199

مودی کشمیر میں ریاستی دہشت گردی کا تخلیق کار، مقبوضہ وادی میں 80لاکھ عیسائی یا یہودی محصورہوتے تو کیا عالمی برادری کا ردعمل ایسا ہی ہوتا ؟عمران خان

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مسلمانوں کے

حقوق کی بات پر دنیا اسلامی دہشت گردی کا نام لے کر جان چھڑاتی ہے، کشمیر

کے 80 لاکھ افراد کی جگہ 80 لاکھ یورپی، عیسائی یا یہودی ہوتے تو عالمی

برادری کا رد عمل کیا ایسا ہی ہوتا؟،مقبوضہ وادی میں لاک ڈا ون صرف اس لیے

ہے کہ وہاں مسلمان ہیں،مقبوضہ وادی میں ہندو کشمیریوں کو لاک ڈا ون کا سامنا

نہیں، دنیا کو بتانا ہے کشمیر میں جانور نہیں انسان بستے ہیں، مقبوضہ وادی میں

ریاستی دہشت گردی کا تخلیق کار مودی ہے۔تفصیلات کے مطابق نیویارک میں

وزیر اعظم عمران خان نے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی )رابطہ گروپ برائے

کشمیر کے وفد کے سربراہان کے اعزاز میں عشائیہ دیا۔وزیر اعظم نے عشائیے

سے خطاب بھی کیا، اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ مسلم ممالک کے لیے اہم

وقت ہے، ایسا کبھی نہیں ہوا کہ 80 لاکھ لوگ غیر قانونی طور پر قید کر دیے

گئے، بھارت نے غیر آئینی طور پر 51 دن سے مقبوضہ وادی میں کرفیو لگا رکھا

ہے۔عمران خان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ وادی میں لاک ڈا ون صرف اس لیے ہے کہ

وہاں مسلمان ہیں، مقبوضہ وادی میں ہندو کشمیریوں کو لاک ڈا ون کا سامنا نہیں۔

مسئلہ کشمیر پر عالمی برادری سے جیسی توقعات تھیں ویسا ردعمل نہیں آیا۔ یہ

80 لاکھ یورپی، عیسائی یا یہودی ہوتے تو عالمی برادری کا رد عمل ایسا ہوتا؟

انہوں نے کہا کہ بھارت جو مقبوضہ وادی میں کر رہا ہے 21 صدی میں ایسی

بکواس کہیں نہیں، مسلمانوں کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر دنیا خاموش

رہتی ہے۔ مسلمانوں کے حقوق کی بات پر دنیا اسلامی دہشت گردی کا نام لے کر

جان چھڑاتی ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ آج کی ملاقات کا مقصد مسئلہ کشمیر پر

مسلم ممالک کے مشترکہ پلان کی تشکیل ہے، 80 لاکھ کشمیریوں کے ساتھ کھڑا

ہونے کے لیے مشترکہ حکمت عملی بنانا ہوگی۔ عالمی برادری کو کشمیریوں کو

درپیش مصائب سے متعلق سمجھانا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کے ہمراہ ایک

کانفرنس میں شرکت کے دوران خطاب میں ترک صدر طیب اردوان نے مقبوضہ

کشمیر کی صورتحال پر انتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہاں

خونریزی کا خدشہ ہے۔ اقوام متحدہ میں ’’نفرت انگیز گفتگو‘‘ سے نمٹنے کے

حوالے سے منعقدہ کانفرنس میں پاکستانی وزیراعظم عمران خان کے ہمراہ ترک

صدر نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر اپنے خطاب میں طیب اردوان کا کہنا تھا کہ

پوری دنیا میں مسلمان نفرت انگیز تقاریر سے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ بھارت میں

گائے کا گوشت کھانے پر مسلمانوں کو قتل کر دیا جاتا ہے۔رجب طیب اردوان نے

کہا کہ انسانیت کے خلاف جرائم سے پہلے نفرت انگیز تقاریر جنم لیتی ہیں۔ پوری

دنیا میں مسلمان نفرت انگیز تقاریر کا آسان ہدف ہیں۔ترک صدر مقبوضہ کشمیر کی

صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پوری وادی جیل کی شکل اختیار کر چکی

ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں خون ریزی کا خدشہ ہے۔اس موقع پر وزیراعظم عمران

خان نے نفرت انگیز تقاریر اور اسلاموفوبیا کے خلاف موثر اقدامات پر زور دیا

اور کہا کہ امتیازی سلوک اور مذہب پر مبنی تشدد کے واقعات بڑھ رہے ہیں۔ مذہب

کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ان

کی وجوہات کا حل نکالنا ہوگا پاکستان اور ترکی اس گول میز مباحثہ کی مشترکہ

میزبانی کر رہے تھے۔ وزیراعظم عمران خان نے نفرت انگیز تقاریر اور اسلامو

فوبیا کے خلاف موثر اقدامات پر زور دیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ

امتیازی سلوک، مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر تشدد کے واقعات میں اضافہ ہو رہا

ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ان دونوں مسائل سے نمٹنے کے لئے ان کی وجوہات کا

حل نکالنا ہوگا۔ انہوں نے آزادی ء اظہار رائے کے نام پر مقدس ہستیوں کے خاکے

بنانے کی ناپاک جسارتوں کے حوالے سے خبردار کیا کہ کسی بھی کمیونٹی کے

جذبات کو مجروح کرنے سے انتہاء پسندی جنم لیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذہب کا

دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں۔ ترک صدر نے کہاکہ انسانیت کے خلاف جرائم

سے پہلے نفرت انگیز تقاریر جنم لیتی ہیں۔ طیب اردوان نے کہاکہ پوری دنیا میں

مسلمان نفرت انگیز تقاریر کا آسان ہدف ہیں۔ انہوںنے کہاکہ بھارت میں گائے کا

گوشت کھانے پر مسلمانوں کو زندہ جلایا جارہا ہے۔انہوںنے کہاکہ پورا مقبوضہ

کشمیر جیل کی شکل اختیار کرچکا ہے، مقبوضہ کشمیر میں خون ریزی کا خدشہ

ہے۔وزیر اعظم عمران خان نے کہاہے کہ پاکستان افغانستان میں امن چاہتا ہے

،بھارت مقبوضہ کشمیرمیں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے انہوں

نے اخبار نیو یارک ٹایمز کے اداریاتی بورڈ سے گفتگو کی اور بھارت کے غیر

قانونی اور یکطرفہ جموں و کشمیر پر تسلط اور وہاں ہونے والی انسانی حقوق کی

خلاف ورزیوں کے بارے آگاہ کیا۔ وزیر اعظم نے کہاکہ پاکستان افغانستان میں امن

چاہتا ہے۔عمران خان نے کہاکہ یہاں اس لئے آیا ہوں کہ دنیا کو باور کراؤں کے

ہندوستان بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں