موسیقار واجد علی نشاد کی 13 ویں برسی، طارق عزیز کو بچھڑے ہوا ایک سال

موسیقار واجد علی نشاد کی 13 ویں برسی، طارق عزیز کو بچھڑے ہوا ایک سال

Spread the love

لاہور(جے ٹی این آن لائن شوبز نیوز) موسیقار واجد علی نشاد

موسیقار واجد علی نشاد کی 13ویں برسی آج منائی جا رہی ہے، جبکہ پاکستان

ریڈیو، ٹیلی ویژن، فلم، صحافت، ادب و سیاست کے معروف نام اور پاکستان کے

مقبول ترین گیم شو نیلام گھر کا آغاز کرنے والے طارق عزیز کو دنیا چھوڑے

ایک برس بیت گیا۔ تفصیلات کے مطابق واجد علی نشاد 1953ء کو بھارتی شہر

ممبئی میں معروف موسیقار نشاد کے گھر پیدا ہوئے۔ 1964ء میں انکا خاندان

ممبئی سے پاکستان منتقل ہو گیا۔ واجد علی نشاد نے گورنمنٹ کالج لاہور سے

گریجویشن مکمل کی۔ انہوں نے 50 سے زائد فلموں کیلئے موسیقی ترتیب دی،

انکی ترتیب دی گئی دھنیں آج بھی مقبول ہیں وہ 18 جون 2008ء کو جہان فانی

سے کوچ کر گئے۔

=–= شوبز و ادبی دنیا سے متعلق مزید خبریں ( =–= پڑھیں =–= )

دیکھتی آنکھوں، سنتے کانوں کو سلام متعارف کرانے والے طارق عزیز 28 اپریل

1936ء کو جالندھر میں پیدا ہوئے، طارق عزیز کے والدین نے1947ء میں پاکستان

ہجرت کی، طارق عزیزنے ابتدائی تعلیم ساہیوال میں حاصل کرنے کے بعد ریڈیو

پاکستان لاہور سے کیرئیرکا آغاز کیا۔ 26 نومبر 1964ء میں پاکستان ٹیلی ویژن

کے آغاز کے بعد سب سے پہلا میل اناﺅنسر ہونے کا اعزاز طارق عزیز کے

حصے میں ہی آیا۔ پاکستان کا مقبول ترین گیم شو نیلام گھر شروع کرنے کا سہرا

بھی انہی کے سر ہے جسے 1975ء میں شروع کیے جانے کے بعد برسوں جاری

رکھا گیا، جسے بعدازاں طارق عزیز شو اور بزمِ طارق کا نام دے دیا گیا۔ نیلام گھر

سے ان کا ایک منفرد جملہ دیکھتی آنکھوں سنتے کانوں آپ کو طارق عزیز کا

سلام پہنچے انتہائی مقبول ہوا۔

=-.-= طارق عزیز سیاست میں سرگرم رہے، رکن قومی اسمبلی بھی بنے

طارق عزیز نے بڑی سکرین پر بھی صلاحیتوں کے خوب جوہردکھائے۔ 1968ء

سے 1988ء تک 20 سال کے عرصہ میں طارق عزیز نے 42 فلموں میں کام کیا،

انکی 33 فلمیں اردو اور باقی پنجابی زبان میں تھیں۔ ان سب کیساتھ ساتھ طارق

عزیز سیاست میں بھی سرگرم رہے اور قومی اسمبلی کے ممبر بھی بنے۔ 1992ء

میں انہیں تمغہ حسن کارکردگی سے نوازا گیا۔ شوگر کے مرض میں مبتلا طارق

عزیز 17 جون 2020ء کو طبعیت خراب ہونے پر انتقال کر گئے۔

=-.-= طارق عزیز والد قیام پاکستان سے قبل نام کیساتھ پاکستانی لکھتے تھے

نامور میزبان، صداکار، اداکار، شاعر، ادیب طارق عزیز کی پہلی برسی گزشتہ

روز منائی گئی۔ لیجنڈ طارق عزیز کے والد گرامی کا م میاں عبد العزیز تھا جن

کی پاکستان سے والہانہ محبت اور لگاﺅ کا یہ عالم تھا کہ وہ پاکستان بننے سے

پہلے ہی اپنے نام کیساتھ پاکستانی لکھتے تھے، پاکستان آ کر میاں عبدالعزیز نے

ساہیوال میں سکونت اختیار کی اور وہیں سے اپنا ایک اخبار نکالا، جہاں منیر

نیازی اور مجید امجد سمیت کئی بڑے شعراء کا آنا جانا ہوتا اور اسی توسط سے

طارق عزیز بھی ان سے خاصا شغف رکھنے لگے۔ طارق عزیز کا بچپن ساہیوال

میں گزارا۔ بعدازاں شعر و ادب اور ابلاغ سے جبلی لگاﺅ مستقبل کے لیجنڈ کو

لاہور کھینچ لایا، جہاں انہوں نے ریڈیو پاکستان سے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز

کیا، کچھ ہی عرصہ میں ان کی صدا کاری کی ہر طرف دھوم مچ گئی-

=-= قارئین کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

طارق عزیز ہمہ جہت شخصیت کے حامل اور صاحب کمال تھے۔ انہوں نے ریڈیو

اور ٹی وی کے پروگراموں کے علاوہ فلموں میں بھی اداکاری کی۔ ان کی سب

سے پہلی فلم انسانیت تھی جس میں انہوں نے چاکلیٹ ہیرو وحید مراد اور زیبا کے

ساتھ کام کیا۔ ان کی دیگر مشہور فلموں میں سالگرہ، قسم اس وقت کی، کٹاری،

چراغ کہاں روشنی کہاں، ہار گیا انسان قابل ذکر ہیں۔ سالگرہ طارق عزیز کی وہ

کامیاب ترین فلم تھی جسے 1969ء میں نگار ایوارڈ سے نوازا گیا۔ انہیں ان کی فنی

خدمات پر بہت سے ایوارڈز سے بھی نوازا گیا-

موسیقار واجد علی نشاد

Leave a Reply