38

موجودہ تعلقات قابل رشک ہیں ، تعاون جاری رکھیں گے،رجب طیب اردوان

Spread the love

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ کشمیر کا حل جبری پالیسیوں سے نہیں انصاف

سے ممکن ہے ‘کشمیر کی اہمیت ہمارے لئے وہی جو پاکستان کیلئے ہے ،یکطرفہ بھارتی اقدامات نے کشمیریوں کی ت

کالیف میں اضافہ کیا ،دباؤ کے باوجود ایف اے ٹی ایف میں اسلام آباد کو بھرپور حمایت کا یقین دلاتا ہوں،پاکستان ہمارا دوسرا

گھر ہے ، ہمارے موجودہ تعلقات قابل رشک ہیں،ہمیشہ کی طرح تعاون جاری رکھیں گے ،پاک ترک اسکولوں کا نظام ہ

مارے حوالے کرنے و دہشتگردی کیخلاف بھر پور ساتھ دیکر پاکستان نے حقیقی دوستی کا ثبوت دیا ،پاکستانی قوم کی ماضی

کی محبت و امداد کو کبھی فراموش نہیں کرسکتے ۔جمعے کے روزرجب طیب اردوان کی آمد پر پاکستان کی پارلیمنٹ کا

مشترکہ اجلاس پاکستان اور ترکی کے قومی ترانوں سے ہوا ،جس کے بعد اجلاس کا باقاعدہ آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا۔ا

سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے پاکستان کے عوام کے نمائندہ ایوان کی طرف سے ترک صدر رجب طیب اردوان کو

خوش آمدید کہا۔ترک صدر رجب طیب اردوان نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں پ

اکستان کے عوام کو نمائندہ ایوان کے توسط سے سلام محبت پیش کرتا ہوں، مشترکہ اجلاس سے خطاب کا موقع فراہم کرنے پ

ر سب کا شکر گزار ہوں، جس طرح سے پاکستان میں پرجوش استقبال ہوا اور مہمان نوازی ہوئی اس پر پوری پاکستانی قوم کا

شکر گزار ہوں۔رجب طیب اردوان نے کہا کہ پاکستان آکر کبھی خود کو اجنبی محسوس نہیں کرتا، پاکستان میرے لیے دوسرے

گھر کا درجہ رکھتا ہے، آج ترکی اور پاکستان کے تعلقات قابل رشک ہیں۔کشمیر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ترک صدر ن

ے ایک بار پھر واضح کیا کہ کشمیر ترکی کے لیے وہی ہے جو پاکستان کے لیے ہے، پاکستان کا درد ترکی کا درد ہے اور پ

اکستان کی خوشی ترکی کی خوشی ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کے یکطرفہ اقدامات سے کشمیری بھائیوں کی تکالیف میں ا

ضافہ ہوا لیکن مسئلہ کشمیر کا حل جبری پالیسیوں سے نہیں بلکہ انصاف سے ممکن ہے۔ترک صدر نے کہا کہ مشکل کی ہر

گھڑی میں پاکستان کی جانب سے ساتھ دینے پر ان کے شکر گزار ہیں اور ماضی کی طرح مستقبل میں بھی دونوں ممالک کا ت

عاون اور ساتھ جاری رہے گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھی ترکی کا بھرپور ساتھ دیا، پ

اکستان نے پاک ترک اسکولوں کا نظام ہمارے حوالے کر کے حقیقی دوست ہونے کا ثبوت دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ت

رکی دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک ہیں، انسداد دہشت گردی کے معاملات میں ہم پاکستان کے ساتھ ت

عاون کو آئندہ بھی جاری رکھیں گے اور تمام تر دباؤ کے باوجود ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کو بھرپور حمایت کا یقین دلاتا ہ

وں۔رجب طیب اردوان نے کہا کہ پاکستانی حکومت کے مثبت اقدامات سے سرمایہ کاری اور تجارت کا ماحول سازگار ہو رہا ہ

ے لیکن اقتصادی ترقی چند دنوں میں حاصل نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے مسلسل جدوجہد کی ضرورت ہوتی ہے۔انہوں نے کہا

کہ پاکستان اور ترکی کی دوستی مفاد پر نہیں بلکہ عشق و محبت پر مبنی ہے، پاکستانی قوم نے جس طرح اپنا پیٹ کاٹ کر ہ

ماری مدد کی تھی اسے کبھی فراموش نہیں کر سکتے، اللہ سے دعا ہے کہ پاکستان اور ترکی کے درمیان محبت ہمیشہ قائم

رہے۔قبل ازیں پارلیمنٹ ہاؤس پہنچنے پر وزیراعظم عمران خان، چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی اور اسپیکر قومی اسمبلی ا

سد قیصر نے ترک صدر رجب طیب اردوان کا پرتپاک استقبال کیا۔وزیراعظم عمران خان، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی،

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، رہنما ن لیگ خواجہ آصف سمیت اراکین کی بڑی تعداد نے مشترکہ اجلاس میں

شرکت کی۔پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں شرکت کے لیے پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل ظفر محمود عباسی اور پاک

فضائیہ کے سربراہ ائیر چیف مارشل مجاہد انور خان بھی مہمانوں کی گیلری میں موجود تھے

Leave a Reply