مملکت خدا داد پاکستان، ہم اور چائے کی پیالی 0

مملکت خدا داد پاکستان، ہم اور چائے کی پیالی

Spread the love

(تحریر:– صمد مرسلین) مملکت خدا داد پاکستان

Samad Mursaleen

میں کوئی پیشہ ور لکھاری نہیں لیکن ارض پاک، مملکت خداداد پاکستان کے

موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے قلم اٹھانا، اور اپنے خیالات کا اظہار کرنا

ضروری سمجھا۔ دوستو آج وطن عزیر کی جو صورتحال ہے، اس ضمن میں

جو میری رائے ہے عین ممکن ہے، آپ اس سے اتفاق نہ کریں، لیکن ہمارے

کردار اور غلط پالیسیوں نے اس ملک کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے،

جس میں ہماری تمام حکومتیں اور ادارے ہی نہیں بلکہ من حیث القوم برابر کے

شریک ہیں۔

=ضرور پڑھیں= پاکستان کیخلاف ایک اور پراکسی وار تیار، مگر

ہم معاشرتی، اخلاقی و معاشی طور پر اسقدر شدید پستی کا شکار ہیں، کہ جس کی

وجہ سے ہم آج اس حال کو پہنچ گئے ہیں، کیونکہ ہمارے معاشرے میں جھوٹ،

بے ایمانی، دھوکہ، فریب، ناانصافی اور دیگر خرافات کوٹ کوٹ کر بھرے ہیں۔

جن سے اللہ تعالی نے ہمیں سختی سے منع فرمایا ہے، مگر اپنے آپ کو مسلمان

سمجھتے ہوئے ہم ان احکامات سے خود کو مبرا سمجھتے ہیں۔ اللہ تعالی نے ہمیں

جھوٹ اور حرام خوری سے سختی سے منع فرمایا، مگر یہاں الٹی گنگا بہتی ہے۔

ہم جھوٹ اور حرام خوری کو گناہ ہی نہیں سمجھتے۔ جس کا جہاں پر ہاتھ چلتا

ہے وہاں وہ اپنا کام دکھاتا ہے۔ حب الوطنی نام کی کوئی چیز ہم میں ہے ہی نہیں۔

ہماری سوچ اپنی ذات سے شروع ہوتی اور اسی پر ختم جاتی ہے۔ معاشرے میں

اچھے لوگ بھی ہیں، مگر اٹے میں نمک کے برابر۔ میں سمجھتا ہوں یہی وہ

بُرے عناصر ہیں جس کی وجہ سے ہم آج زوال پذیر ہیں۔

=یہ بھی پڑھیں= افغانستان کا مستقبل، پَر پھیلائے ہولناک بحران اور جی 20

اب میں آتا ہوں ملکی اور حکومتی پالیسیوں کی طرف جن کی وجہ سے ہماری

معیشت تباہ حال ہے۔ ہم قرضوں میں ڈوبتے جا رہے ہیں، مہنگائی بڑھتی رہی

ہے، اور ہم مہنگائی کے ضمن میں اس سطح پر پہنچ گئے ہیں کہ اس کی مثال

پوری دنیا میں نہیں ملتی- ٹیکسوں کی بھرمار سے قوم کی چمڑی اُدھیڑ دی گئی

ہے، لیکن خزانہ خالی ہے، کیونکہ اس میں کرپشن کے سوراخ ہیں۔ میں سمجھتا

ہوں پاکستانی قوم سے دنیا میں سب سے زیادہ ان ڈائریکٹ ٹیکس لیا جاتا ہے،

علاوہ ازیں ٹیکس وصول کرنے کے تمام تر ذمہ دار ادارے ٹیکس نہیں بلکہ بھتا

وصول کرنے میں مصروف رہتے ہیں، اور یہ حصہ اوپر تک پہنچتا ہے، جبکہ

اس کرپشن کی وجہ ہماری حکومتوں اور اداروں کی نااہلی ہے۔

=-،-= اپنوں کی کارستانیاں بجلی بن کر گر رہی ہیں

عہد حاضر میں بجلی کا کسی بھی قوم کی معیشت و خوشحالی میں انتہائی اہم

کردار ہے، پوری دنیا بالخصوص ترقی یافتہ ممالک میں بجلی انتہائی سستی ہے

جس کی وجہ سے وہ قومیں خوشحال زندگی گزار رہی ہیں، ان کا معیار زندگی

بہت بلند ہے۔ ان کی صنعتیں، زراعت دن بہ دن ترقی کر رہی ہیں۔ یہاں برادر

ہمسایہ اور دوست ملک چین کی مثال ضرور دوں گا، جہاں میری ناقص اطلاع

کے مطابق بجلی فری ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ سپر پاور بننے جا رہا ہے۔ اس

