڈ پر دھرنا دےدیا،ذیشان کے اہلخانہ کا کہنا تھا ذیشان کو دہشتگرد قرار دے کر ہمارے زخموں پر نمک چھڑکا جارہا ہے، انصاف ملنے تک تدفین نہیں کریں گے۔ ذیشان کے اہلخانہ نے کہا کہ ذیشان پر عائد کیا گیا دہشتگردی کا الزام واپس لیا جائے اور دہشتگردی کا الزام عائد کرنے والے وزیر قانون راجہ بشارت فوری استعفیٰ دیں۔ ورثا نے مطالبہ کیا کہ چیف جسٹس آف پاکستان واقعہ کا از خود نوٹس لیں۔تاہم رات گئے دھرنا ختم اور ذیشان کو بھی سپرد خاک کردیا گیا۔

Leave a Reply