0

ملٹری کورٹس، شاہد خاقان، فضل الرحمن مخالف، چودھری شجاعت حامی

Spread the love

مسلم لیگ ن اور جے یو آئی ف نے فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کے مخالفت کردی جبکہ مسلم لیگ ق نے فوجی عدالتوں کو ملک کیلئے ضروری قرار دےدیا ،پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما شاہد خاقان عباسی کا گوجرخان میں میڈیا سے گفتگو میں کہنا تھا فوجی عدالتوں کی پاکستان میں کوئی ضرورت نہیں، ہم فوجی عدالتوں کو توسیع دینے کے حق میں نہیں جبکہ اپوزیشن کا اتحاد کرپشن کیسوں کی وجہ سے نہیں ملکی مفاد میں ہوا، نااہل حکومت نے ملک کا ستیاناس کردیا ہے، سانحہ ساہیوال افسوسناک اور قابل مذمت ہے، حقائق سامنے لا کر ذمہ داروں کو نشان عبرت بنایا جائے۔ادھرجمعیت علماءاسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کا ایک انٹرویو میں کہنا تھا ابھی تک نواز شریف اور زرداری کو قریب لانے میں کامیاب نہیں ہو سکا ،میڈیا کے ذریعے فضا بنا کر سیاسی قیادت کو چور لٹیرے مشہور کیا جاتا ہے بعد میں کسی بات کا کوئی ثبوت نہیں ملتا،ریاست مدینہ کا مقدس نام سیاسی کھیل کےلئے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے ،وزیر اعظم اور اس کی بہن نے ملک کے اندر بھی اور باہر بھی پیسے چھپائے ان کے نئے نئے اکاو¿نٹس اور جائیدادیں سامنے آرہی ہیں،اپوزیشن میں بیٹھے لوگ ملکی معیشت سنبھالنے کی اہلیت رکھتے ہیں ، نیب ادارے کو سیاستدانوں کو پھانسنے کے لئے بنایا گیا تھا، اب بھی کہتا ہوں عمران خان یہودیوں کا ایجنٹ ہے ،اب پارلیمنٹ میں پی ٹی آئی کے لوگ اسرائیل کو تسلیم کرنے کےلئے دلائل دے رہے ہیں،وزیر اعظم کو ہدایات ابھی بھی جمائما گولڈ اسمتھ کی طرف سے آتی ہیں ، ہم فوجی عدالتوں کے حق میں ہیں نہ اس کی حمایت کرینگے۔ ذاتی طور پر مجھے زرداری صاحب سے گلے ہیں مگر موجودہ حالات میں ہمیں ملکی حالات کو دیکھتے ہوئے اپنا رول ادا کرنا ہوگا، عوام چاہتے ہیں اپوزیشن کی سیاسی جماعتیں اپنا عملی رول ادا کریں۔ چاہتا ہوں چھوٹی بڑی تمام پارٹیاں مل کر ملکی مسائل کاحل نکالیں۔ حکمرانوں نے اپنے سیاسی مفادات کےلئے پولیس کو”غنڈہ فورس“ میں تبدیل کردیا ہے۔دریں اثناءپاکستان مسلم لےگ کے صدر اور سابق وزےر اعظم چوھردی شجاعت حسےن نے کہا ہے فوجی عدالتےں آج بھی قوم کی ضرورت ہےں، اسلئے اس اہم معاملے کو بےان بازی کی نذر نہےں کرنا چاہےے مےڈےا سے گفتگومیں انکا مزید کہنا تھاےہ بات سمجھ سے بالا ہے آج جو لوگ فوجی عدالتوں کی مخالفت کر رہے ہےں انہےں کس چےز کا ڈر ہے، فوجی عدالتوں نے جس کامےابی کےساتھ دہشت گردی کے 648مقدمات کے فےصلے کئے اس کے نتےجے مےں 345مجرموں کو سزائے موت ہوئی، اس حقےقت کو فراموش نہےں کرنا چاہےے 21نکاتی نےشنل اےکشن پلان کی منظوری مےں ساری سےاسی اور فوجی قےادت کی حماےت شامل تھی ، 4سال گزر گئے نےشنل اےکشن پلان کے جو نکات افواج پاکستان سے متعلق تھے ان پر تو مکمل عمل ہو گےا لےکن افسوس ےہ ہے نےشنل اےکشن پلان سے متعلق سوےلےن اداروں نے کام مکمل نہےں کےا، حالانکہ سب نے اتفاقِ رائے سے نےشنل اےکشن پلان کو سپورٹ کےا تھا اور مولانا فضل الرحمن نے آخر مےں دعائے خےر کرائی تھی، نےشنل اےکشن پلان پر دستخط کرنےوالوں کو اب کسی قسم کی تنقےد نہےں کرنی چاہےے اور اس سے پےچھے نہےں ہٹنا چاہےے۔

Leave a Reply