کے برعکس پاکستان میں بجلی اتنی مہنگی کر دی گئی کہ ہماری صنعتیں تباہی

کے دہانے تک پہنچ گئی ہیں، مہنگایی کا طوفان کھڑا کر دیا گیا ہے۔ ہر ماہ بجلی

کا بل خودکش بم بن کر ہر گھر پر گرتا ہے، جس کی وجہ آئی ایم ایف کی سازش،

ہماری کرپشن اور نالائقی ہے۔ پاکستان میں لاکھوں میگا واٹ بالکل مفت بجلی

بنانے کے مواقع ہیں، مگر تھرمل ایگریمنٹ کر کے ملکی ترقی و خوشحالی کو

زندہ درگور کر دیا گیا ہے۔ یہاں اگر یہ کہوں تو بے جا نہ ہو گا کہ عہد حاضر

میں کسی بھی قوم کو تباہ کرنا ہو تو اس پر بجلی مہنگی کر دو وہ قوم خود بہ خود

تباہ ہو جائۓ گی، وطن عزیز کے حوالے آئی ایم ایف اسی مشن پر گامزن ہے اور

اس مزموم مشن میں ہمارے اپنے ہی لوگ ان کے ساتھ شامل ہیں۔

=-،-= قوم ٹیکس دینے کو تیار، وصول کرنیوالے اہلکار بھتہ مافیا

ہماری معیشت کی تباہی کی دوسری بڑی وجہ اس قوم پر ناروا ٹیکس ہیں جو

کسی قوم کو تباہ کرنے کے لیے کافی ہے۔ صنعتیں تباہ حال۔ مہنگائی کا طوفان

مگر خزانہ خالی، جتنا ٹیکس بڑھتا جا رہا ہے، بھتے کا بھاؤ بھی بڑھتا جا رہا

ہے۔ قوم کی چمڑی اُتاری جا رہی ہے مگر یہ کہا جا رہا ہے کہ ہماری قوم ٹیکس

نہیں دیتی۔ درحقیقت وہ ٹیکس دینے کو تیار ہے، مگر ہمارے اہلکار ٹیکس نہیں

بلکہ بھتا وصول کرنے میں مصروف رہتے ہیں۔ کیونکہ جس منہ کو ایک مرتبہ

حرام کی کمائی لگ جائے اس جتنے تک وہ خود نہ چھوڑے کوئی اور طاقت

اسے اس لت سے نجات نہیں دلوا سکتی، اب تو یہ حال ہے کہ قوم میں ٹیکس ادا

کرنے کی سکت ہی نہیں، بلکہ ان سے اتنا انڈائریکٹ ٹیکس لیا جا رہ ہے کہ یہ

قوم اب وینٹیلیٹر پر ہے۔ دوسرے لفظوں میں ہماری اقتصادی تباہی میں ہمارے

ٹیکس وصول کرنے والے ادارے پیش پیش ہیں۔ جب کہ چین کی حکومتوں نے

اپنی قوم کی چمڑی اُدیھڑنے کی بجائے انہیں ٹیکس فری کر کے ملک کو دنیا

کا امیر ترین ملک بنا دیا ہے-

=-،-= زرمبادلہ کے ذخائر کا مسلسل ہچکولے کھاتا عمل

زرمبادلہ بھی کسی بھی قوم کی ترقی اور خوشحالی کا اہم ستون ہے، مگر افسوس

یہاں بھی ہماری ناقص پالیسیوں نے ملک کا بیڑا غرق کر کے رکھ دیا پے، اگر ہم

اس ضمن میں چین کی مثال دیں تو اس نے نہ صرف اپنے زرمبادلہ کے ذخائر

بڑھانے کے لیے بہترین حکمت عملی اپنائی، انہوں نے پروڈکشن میں اضافے

کیلئے بجلی فری کی، ٹیکس نہ ہونے کے برابر رکھے اور ایکسپورٹ میں دنیا

میں سرفہرست آ گئے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کیسے؟ تو دوستو وہ ایسے کہ چائنا سے

اگر آپ 5 ڈالر کی بھی چیز منگوائیں تو وہ فری ڈیلوری دیتے ہیں، جبکہ پاکستان

سے کوئی چیز بھیجنی ہو تو اداروں کے متھے لگنے کے بعد شپمنٹ چارجز

اتنے ہوتے ہیں کہ ہم عالمی منڈی کا مقابلہ کرنے کی صف سے ہی باہر کھڑے

نظرآتے ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر ہر وقت ہچکولے

لے رہے ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے ہم آئی ایم ایف کے جال میں پھنستے جا

