شہنشاہ غزل مہدی حسن اور لیجنڈری اداکارہ صبیحہ خانم کو خراجِ تحسین

شہنشاہ غزل مہدی حسن اور لیجنڈری اداکارہ صبیحہ خانم کو خراجِ تحسین

Spread the love

کراچی، لاہو (جے ٹی این آن لائن شوبز نیوز) مہدی حسن صبیحہ خانم

شہنشاہ غزل مہدی حسن خان کو مداحوں سے بچھڑے 9 سال جبکہ پاکستان فلم

انڈسٹری کے سنہرے دور کی بڑی فنکارہ صبیحہ خانم کو بچھڑے ایک سال گزر

گیا، لیکن مرحوم مہدی حسن کے گائے ہوئے گیتوں، غزلوں کی تازگی جبکہ

صبیحہ خانم کی لاجواب اداکاری اور مقبولیت آج بھی برقرار ہے۔ شوبز دنیا کی

دونوں شخصیات کی برسیوں کے موقع پر شوبز انڈسٹری اور مداحوں نے ایصال

ثواب کیلئے عدائیہ تقریبات کا انعقاد کیا اور خدمات پر خراج تحسین پیش کیا-

=–= شوبز کی دنیا سے متعلق مزید خبریں ( =–= پڑھیں =–= )

تفصیلات کے مطابق مہدی حسن 18 جولائی 1927ء کو بھارتی ریاست راجستھان

کے علاقے لونا میں موسیقی سے شغف رکھنے والے گھرانے میں پیدا ہوئے، یہی

وجہ تھی کہ انہیں بچپن سے ہی گلوکاری کا شوق تھا۔ انہوں نے اپنے والد استاد

عظیم خان سے موسیقی و گلوکاری کے تمام رنگ سیکھے اور پہلی مرتبہ 1956ء

میں ریڈیو پاکستان میں گلوکاری کے جو ہر دکھائے۔ شہنشاہ غزل نے پہلی مرتبہ

فلم شکار کا ایک گانا نظر ملتے ہی دل کی بات کا چرچا نہ ہوجائیگا یا جس سے

خوب داد سمیٹی۔ بعد ازاں انہوں نے گیتوں کیساتھ 1964ء میں غزلیں گانا شروع

کیں اور پہلی بار معروف اردو شاعر فیض احمد فیض کی غزل گلوں میں رنگ

بھرے میں اپنی سریلی آواز شامل کی۔ مہدی حسن نے 25 ہزارسے زائد فلمی گیت

اورغزلیں گائیں۔

=-.-= مہدی حسن کئی بھارتی گلوکاروں کے بھی گُرو رہے

مہدی حسن کی مقبول غزلوں میں رنجش ہی سہی، ایک بس تو ہی نہیں، یوں زندگی

کی راہ میں، کیسے چھپاں راز غم، دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے، آج تک یاد ہے وہ

پیار کا منظر اور دیگر شامل ہیں۔ مہدی حسن کو موسیقی کی خدمات پر کئی

اعزازات سے نوازا گیا، انہوں نے بھارت کے بھی کئی مقبول گلوکاروں کو

موسیقی کے گر سکھائے۔ فن موسیقی میں نمایاں کارکردگی پر حکومت کی جانب

سے مہدی حسن کو صدارتی تمغہ امتیاز اور ہلال پاکستان کے اعزاز سے بھی

نوازا گیا۔ مہدی حسن شدید علالت کے باعث 13 جون 2012ء کو دنیائے فانی سے

کوچ کر گئے لیکن ان کی سریلی آواز مداحوں کے کانوں میں آج بھی ان کی یادیں

تازہ رکھتی ہے۔

=-.-= صبیحہ خانم فلم انڈسٹری کی خاتون اول قرار پائیں

پاکستان فلم انڈسٹری کے سنہرے دور کی بڑی فنکارہ صبیحہ خانم نے فلمی سفر کا

آغاز فلم بیلی سے کیا، پھر لالی ووڈ میں چار دہائیوں تک راج کیا، پاکستانی سینما

کی خاتون اول قرار پانے والی صبیحہ خانم فلم انڈسٹری کے ان مقبول ترین ناموں

میں سے تھیں جنھوں نے نہ صرف اپنی اداکاری سے لوگوں کے دل موہ لیے بلکہ

انھیں 6 بار نگار ایوارڈز کیساتھ صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے بھی

نوازا گیا۔ فلم انڈسٹری کی پہلی سپر سٹار صبیحہ خانم کا اصل نام مختار بیگم تھا،

وہ 1935ء میں گجرات میں پیدا ہوئیں، فلمی کیریئر کا آغاز بیلی سے کیا، 1954ء

میں ریلیز ہونے والی فلم گمنام سے ان کی شہرت کو چار چاند لگ گئے۔ صبیحہ

خانم نے نامور اداکار سنتوش کمار کیساتھ 47 فلموں میں کام کیا، فلم حسرت کے

دوران دونوں شادی کے پاکیزہ بندھن میں بندھ گئے۔

=-= قارئین کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

صبیحہ خانم کی کامیاب ترین فلموں میں سات لاکھ، دو آنسو، گمنام، دلا بھٹی،

سرفروش، مکھڑا، دیور بھابھی، حسرت اور دامن نے انہیں پاکستان کی کامیاب

ترین ہیروئن بنا دیا۔ خوبرو فنکارہ نے اپنی اداکاری کے جوہر 80 اور 90 کی دہائی

میں بھی دکھائے، فنی خدمات پر 6 بار نگار ایوارڈ کے ساتھ صدارتی تمغہ برائے

حسن کارکردگی سے بھی نوازا گیا۔ صبیحہ خانم آخری ایام میں بلڈ پریشر اور

شوگر سمیت کئی بیماریوں میں مبتلا ہو گئی تھیں اور طویل علالت کے بعد 13

جون 2020ء کو خالق حقیقی سے جا ملیں لیکن لیجنڈری اداکارہ کی پاکستان فلم

انڈسٹری کیلئے خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

مہدی حسن صبیحہ خانم ، مہدی حسن صبیحہ خانم

Leave a Reply