مولانا کلیم صدیقی گرفتاری

مولانا کلیم صدیقی کی گرفتاری بھارتی آئین کی پامالی ہے’مسلم تنظیموں کا سخت ردعمل

Spread the love

مولانا کلیم صدیقی گرفتاری

اترپردیش (جے ٹی این آن لائن نیوز) مولانا کلیم صدیقی وہ نویں شخص ہیں جنہیں اتر پردیش

پولیس نے مبینہ تبدیلی مذہب ایکٹ کے تحت گرفتار کیا ہے۔اسے آئندہ اسمبلی انتخابات میں کامیابی

حاصل کرنے کے لیے حکمران بی جے پی کا ایک اور ‘آزمودہ حربہ’ قرار دیا جا رہا ہے۔اترپردیش

کی یوگی ادیتیہ ناتھ حکومت کے انسداد دہشت گردی اسکواڈ (اے ٹی ایس) کے ذریعہ عالمی شہرت

یافتہ بھارتی مبلغ مولانا کلیم صدیقی کو گرفتار کیے جانے پر بھارت میں بیشتر مسلم تنظیموں نے

سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ تاہم ان کی گرفتاری پر سیکولر سیاسی جماعتوں کی جانب سے مکمل

خاموشی پر سوالات بھی اٹھائے جارہے ہیں۔مولانا کلیم صدیقی کواترپردیش کے شہر میرٹھ سے اپنے

گاوں پھلت جاتے ہوئے یوپی پولیس نے تبدیلی مذہب مخالف قانون کے تحت گرفتار کیا۔بعد میں ایک

عدالت نے انہیں 14دنوں کے لیے پولیس تحویل میں دے دیا۔ اسی قانون کے تحت گزشتہ جون میں

بھارتی مبلغ عمر گوتم اور ان کے ایک ساتھی مفتی جہانگیر قاسمی کو بھی گرفتار کیاگیا تھا، وہ اب

بھی جیل میں ہیں۔مولانا کلیم صدیقی کی گرفتاری پر مسلم تنظیموں نے سخت ردعمل کااظہار کرتے

ہوئے اسے بھارتی آئین اور قوانین کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔مولانا کلیم صدیقی عالمی شہرت

یافتہ بھارتی مبلغ ہیں۔ 68 سالہ کلیم صدیقی گلوبل پیس سینٹر اور جامعہ امام ولی اللہ ٹرسٹ کے صدر

بھی ہیں۔وہ بنیادی طورپر سائنس کے طالب علم رہے ہیں۔ انہوں نے بھارت میں میڈیکل کالجوں کے

لیے داخلہ جاتی امتحان میں 75واں رینک حاصل کیا تھا لیکن طب میں اپنا کیریئر بنانے کے

بجائے دعوت و تبلیغ کو اپنا میدان کار بنایا۔ بھارت اور بیرون ملک میں ان کے لاکھوں عقیدت مند ہیں۔

بھارتی مسلمانوں کی مذہبی اور سماجی تنظیموں کے وفاق آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے صدر نوید

حامد نے ڈی ڈبلیو اردو کے ساتھ با ت چیت کرتے ہوئے کہا کہ اترپردیش کی یوگی حکومت نے

مولانا کلیم صدیقی کو گرفتار کرکے ایک ساتھ کئی پیغامات دیے ہیں: ”ایک پیغام تو یہ ہے کہ بھارتی

آئین نے شہریوں کو آزادی، مذہب کو ماننے اور اس کی تبلیغ و اشاعت کی خواہ جتنی بھی اجازت دے

رکھی ہو، موجودہ حکومت کے فیک ایجنڈے کے تحت کم از کم مسلمانوں کو تو اس کی اجازت نہیں

ہے۔ انہوں نے کہا کہ دراصل بھارتی آئین کو بری طرح سے پامال کیا جارہا ہے۔یہ دنیا کی واحد

حکومت ہے جو اکثریتی طبقے کے اندر اقلیت کے تعلق سے خوف و ہراس پیدا کرکے اقتدار میں رہنا

چاہتی ہے۔وہ اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے مسلمانوں کے خلاف ہر طرح کا زہریلا پروپیگنڈا

کرسکتی ہے تاکہ برادران وطن میں خوف و ہراس پیدا ہو۔طلبہ تنظیم اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن

آف انڈیا نے بھی مولانا کلیم صدیقی کی گرفتاری کو یوپی انتخابات سے قبل فرقہ وارانہ منافرت کو ہوا

دینے کی کوشش قرا ردیا۔متعدد مسلم سیاسی رہنماؤں نے بھی مولانا کلیم صدیقی کی گرفتاری کی

مذمت کی ہے۔دہلی اقلیتی کمیشن کے سابق چیئرمین ڈاکٹر ظفر الاسلام خان نے مولانا صدیقی کی

گرفتاری کو سیاسی داؤ پیچ قراردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے آئین کے مطابق تمام لوگوں کو

اپنے مذہب پر عمل پیرا ہونے اور اس کی تعلیمات کو عام کرنے کا حق ہے اور مولانا پر تبدیلی مذہب

کے جو الزامات لگائے گئے ہیں وہ سراسر غلط ہیں۔اترپردیش کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل پولیس (امن

و قانون) پرشانت کمار نے دعویٰ کیا کہ مولانا صدیقی کا بھارت کے سب سے بڑے ”غیر قانونی”

تبدیلی مذہب کے ریکٹ سے براہ راست تعلق ہے۔مولانا صدیقی جامعہ امام ولی اللہ کے نام سے ایک

ٹرسٹ چلاتے ہیں جس کا مقصد سماجی ہم آہنگی پیدا کرنا اور مذہب تبدیل کر کے مسلمان ہونے والوں

کو ایک ساتھ جوڑنا ہے۔

مولانا کلیم صدیقی گرفتاری

ستاروں کا مکمل احوال جاننے کیلئے وزٹ کریں ….. ( جتن آن لائن کُنڈلی )
قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply