منظور وٹو نیب پیش،یوٹیلٹی سٹورز بھرتیوں پر سوالات کے جواب جمع کرائے

Spread the love

لاہور(نمائندہ خصوصی) سابق وزیر اعلیٰ پنجاب میاں منظور وٹو نے اپنے دور

میں غیر قانونی بھرتیوں کے کیس میں نیب لاہور کے دفتر میں پیش ہو کر سوالات

کے جوابات جمع کرادئیے ۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے منظور وٹو نے کہا کہ

سیف الرحمن کا نیب بے حد طالم تھا اور آج کا نیب بہت بہتر ہے ،نیب والے بہت

عزت دیتے ہیں۔سیف الرحمن کا نیب برائی کا نیب تھا آج کا نیب اچھائی کا نیب ہے

۔سیف الرحمن نے ایک جج صاحب کے گھر جا کر آصف زرداری اور بینظیر کو

سزا دلوانے کے اقدامات کئے تھے۔انہوں نے کہا کہ میری ڈی جی نیب سے ملاقات

ہوئی ہے ملاقات میں نیب اتھارٹی کو بتایا کہ اُن کے خلاف غلط کیس بنایا گیا

میرے وزارت کے دوران یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن میں کنٹریکٹ کی بنیاد پر

ملازمتیں دی گئیں۔ جو ہر سال ری نیو ہوتی ہیں اگر اُن ملازمین کا تعلیمی معیار

درست نہ تھا تو پچھلے دس سالوں سے اُن کو ہٹایا کیوں نہیں گیا؟نچ ہزار یوٹیلٹی

سٹورز کھولنے کا فیصلہ میرے وزیر بننے سے پہلے کابینہ نے کیا تھااور

3500سٹورز کھول دیئے گئے تھے اور 1500 باقی تھے 3150 اسامیاں منظور

کی گئیں تھیں ان اسامیوں کو پُر کرنے کے لئے ٹاسک فورس نے اشتہار دئیے اور

زون وائز کمیٹی بنا کر امیدواروں کے امتحان اور انٹرویوز لئے گئے اور بھرتی

کیا گیا۔ درخواستوں کی پڑتال وزیر کی نہیں، کمیٹی کی ذمہ داری ہے،چیئرمین نیب

کی جانب سے کاروباری طبقہ کے ساتھ تعاون اور خواتین کو طلب نہ کرنے کا

بیان قابل ستائش ہے ۔انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں ملک کسی بڑے

احتجاج کا متحمل نہیں ہو سکتا ،سیاسی جماعتوں کو مل بیٹھ کو قومی اور معاشی

معاملات پر بات کرنی چاہیے ۔

Leave a Reply