منی بجٹ متوازن ہے، تحریک انصاف، اعداد و شمار کا ہیر پھیر ہے، مسلم لیگ ن

Spread the love

حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والی خواتین ارکان اسمبلی اور پی ٹی آئی کے بلدےاتی نمائندوں نے بجٹ کو ایک متوازن بجٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے اس میں عام آدمی پر تو کوئی ٹیکس نہیں لگایا گیا ہے بلکہ انہیں ریلیف فراہم کیا گیا ےہ بجٹ عوامی امنگوں کا ترجمان ہے جبکہ اپوزیشن جماعت مسلم لیگ (ن) کی خواتین اور اس کے بلدےاتی نمائندوں نے اس بجٹ کو حکومت کی طرف سے اس بجٹ کو ایک عوام دشمن بجٹ قرار دیتے ہوئے اس کو مسترد کرتے ہوئے ایک عوامی و فلاحی بجٹ پیش کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے ہم اس بجٹ کی منظوری کے وقت اسمبلی میں بھرپور مخالفت کریں گے ۔ان خیالات کااظہار بجٹ پر اپنے اپنے ردعمل میں حکمران جماعت پی ٹی آئی کی خواتین ارکان اسمبلی مسرت جمشید چیمہ، سعدیہ سہیل رانا، عائشہ چودھری مسز طلعت نے دیا ، انکا مزید کہنا تھابجٹ کے ثمرات جلد ہی عوام کے سامنے آنا شروع ہو جائیں گے کم وسائل میں جس قدر عوام کو ریلیف دیا جا سکتا تھا وہ حکومت دینے کی ہر ممکن کوشش کررہی ہے جب ہمیں حکومت ملی تو خزانہ خالی تھا اور ہر ادارہ خسارے میں تھا پہلے ہم نے اداروں کو پاﺅں پر کھڑا کرنے کی کوشش کی اور پھر ملک چلانے کےلئے پیسے لیکر آئے ۔پی ٹی آئی کے بلدےاتی نمائندوں عفیف صدیقی اور چودھری اظہر حسین نے کہا اپوزیشن بجٹ کو پڑھے بغیر ہی روائتی تنقید کررہی ہے پڑھے اور دیکھے بغیر تنقید برائے تنقید سے اپوزیشن کو گریز کرنا چاہئے اور حکومت پر بلا وجہ کی تنقید کی بجائے اپنے گریبان میں اس لئے جھانکنا چاہئے جب وہ حکومت میں تھے تواس وقت انہوں نے کیا کیا تھا ۔اس حوالے اپوزیشن اور ن کی خوا تین کا رکنا ں کی خواتین عظمی بخاری ‘ کنول لیاقت ‘ حنابٹ اور بشری بٹ ،نبیلہ یا سمین ، بی بی وڈیری نے کہا 3ماہ کے اندر پی ٹی آئی حکومت کا دوسرا بجٹ غربیوں پر ظلم ہے جس میں بجلی ، گیس ،تیل، آٹا ، چینی ، دالیں اور گھی جیسی بنیادی چیزوں کی قیمتوں میں کمی کا اعلان نہیں کیا گیا یہ منی بجٹ اعدادوشمار کا ہیر پھیر ہے جس میں عوام کو بیوقوف بنایا گیا جبکہ بجٹ میں سرمایہ داروں کیلئے سہولیات رکھی گئی ہیں ۔مسلم لیگ(ن) کے بلدےاتی نمائندوں اجمل ہاشمی ، شیخ محمد نعیم، نصیر جٹ ، میا ں اویس ، میا ں منظور حسین ،آصف مئیو، رانا ختر محمود، مہر راشد لیاقت، شیخ محمد نعیم ، راشد کرامت بٹ، مرزا رضوان بیگ، محمد فیاض ورک نے کہا موجودہ حکومت تبدیلی کا نعرہ لے کر آئی تھی اور اس سے عوام کو بہت ساری تواقعات وابستہ تھیں مگر بدقسمتی سے اب تک کی موجود صورتحال حال سے عوام حکومتی کارکردگی سے بے حد مایوس ہو چکی ہے ۔ ملک میں لا قانونیت ، اقرباپروری ، کمر توڑ مہنگائی ، بے روزگاری نے تبدیلی سرکار کا پول کھول دیا ہے ۔آئین اور قانون کی حکمرانی کے بغیر ملک سے کرپشن اور اقرباپروری ختم نہیں ہو سکتی ۔ حکومت مدینہ کی ریاست بنا نے کا دعوی کرتی ہے تو ملک میںمعاشی نظام بھی وہی نافذ کرنا چاہیے جو مدینہ کی ریاست کا تھا وہی حقیقی معاشی نظام ہے جس سے معاشی مسائل پر صحیح معنوں میں قابو پایا جا سکتا ہے ۔ کب تک بجلی و گیس ، تیل اور اشیاءضروریہ کی قیمتوں پر ٹیکس لگا کر ملک چلائے گی۔

Leave a Reply