رہے ہیں، اور وہ بھی یہی چاہتا ہے کہ پاکستان کسی طور اقتصادی لحاظ سے

مضبوط نہ ہونے پائے، شومئی قسمت یہاں بھی ہمارے اپنے ہی لوگ اُن کے ساتھ

برابر کے شریک ہیں۔

=-،-= ملکی کرنسی اور ہماری ذاتی مفادات پر مبنی پالیسیاں

دوستو ہمیں سمجھ یہ بھی نہیں آتی کہ پوری دنیا کے ممالک کی حکومتیں اور

عوام ایڑی چوٹی کا زور لگاتے ہیں کہ ان کے ملک کی کرنسی مضبوط سے

مضبوط تر ہو مگر ہمارے ہاں الٹی گنگا بہتی ہے کہ اپنی کرنسی کو گراؤ تاکہ

ایکسپورٹ بڑھے، ہماری تجوریاں مزید تگڑی ہوں، ملک کی معشیت کمزور

ہوتی ہے تو ہو، ملک بھکاری بنتا ہے تو بنے، مہنگائی کا طوفان آتا ہے تو آئے،

ہمیں کیا، اس پر ستم ظریفی یہ کہ جو زرمبادلہ پاکستان آتا ہے وہ بھی واپس

سمگل ہو جاتا ہے۔ غرض کئی عشروں سے جاری پالیسیاں ہمارے زرمبادلہ کے

ذخائر کو بڑھنے نہیں بلکہ ختم کرنے کا کام انجام دے رہی ہیں-

=-،-= ہم اپنے گریبان میں جھانکیں وطن کیساتھ کیا کیا؟

ساتھیو…! ان تمام مسائل کا ذمہ دار کس کو ٹھہرایا جائے، نالائق اور چور سیاست

دانوں کو جو عوام کو سبز باغ دکھا کر اقتدار میں آ جاتے ہیں اور بعد میں وہ

پوری قوم کے خوب لوٹتے ہیں، اداروں کو تباہ کر دیتے ہیں، یا ملک کے تمام

اداروں کو جن کا کام ریاست کے نظم و نسق کو ایمانداری سے چلانا ہے؟، مگر

وہ ملک کا نظام بہتر کرنے کی بجائے اپنا نظام بہترین کرنے میں مصروف ہیں،

یا پوری قوم کو جو طبقات میں تقسیم ہو کر ایک دوسرے پر الزام تراشی میں

مصروف ہے، مگر خود ان کا کردار کیا ہے۔ اس لئے ہمیں اپنے اپنے گریبان میں

جھاکنا ہو گا کہ ہم نے اپنے وطن کیساتھ کیا کیا، ورنہ داستاں تک نہ رہے گی

داستانوں میں-

=-،-= کوہتائیوں،غفلتوں،خود غرضیوں سے سچے دل سے توبہ ناگزیر

ساتھ ہی یہ بھی عرض ہے کہ جس ذات پاک نے اس ملک کو قائم کیا ہے وہ اسے

کسی طور ختم نہیں ہونے دیگا، البتہ من حیث القوم ہمارا انجام بُرا ہو گا، کیونکہ

اُس نے اپنے کلام پاک میں ہمیں بتا دیا ہے کہ میں کس طرح فرعون کے ہی گھر

میں موسیٰ کی پرورش کرتا ہوں اور پھر کیسے فرعون کو اس کے انجام تک

پہنچاتا ہوں، اب یہ ہم سب کا پہلے انفرادی اور پھر اجتماعی فریضہ ہے کہ اس

مملکت خدا داد کا انتہائی خلوص نیت سے خیال رکھنے کیلئے ماضی میں کی

گئی کوہتائیوں، غفلتوں، خود غرضیوں پر بارگاہ الٰہی میں معافی مانگیں، سچے

دل سے توبہ کریں، خدائے ذوالجلال کی قسم ہم ساری دنیا کے گھٹنے ٹکوانے

کے قابل ہو جائیں گے، دور جانے کی ضرورت نہیں، کابل میں چائے کی پیالی

ثبوت ہے-

مملکت خدا داد پاکستان ، مملکت خدا داد پاکستان ، مملکت خدا داد پاکستان

مملکت خدا داد پاکستان ، مملکت خدا داد پاکستان ، مملکت خدا داد پاکستان

=-= قارئین= کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply