مودی سرکار اپنی ہی لگائی ہوئی آگ میں جلنا شروع،متنازع شہریت قانون کیخلاف پْرتشدد مظاہرے جاری، 14 افراد ہلاک

نیو دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک)بھارت میں متنازع شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج مزید شدت

اختیار کر گیا جہاں مشتعل مظاہرین پر پولیس کے تشدد اور فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں

کی تعداد 14 ہو گئی ہے۔ھارت کے اکثر بڑے شہروں میں مظاہروں پر پابندی عائد کردی گئی ہے جہاں

متنازع قانون کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں اب تک 14 افراد ہلاک اور 1200 سے زائد افراد

کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

ھارت بھر میں متنازع شہریت قانون کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے جہاں

درالحکومت دہلی میں نماز جمعہ کے بعد تاریخی جامع مسجد میں مظاہرے کیے گئے جس میں

مسلمانوں کے ساتھ ساتھ ہندوؤں سمیت دیگر مذاہب کے افراد بھی شریک ہوئے۔دہلی میں احتجاج پرامن

انداز میں شروع ہوا جس کے بعد پولیس نے پارلیمنٹ جانے والے 100 سے زائد مظاہرین کو آگے

بڑھنے سے روک کر ان پر لاٹھی چارج کیا۔نماز جمعہ کے بعد ہزاروں مظاہرین دہلی کی جامع مسجد

کے باہر جمع ہوئے اور بھارتی پرچم لہراتے ہوئے حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور

مظاہرین نے مودی ہٹاؤ کے بھی نعرے لگائے۔کسی بھی قسم کی کشیدہ صورتحال سے بچنے کے لیے

پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہکاروں کو مسجد اور اطراف کے علاقوں میں تعینات کیا

گیا تھا اور ان مظاہرین میں سے اکثریت کے ہاتھ میں بھارتیہ آئین کا مسودہ تھا۔مسجد کے باہر حکومت

مخالف نعرے لگانے والے 42 سالہ بھارتی شہری شمیم قریشی نے کہا کہ جب تک یہ قانون واپس نہیں

لیا جاتا، اس وقت تک ہم جدوجہد کریں گے، ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔یاد رہے کہ بھارتی سپریم کورٹ

نے شہریت میں ترمیم سے متعلق قانون کے خلاف درخواستیں مسترد کردی تھیں، جس کے باعث ملک

میں جاری مظاہرے شدت اختیار کر گئے تھے۔مظاہرین نے وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ ساتھ

وزیر داخلہ امیت شاہ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کانگریس کی خواتین نے جمعہ کو نئی دہلی میں

امیت شاہ کی رہائش گاہ کے باہر احتجاج کیا۔بھارتی میڈیا کے مطابق اترپردیش کے تقریباً 12 اضلاع

میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئی جبکہ گورکھپور، فیروز ا?باد ، کانپور اور ہاپور میں

بھی مظاہرے اور جھڑپیں ہوئیں۔گجرات کے شہر احمد آباد میں قانون کے خلاف احتجاج کرنے والے

کانگریس کے کونسلر شہزاد خان پٹھام سمیت 49 افراد کو پولیس نے گرفتار کر لیا جبکہ 5 ہزار افراد

کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔گزشتہ ہفتے جھڑپوں اور مظاہروں کا مرکز رہنے والی نئی دہلی کی

جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی کے باہر بھی 2 ہزار سے زائد طلبہ نے احتجاج کیا۔ناقدین کا کہنا ہے کہ

اس نئے قانون سے بھارت کا سیکولر تشخص بْری طرح مجروح ہوگا۔ان جھڑپوں اور مظاہروں کا

سلسلہ گزشتہ ہفتے اسلامی یونیورسٹیز سے ہوا تھا جس کا دائرہ بعد ازاں ملک بھر میں پھیل گیا۔اب تک

مظاہروں میں 14 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سے 5 افراد آسام اور دو ریاست کرناٹکا میں جان

کی بازی ہار گئے جبکہ جمعہ کو احتجاج اور جھڑپوں میں پولیس کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے 4

افراد کی لاشیں میرٹھ کے ہسپتال میں چار لاشیں لانے کی تصدیق ہو گئی ہے۔جہاں ایک طبقہ اسے

مسلمان مخالف بل تصور کرتا ہے وہیں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت دیگر ہندو جماعتوں کا

ماننا ہے کہ اس قانون کے نتیجے میں بھارت آنے والے مہاجرین کی حوصلہ افزائی ہوگی جہاں ملک

میں پہلے موجود سوا ارب سے زائد آبادی کو پہلے ہی بنیادی سہولیات تک کے حصول میں دشواریوں

کا سامنا ہے۔خیال رہے کہ بھارت میں شہریت کے متنازع قانون کے خلاف مظاہروں کو آج آٹھواں روز

ہے جن میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد مزید شدت آئی اور ملک میں مظاہروں اور احتجاج کا

دائرہ کار ہر گزرتے دن بڑھنے کے ساتھ ساتھ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔یاد رہے کہ بھارتیہ جنتا

پارٹی (بی جے پی) کی مرکزی حکومت نے گزشتہ دنوں پارلیمنٹ میں بھارتی شہریت کے حوالے سے

متنازع بل منظور کیا تھا جس کے تحت 31 دسمبر 2014 سے قبل پڑوسی ممالک سے غیرقانونی طور

پر بھارت ا?نے والے افراد کو شہریت دی جائے گی لیکن مسلمان اس کا حصہ نہیں ہوں گے۔اس بل کی

منظوری کے بعد یہ قانون کی شکل اختیار کر گیا تھا جس کے بعد بھارت میں مظاہرے پھوٹ پڑے تھے

اور شمال مشرقی ریاستوں میں احتجاج کے ساتھ ساتھ ملک کے کئی اہم شہرؤں میں انٹرنیٹ کی معطلی

اور کرفیو بدستور نافذ ہے۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: