new zara meri bhi suno2

ٹرمپ انتظامیہ نے ” مک کارتھی عہد کے خاتمہ” کی یاد دلا دی، امریکی سکالر

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

واشنگٹن(جے ٹی این آن لائن خصوصی رپورٹ) مک کارتھی عہد خاتمہ

کولمبیا یونیورسٹی میں سینٹر فار پائیدار ترقی کے ڈائریکٹر، پروفیسر جیفری ڈی ساکس نے خبردار کیا ہے کہ، غیر محتاط جھوٹ اور نوول کرونا وائرس کی وباء کا چین پر الزام لگانا، دنیا کو تنازعات کی طرف دھکیل سکتا ہے۔

——————————————————————————-
یہ بھی پڑھیں : ایل سلواڈور کے صدر کی چونکا دینے والی پیشگوئی
——————————————————————————-

معروف امریکی اخبار کی جانب سے شائع کردہ ایک مضمون میں، امریکی سکالر نے وائٹ ہاؤس انتظامیہ کے اس بڑے جھوٹ کو عیاں کیا ہے کہ، چین امریکہ کی پریشانیوں کا سبب ہے۔

امریکی دائیں بازو کی فورسز نے یہاں تک دعویٰ کیا کہ نوول کرونا وائرس کی وباء، ایک چینی لیبارٹری سے حادثاتی طور پر باہر نکلنے کا نتیجہ ہے، اور چین کی جانب سے اس پر پردہ ڈالنے کی وجہ سے ایک موثر عالمی ردعمل کو روکا گیا۔ تاہم دنیا بھر کے سائنسدانوں اور ماہرین نے اس طرح کے دعوں کو مسترد کردیا ہے۔

——————————————————————————
دوستو : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر کریں، فالو کریں اپڈیٹ رہیں
——————————————————————————

امریکی اخبار “سی این این” کے مطابق یہاں تک کہ، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وبائی امراض کے اعلی ماہر انتھونی فاچی اور دی فوئیو آئز، خفیہ ایجنسیوں کے نتائج نے بھی اس دعوے کو مسترد کردیا ہے۔

ساکس نے اس طرح کے الزامات کو غیر محتاط اور خطرناک قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ، وہ اسی طرح دنیا کو تنازعات کی طرف دھکیل سکتے ہیں، جس طرح 2003ء میں عراق میں، بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے بارے میں جارج ڈبلیو بش انتظامیہ، کے جھوٹ نے امریکہ کو جنگ کی طرف دھکیل دیا تھا۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کی ثبوت کی رٹ

کرونا وائرس کی قدرتی ابتداء کی نشاندہی کرنیوالے سائنسی نتائج اور تجزیوں کے باوجود، امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو بھی کئی مرتبہ زور دے کر کہتے چلے آ رہے ہیں کہ، اس بات کے کافی ثبوت موجود ہیں کہ، کرونا وائرس ووہان کی تجربہ گاہ سے آیا ہے۔

سینیٹر جوزف مکارتھی نے امریکیوں میں خوف و ہراس پھیلایا تھا

پروفیسر جیفری ڈی ساکس نے لکھا کہ، اس صورتحال نے ملک کو “مک کارتھی عہد کے خاتمہ” کی یاد دلادی ہے، جب سینیٹر جوزف مکارتھی نے امریکیوں میں خوف و ہراس پھیلا کر، انہیں ڈرانے کیلئے جھوٹ اور نامعلوم الفاظ استعمال کئے۔

اپنے مضمون میں ساکس نے مزید لکھا ہے کہ، ایک لیبارٹری سے وائرس کے نکلنے کے دعویٰ کے علاوہ امریکی انتظامیہ اور دائیں بازو کا میڈیا، یہ بھی الزام لگاتا ہے کہ، چین نے عام طور پر ہفتوں تک اس وباء کو چھپایا ہے۔

31 دسمبر 2019ء کو چین نے عالمی ادارہ صحت کو آگاہ کیا

انہوں نے یاد دلایا کہ چین کے وسطی صوبہ ہوبے میں، ووہان سنٹر برائے تدارک و کنٹرول امراض نے، نامعلوم وجہ سے نمونیا کے کیسز کی تشخیص کے صرف چند دن بعد، ووہان کے محکمہ صحت کے حکام نے 31 دسمبر 2019ء کو چین میں عالمی ادارہ صحت کے دفتر کو آگاہ کیا۔

چین کے اداراہ صحت نے 3 جنوری 2020ء کو امریکہ سے بات کی۔

جینوم کی ساخت کو یکساں طور پر ترتیب دیا گیا، اور 12 جنوری کو آن لائن شائع کیا گیا، 23 جنوری کو ووہان میں لاک ڈان کیا گیا۔

کسی نئی بیماری کے بارے میں ابتدائی الجھن کو دیکھتے ہوئے، یہ ایک تیز رفتار ٹائم لائن ہے۔ چین کیخلاف دائیں بازو کے الزامات کا کوئی فائدہ نہیں۔

پروفیسر کے بقول وباء کے حوالے سے ٹرمپ کی مایوس کن ناکامی کی اصل بات یہ ہے کہ، 30 جنوری تک جب ڈبلیو ایچ او نے، عالمی سطح پر صحت عامہ کی ہنگامی صورتحال کا اعلان کیا تھا-

——————————————————————————–
یہ بھی ضرور پڑھیں : کرونا کا علاج مڈغاسکر ہربل چائے، صدر ایندرے رجولین
——————————————————————————–

اُس وقت امریکہ میں کوویڈ-19 سے کوئی موت نہیں ہوئی تھی۔ اب امریکہ میں 71 ہزار سے زیادہ اموات ہوچکی ہیں، جو ہمارے لئے بہت زیادہ انتباہ ہیں-

مک کارتھی عہد خاتمہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply