343

ملک بھر میں تاجروں کی شٹر ڈائون ہڑتال،کاروبار آج پھر بند رہیں گے

Spread the love

راولپنڈی ،لاہور(سٹاف رپورٹر)تاجر تنظیموں کی جانب سے اپنے مطالبات کے حق

میں دو روز کی شٹرڈاون ہڑتال کی کال پر پہلے روز لاہور پشاور پنڈی اسلام آباد

، کوئٹہ کراچی ، فیصل آباد گوجرانوالہ سمیت ملک کے دیگر تمام شہروں میں

تاجروں نے کاروبار مکمل بند رکھا ،آج ( بدھ) کو بھی کاروبار بند رکھا جائے گا

،لاہور چیمبر کی جانب سے بھی ہڑتال کی مکمل حمایت کی گئی اور تمام سر

گرمیاں معطل رکھی گئیں ،تاجروں نے کاروبار بند رکھ کر حکومت کے خلاف

احتجاج کرتے ہوئے اپنے مطالبات کے حق میں نعرے لگائے جبکہ تاجر رہنمائوں

نے کہا ہے کہ خیبر سے کراچی تک لاکھوں تاجروں نے مکمل شٹر ڈائون کر کے

اپنا اتحاد ثابت کر دیا ہے ، حکومت ظالمانہ ٹیکس اور شناختی کارڈ کی شرط ختم

کرے اوراگر ایسا نہ ہوا تو مشاورت کے بعد ہڑتال کو غیر معینہ مدت تک بڑھانے

کی کال دیدی جائے گی۔ شاہ عالم مارکیٹ کے تمام بلاکس ، مارکٹیں مکمل بند رہیں

، صدر شاہ عالم بورڈ خواجہ عامر۔ فیرواز پور روڈ اچھرہ مارکیٹ، ماربل مارکیٹ

بھی بند رہے ۔ بادامی باغ آٹوپارٹس مارکیٹ 2 روز کیلئے مکمل بند رہے ۔بند روڈ ،

ڈیوس روڈ ، صدیق ٹریڈ سنٹر بھی بند رہیں ۔ تمام ہول سیل مارکیٹوں کا بھی شٹر

ڈاؤن ،پاکستان منی مزدا ایسوسی ایشن ک نیبھی ہڑتال کی۔واضح رہے اردو بازار

بھی پورے پاکستان کی تاجر براداری کیساتھ 2 روزہ شٹر ڈاون میں شامل ہوا۔ دریں

اثنا باغپانپورہ، دھرم پورہ اور مغل پورہ بازار جزوی کھلیںرہیں ۔ شہر کی چار

سبزی منڈیوں میں بھی جزوی کاروباررہا ۔ علاوہ ازیں کریم بلاک مارکیٹ، ایم ایم

عالم روڈ اور مین مارکیٹ گلبرگ میں بھی دکانیں کھلیں رہیں ۔ اندرون شہر کی

مارکیٹیں ، بازار، شاہ عالم مارکیٹ، اعظم مارکیٹ، اکبری منڈی، سرکلر روڈ کی

مارکیٹیں ، اکبری منڈی، لنڈا بازار، لوہے کی مارکیٹیں ، بادامی باغ آٹو پارٹس

مارکیٹ، اردو بازار، انارکلی بازار، ہال روڈ، مال روڈ، بیدن روڈ، گنپت روڈ، نیلا

گنبد سایئکل مارکیٹ ، منٹگمری مارکیٹ، میکلوڈ روڈ مارکیٹ، پان منڈی، سلائی

مشین مارکیٹ، بلال گنج مارکیٹ، رنگ محل سوہا بازار، برانڈرتھ روڈ وملحقہ

مارکیٹیں ، حفیظ سنٹر، اچھرہ بازار، فیروز پور روڈ بورڈ، شہر کی تمام صرافہ

مارکیٹس، موچی گیٹ مارکیٹ، سوتر منڈی اور بازار بھی بند رہیں ۔باغبانپورہ

بازار، دھرم پورہ، ایم ایم عالم روڈ، اقبال ٹاون کریم مارکیٹ، مغلپورہ بازار، ماڈل

ٹاون لنک روڈ، شالیمار لنک روڈ، برکت مارکیٹ، گلبرگ مین مارکیٹ، اوریگا

سنٹر، پیس شاپنگ مال جزوی طور پر کھلی رہیں جبکہ شہر کی چاروں سبزی

منڈیاں سنگھ پورہ، بادامی باغ ملتان روڈ اور کاہنہ کاچھا کھلیں ۔ جبکہ تحریک

انصاف سے منسلک تاجران کا دوکانیں کھلی رکھیں ۔جبکہ ہڑتا لی تا جر تنظیموں

کا کہنا ہے کہ اگر حکو مت ایک عرصہ سے مذا کرات کا لا لی پو پ دیتی آرہی

ہے اگر حکو مت کو ابھی سے سمجھ نہ آئی تو اسلا م آبا د کا رخ کر یں گے اور

مطا لبا ت پورے ہو نے پر ہی وہا ں سے اٹھیں گے ۔شٹر ڈا ن ہڑتال کے موقع پر

تاجر تنظیموں کی جانب سے مختلف مقامات پر احتجاجی کیمپس لگائے گئے اور

مظاہرے کئے۔ تاجر تنظیموں نے مطالبات تسلیم نہ کئے جانے کی صورت میں

مزید دو دن اور اس کے بعد غیر معینہ مدت تک کی ہڑتال اور دوکانوں کی چابیاں

حکومت کے حوالے کرنے کا اعلان کر دیا ۔ آل پاکستان انجمن تاجران کے

صدراشرف بھٹی نے پاکستان ٹریڈرز الائنس کے صدر محمد علی میاں،خالد پرویز

او ردیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ تاجروںنے کامیا ب ہڑتال

کر کے ثابت کردیا ہے کہ عالمی مالیاتی ادارے کا ایجنڈاکسی صورت قبول نہیں ،

ایک دن کی ہڑتال سے قومی آمدن میں اربوں روپے کانقصان ہوتا ہے اور آئندہ کے

فیصلے حکومتی رویے پر منحصر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تاجروں کے تمام مطالبات

جائز ہیں اور یہی وجہ ہے کہ لاہور سمیت دیگر شہروں کے چیمبرز نے بھی

حمایت کا اعلان کرتے ہوئے حکومت پر زور دیا ہے کہ مسائل کو حل کیا جائے ۔

تاجروںنے کبھی ٹیکس دینے سے انکار نہیں کیا بلکہ ہم خودماضی میں

مارکیٹوںکے سروے کرانے کی پیشکش کر چکے ہیں ۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ عالمی

مالیاتی ادارے سے قرض کے حصول کیلئے اس کی سخت شرائط کا سارا بوجھ

تاجروں پر ڈال دیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی رویے کا بغور جائزہ لیا جارہا

ہے اور آئندہ کے فیصلے اسی کو مد نظر رکھ کر کئے جائیں گے۔ملک بھر میں

لاکھوں تاجروں کے کاروبار سے نہ صرف انکے اپنے خاندانوں کا پیٹ پلتا ہے

بلکہ لاکھوں افراد کو روزگار بھی میسر ہے لیکن حکومت ہمیں سراہنے کی بجائے

شک کی نگاہ سے دیکھنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے جسے اب مزید برداشت

نہیں کیا جا سکتا.

Leave a Reply