ملالہ ہمارا فخر، مجھ سے موازنہ نہ کیا جائے، ولید خان کی اپیل

ملالہ ہمارا فخر، مجھ سے موازنہ نہ کیا جائے، ولید خان کی اپیل

Spread the love

پشاور ( جے ٹی این آن لائن خیبر پختونخوا نیوز ) ملالہ ہمارا فخر

دسمبر 2014ء میں خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے آرمی پبلک سکول

( اے پی ایس ) میں دہشتگردوں کے حملے میں 6 گولیاں لگنے کے باوجود خوش

قسمتی سے بچ جانے والے ولید خان نے پاکستانیوں سے گزارش کی ہے کہ ان کا

موازنہ ملالہ یوسف زئی سے نہ کیا جائے۔

=-= پاکستان سے متعلق مزید تازہ ترین خبریں ( =–= پڑھیں =–= )

تفصیلات کے مطابق ولید خان اور ملالہ یوسف زئی کا موازنہ گزشتہ چند دنوں میں

اس وقت کیا جانے لگا جب نوبیل انعام یافتہ کارکن سے متعلق خبریں آئیں کہ وہ

برطانوی فیشن میگزین ’ ووگ ‘ کے جولائی کے شمارے کی سرورق کی زینت

بنیں گی۔ ملالہ یوسف زئی کے ’ ووگ ‘ کو دیے گئے انٹرویو میں ان کی جانب

سے شادی سے متعلق کہی گئی متنازع بات کے بعد لوگوں نے نوبیل انعام یافتہ

کارکن کا موازنہ ولید خان سے کرنا شروع کر دیا تھا۔ سوشل میڈیا پر متعدد افراد

نے ولید خان اور ملالہ یوسف زئی کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے ان میں موازنہ

کرنا شروع کر دیا۔ سوشل میڈیا پوسٹس میں بتایا گیا کہ ملالہ یوسف زئی ایک

دہشت گرد حملے کے بعد ملک سے باہر چلی گئیں اور اب برطانیہ میں مقیم ہے،

جبکہ ولید خان گولیاں کھانے کے باوجود پاکستان میں مقیم ہیں اور اسی سکول میں

جا کر تعلیم حاصل کر رہے ہیں جہاں ان پر حملہ کیا گیا تھا۔

=-= قارئین کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

ایسے موازنے کے بعد ولید خان نے اپنی متعدد ٹوئٹس میں لوگوں سے التجا کی کہ

انکا اور ملالہ یوسفزئی کا موازنہ نہ کیا جائے اور یہ کہ وہ بھی علاج کی غرض

سے برطانیہ میں ہی مقیم ہیں اور وہیں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ ولید خان نے اپنی

ایک ٹوئٹ میں لوگوں سے اپیل کی انکا اور ملالہ کا موازنہ نہ کیا جائے، کیونکہ

کہ نوبیل انعام یافتہ کارکن ان سمیت دنیا اور ملک بھر کے لاکھوں نوجوانوں کی

آئیڈیل ہیں۔ ملالہ یوسفزئی کا خاندان ان کے اپنے خاندان کی طرح ہے اور انہوں

نے انکا اسی سفر میں ساتھ بھی دیا۔ ہم سب کو ان افراد پر فخر کرنا چاہیے جو

ملک کا نام روشن کر رہے ہیں، نا کہ ان افراد کا آپس میں موازنہ کریں۔ ولید خان

نے اپنی ٹوئٹ میں وضاحت کی کہ وہ پاکستان میں نہیں بلکہ برطانوی شہر

برمنگھم میں اپنے علاج کے لیے موجود ہیں اور وہیں وہ اپنی تعلیم بھی حاصل کر

رہے ہیں۔ انہوں نے تمام افراد سے درخواست کی کہ برائے مہربانی انکا اور ملالہ

یوسفزئی کا آپس میں موازنہ نہ کیا جائے۔

ملالہ ہمارا فخر

Leave a Reply