0

ملکی مسائل کاحل احتساب تو تیارہیں

Spread the love

پاکستان مسلم لیگ (ن)نے قومی اسمبلی میں فنانس بل پر بحث نہ کر انے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے این ایف سی 18 ویں ترمیم کو رول بیک کرنے کی باتیں ہورہی ہیں ،معاملے پرحکومت خاموش ہے،ہماری پوری کابینہ احتساب کیلئے تیار ہے ،عمران خان نہ این آر او دے سکتا ہے اور نہ کسی نے مانگا ہے،ہر شخص مشکلات کا سامنا کررہاہے ،پاکستان کے عوام کے مسائل ٹویٹ سے حل نہیں ہوتے، حکمران ریاست مدینہ کی بات کرتے ہیں ، ان کا لہجہ ریاست مدینہ والا نہیں،ملک میں صدارت نظام کی باتیں ہورہی ہیں ،یہ جس کی خام خیالی ہے وہ دل سے نکال دے ،اپوزیشن لیڈر کو گالیاں دی جاتی ہیں،مسائل کو حل کرنے کی ضرورت ہے ، پانچ سال کا مینڈیٹ ہے حکومت کام کرے ،حکومت اپوزیشن کی صرف پگڑیاں اچھالنے پر لگی ہے ،مسلم لیگ ن بدتمیزی کو برداشت نہیں کرےگی، الزام کا جواب الزم ہی ہوتا ہے آپ ایک الزام لگائیں ہم دس لگائیں گے،اگرمیرٹ ہوتاتوعثمان بزداروزیراعلیٰ پنجاب نہ ہوتے۔
پیر کو سابق وزراءمریم اور نگزیب اور احسن اقبال کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ملک میں سیاسی صورتحال اور چیلنجز پر بات کرنی ہے ، فنانس بل پر بھی کوئی بحث نہیں کروائی گئی ،پارلیمنٹ سے راہ فرار اختیار کی گئی ۔کیا جلدی تھی بجٹ پیش کرنے کی ،جون میں بجٹ پیش ہوگا،عجلت میں اس وقت بجٹ کیوں پیش کیاگیا؟جون میں پھر بجٹ پیش کرنا ہے۔ پانچ عشاریہ 8 فیصد ہم نے گروتھ ریٹ چھوڑا تھا ،آج گروتھ ریٹ چار فیصد تک آگئی ہے ۔ وزیراعظم روزانہ لیکچر دیتے ہیں ،ہم احتساب کیلئے حاضر ہیں احتساب سے بھاگنے کی کوشش نہیں کی ۔ اگرپاکستان کے مسائل کاحل احتساب میں ہے توہم سے شروع کریں،احتساب مجھ سے اورمیری کابینہ سے شروع کریں۔ آپ ایک الزام لگائیں گے ہم دس الزام لگائیں گے ،الزام کا جواب الزم ہی ہوتا ہے ۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا مسلم لیگ نے ایک اور سنگ میل عبور کیا ہے ،آئینی ترمیمی بل جمع کروا دیا ہے،بہاولپور اور جنوبی پنجاب کو الگ صوبے بنائے جائیں ۔ یہ مسلم لیگ ن کا وعدہ بھی تھا ،جنوبی پنجاب کے لوگوں کی پکار بھی تھی ،ایک قرارداد بھی منظور کی گئی تھی ۔ اب یہ حکومت کا امتحان ہے کیونکہ حکومت نے جنوبی پنجاب کے نعرے پر الیکشن لڑا ۔ ملک میں صدارت نظام کی باتیں ہورہی ہیں ،یہ جس کی خام خیالی ہے وہ دل سے نکال دے ۔ پانچ سال کا مینڈیٹ ہے حکومت کام کرے ۔ سپریم کے فیصلے موجود ہیں اس ملک کا بنیادی ڈھانچہ پارلیمانی نظام ہے ۔ایمنسٹی سکیم کا فائدہ وزیراعظم کی بہن کو دیا گیا ہے ۔حکومت کے وزراءکو این آر او مل چکا ہے نیب زدہ ہیں ،ان کو کوئی پوچھتا نہیں۔
جبکہ مریم اورنگزیب نے کہا جہاں ہیجان کی کیفیت ہوتی ہے،وہاں کوئی ملک سرمایہ کاری کیلئے نہیں آتا۔افسوس سے کہنا پڑتا ہے پی ٹی آئی ناکام ہوچکی ہے ،اب پی ٹی آئی اپنے مفاد کیلئے ریاستی اداروں کا نام استعمال کررہی ہے ،یہ ہرجگہ کہتے ہیں کہ فوج ہمارے ساتھ ہے۔ ملک میں سلیکٹڈ پرائم منسٹر لانے کا سلسلہ بند کرنا ہوگا۔ عمران خان سے ہم نے اپنے لیے کبھی این ار او نہیں مانگا اگر مانگا ہے تو ثابت کریں،احتساب تو عمران یافتہ ہوگیا ہے انھیں کوئی ہاتھ نہیں لگا سکتا ۔

Leave a Reply