مودی حکومت کے ناقد

مودی حکومت کے ناقد نامور دانشور یونیورسٹی سے مستعفی، طلبہ سراپا احتجاج

Spread the love

مودی حکومت کے ناقد

نئی دہلی (جے ٹی این آن لائن نیوز) بھارت کی صف اول کی یونیورسٹی سے ملک کے بہترین دانشور

اور مودی حکومت کے ناقد کے مستعفی ہونے پر ملک میں طلبہ سراپا احتجاج ہیں اور انہوں نے دنیا

کی سب سے بڑی جمہوریت میں آزادی اظہار رائے کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا ہے۔بھارتی

ٹی وی کے مطابق سیاست اور آئینی قوانین پر مکمل گرفت رکھنے والے نامور بھارتی دانشور پرتاب

بھانو مہتا وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت پر عدم اطمینان کا اظہار کر چکے ہیں اور اپنے

چبھتے ہوئے اداریوں اور تقاریر سے ملک میں لبرل ازم کی موت کی مذمت کرتے رہتے

ہیںیونیورسٹی کے طلبہ کی جانب سے نکالے جانے والے اخبار کے مطابق یونیورسٹی بورڈ نے پرتاب

بھانو مہتا کے استعفے کی منظوری دے دی تاکہ یونیورسٹی کی توسیع کے لیے درکار زمین کے

حصول کے لیے کوششوں کو تیز کیا جا سکے۔یونیورسٹی نے ابھی تک اس تنازع پر کوئی تبصرہ

نہیں کیا لیکن اس حوالے سے تنا ئومیں اس وقت اضافہ ہوا جب سابق چیف حکومتی اقتصادی مشیر

اروند سبرامنیم نے بھی پرتاب بھانو سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے اشوک یونیورسٹی سے استعفی

دے دیا۔میڈیا رپورٹس میں ان کے استعفی کے خط کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ یونیورسٹی اب

تعلیمی اظہار اور آزادی کو مزید گنجائش فراہم نہیں کرسکتی جو ایک پریشان کن امر ہے۔طلبہ نے نئی

دہلی کے باہر اشوک کیمپس میں کئی روز تک مظاہرے کیے اور کلاسوں کے بائیکاٹ کا مطالبہ

کیا،یونیورسٹی کے اساتذہ نے بھی ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ پرتاب بھانو مہتا کی

رخصتی سے یونیورسٹی کی تعلیمی آزادی کے ساتھ ساتھ اس کے اندرونی طریقہ کار کے حوالے سے

بھی سوالات کھڑے ہو گئے ،کولمبیا، ییل اور آکسفورڈ سمیت دنیا بھر میں 150 سے زائد ماہرین تعلیم

نے ایک کھلے خط میں کہا کہ وہ اس بات سے شدید پریشان ہیں کہ مہتا نے سیاسی دبائو کے تحت

استعفی دے دیا۔مودی حکومت کے دور میں حکام نے نوآبادیاتی دور کے قوانین کا لوگوں کو ‘بغاوت’

کے الزام میں گرفتار کرنے کے لیے استعمال کیا جس میں گزشتہ ماہ ایک 22 سالہ ماحولیاتی تبدیلی

کے رضاکار کی گرفتاری بھی شامل ہے۔یہاں تک کہ مزاح نگار بھی معاملے کی گرمی کو محسوس

کر چکے ہیں کیونکہ جنوری میں منور فاروقی کو اسٹیج پر جانے سے پہلے اس شک کی بنیاد پر

گرفتار کیا گیا کہ وہ ہندو دیوتائوں کی توہین کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔آنے والے دنوں میں جن سوشل

میڈیا قوانین کا اطلاق ہونے والا ہے اس کے تحت 36 گھنٹوں کے اندر کوئی بھی آن لائن مواد قابل

اعتراض سمجھا جاسکتا ہے اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کو کسی بھی شرارتی ٹویٹ یا پیغام کی اصل ظاہر

کرنے پر مجبور کیا گیا ہے۔

مودی حکومت کے ناقد

ستاروں کا مکمل احوال جاننے کیلئے وزٹ کریں ….. ( جتن آن لائن کُنڈلی )
قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply