yasin-malik-chairman-jklf

مودی سرکار حریت رہنماء یاسین ملک کو شہید کرنے کا فیصلہ کر چکی؟

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سرینگر(جے ٹی این آن لائن خصوصی رپورٹ) مودی سرکار یاسین ملک

مقبوضہ کشمیر میں جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے نظربند چیئرمین محمد یاسین ملک کے اہلخانہ اور انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کشمیری حریت رہنماء یاسین ملک کو، ان کے خلاف دائر مقدمہ میں انصاف پر مبنی سماعت سے محروم رکھنے سے خدشہ ہے، بھارت کی مودی سرکار حریت رہنماء سے متعلق مزموم عزائم رکھتی ہے، اور انہیں جھوٹے مقدمے میں تختہ دار پر لٹکا کر رتبہ شہادت پر فائز کرنا چاہتی ہے-

…………………………………………………………………………………………….
یہ بھی پڑھیئے: حریت رہنماﺅں کی جائیدادوں سے متعلق بھارتی رپورٹ بے بنیاد
…………………………………………………………………………………………….

رپورٹ کے مطابق یاسین ملک کے اہل خانہ نے ایک غیر ملکی ٹی وی چینل کو بتایا ہے، کہ قتل کے30 سال پرانے، اور جھوٹے مقدمے کو دوبارہ کھولنے اور تیزی سے اس کی سماعت سے، بھارتی قابض انتظامیہ کے خطرناک مذموم عزائم ظاہر ہوتے ہیں۔ مقدمے میں حریت رہنماء یاسین ملک کی پیروی کرنے والے وکیل طفیل راجہ کے مطابق، لبریشن فرنٹ کے چیئرمین کےخلاف جھوٹے مقدمے دائر کئے گئے ہیں، تاہم وہ کسی قسم کے دباو میں ہرگز نہیں آئیں گے۔

دفاع کا حق نہ دیا جانا پورے عمل پر سوالیہ نشان

انسانی حقوق کے معروف علمبردار اورجموں وکشمیر کولیشن آف سول سوسائٹی کے سربراہ، خرم پرویز نے کہا ہے کہ مقدمے کی منصفانہ سماعت کا حق عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہے۔ انہوں نے کہا اگر آپ کےخلاف اچانک دہائیوں پرانا مقدمہ دوبارہ کھول دیا جاتا ہے، اور آپ کو دفاع کا حق نہیں دیا جاتا، تو یقیناََ اس پورے عمل پر سوالیہ نشان لگ جائے گا۔

مقدمے کی سماعت سے لگتا ہےتاریخ دوہرائی جا رہی ہے

آزاد کشمیرکے ایک محقق فیضان بٹ کا اس ضمن میں کہنا ہے، کہ جب کشمیری سیاسی نظربندوں کی بات آتی ہے، تو بھارتی ریاست کے علاوہ عدلیہ بھی تمام اصولوں، اور قوانین کو بالائے طاق رکھ دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح یاسین ملک کے خلاف مقدمے کی تیزی سے سماعت کی جارہی ہے، اس سے یہ شکوک و شبہات جنم لیتے ہیں، کہ تاریخ خود کو دوہرانے جارہی ہے۔

یاسین ملک کے عدالتی قتل کے بارے میں قیاس آرائیاں حقیقت

سابق بھارتی سفارتکار وجاہت حبیب اللہ نے، جو 1990ء کی دہائی میں فوجی اور خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں کے ہمراہ، یاسین ملک سے متعد د بار ملاقاتیں کر چکے ہیں، یاسین ملک کے عدالتی قتل کے بارے میں قیاس آرائیوں کو تسلیم کیا ہے۔ ادھر بھارتی خفیہ ایجنسی “را” کے سابق سربراہ اے ایس دلت نے کہا ہے، کہ وہ یاسین ملک کو پھانسی پر چڑھانے کے بارے میں، قیاس آرائیوں پر کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتے، تاہم اگر انہیں ایک پرانے مقدمے میں پھانسی دی جاتی ہے تو یہ بہت افسوسناک ہوگا۔

بھارتی فضائیہ کے 4 افسروں کے قتل کا مقدمہ 1990ء میں درج کیا گیا

یاد رہے بھارتی حکومت نے کالعدم لبریشن فرنٹ کے چیئرمین، کو دہائیوں پرانے جھوٹے مقدمے میں، نئی دلی کی بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں نظربند کر رکھا ہے۔گزشتہ سال اپریل میں بھارتی تحقیقاتی ادارے این آئی اے، نے یاسین ملک کو جب گرفتار کیا، تو وہ پہلے ہی کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ، کے تحت مقبوضہ کشمیر کی ایک جیل میں نظربند تھے۔ ان کےخلاف 1990ء میں بھارتی فضائیہ کے چار افسروں کے قتل کا مقدمہ درج کیا گیا تھا-

سماعت جموں کی ٹاڈا جیل میں سُرعت سے جاری

اس جھوٹے مقدمے کی سماعت جموں کی ٹاڈا عدالت میں جاری ہے، اور سی بی آئی مقدمے کی پیروی کر رہی ہے۔ یاسین ملک کے خلاف متعدد مقدمات کی تیزی سے سماعت سے خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ بھارت کی مودی سرکارنے پہلے ہی ان کی سزائے موت کا فیصلہ کر رکھا ہے۔

ہمیں سوشل میڈیا پر فالو کرنے کیلئے کلک کریں: جے ٹی این آن لائن

مودی سرکار یاسین ملک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply