223

منشیات کیس،رانا ثناء اللہ کی پیشی ،اے این ایف کو نوٹس جاری

Spread the love

لاہور(نامہ نگار) انسداد منشیات کی خصوصی عدالت نے مسلم لیگ (ن) پنجاب کے

صدر رانا ثنااللہ کیخلاف 15 کلو ہیروئین برآمدگی کیس کی مزید کارروائی 18

جنوری تک ملتوی کر دی ۔انسداد منشیات کی خصوصی عدالت کے جج شاکر

حسین نے کیس پر سماعت کی ۔اس موقع پر رانا ثنااللہ بھی عدالت میں پیش ہوئے

جبکہ ان کی جانب سے ایڈووکیٹ فرہاد علی شاہ نے دلائل دیتے ہوئے فرد جرم

عائد نہ کرنے کی استدعا کی۔ عدالت نے رانا ثنااللہ کی جانب سے شہادتوں کی کاپی

فراہم کرنے کی درخواست پر اے این ایف کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مزید

سماعت18جنوری تک ملتوی کر دی۔عدالت میں پیشی کے بعد میڈیا نمائندوں سے

گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ خان نے کہا کہ جھوٹے مقدمے پر حکومت بے نقاب

ہو رہی ہے کیونکہ یہ کیس کے اصل حقائق عوام کے سامنے نہیں آنے دینا

چاہتی،کیس کا اوپن ٹرائل ہونا چاہیے اور جب تک اوپن ٹرائل نہیں ہو گا کارروائی

آگے نہیں چلنے دیں گے،ہائیکورٹ پہلے ہی قرار دے چکی ہے سیاسی انتقامی

کارروائی کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا۔ رانا ثنااللہ نے سوال کیا کہ وہ

ویڈیو کہاں ہے جس کے بارے میں حکومت ہرجگہ بات کرتی رہی؟ اگرویڈیو

موجود ہے تو عدالت میں پیش کی جائے، یہ کیس ویڈیو سامنے آنے تک نہیں چل

سکتا اس لیے عدالت میں ویڈیو کی درخواست دائر کی ہے۔انہوںنے وزیر مملکت

شہریار آفریدی کا نام لیے بغیر کہا کہ کہتے تھے ویڈیو وزیراعظم کو بھی دکھائی

ہے تو پھر منظر عام کیوں نہیں کی؟ فرد جرم تب تک قبول نہیں کریں گے جب تک

ویڈیو عدالت میں پیش نہیں کی جائے گی۔رانا ثنا نے بتایا کہ نیب نے 2 ہفتے میں

تفصیلات جمع کرانے کا کہا ہے یعنی پیدا ہونے سے اب تک کی تمام معلومات نیب

نے مانگی ہیں۔نواز شریف سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کا

پیغام سیاسی جماعتوں اور پارلیمنٹ کی عزت ہے،پارلیمنٹ کے وقار کو سامنے

رکھتے ہوئے پارلیمانی طریقہ کی پیروی کی جائے ۔آرمی ایکٹ ترمیمی بل پر

انہوں نے کہا کہ پارلیمانی پروسیجر کو مکمل کرنے کی ضرورت ہے، قومی

معاملات پر ہماری پالیسیاں بھی اسی نوعیت کی ہونی چاہئیں، جلد بازی کسی کے

لئے بھی بہتر نہیں ہے۔امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے سوال پر

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو اس معاملے پر ایوان کو

اعتماد میں لے کر پالیسی بیان دینا چاہیے۔راناثنااللہ نے حیرت کا اظہار کیا کہ ان

کی پیشی پر سڑکوں کو بند کر کے خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کی گئی ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں