ملائیشیا کی تاریخ کا میگا مالی سکینڈل اورعدالت

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

(چودھری عاصم ٹیپو ایڈووکیٹ،tipu.asim@yahoo.com)

دنیا بھر میں کرپشن سکینڈلز کے گونج کے بعد مختلف ممالک میں تحقیقات شروع

کردی گئیں ، ملائیشیا کی تاریخ کے ایسے ہی ایک بڑے مالیاتی سکینڈل کی

سماعت کا آغاز ہوگیاہے ۔دس برس قبل تین اپریل 2009 ء کو نجیب رزاق نے

ملائیشیا کے نوویں وزیراعظم کا منصب سنبھالا تھااورٹھیک دس سال بعد اسی دن

یعنی تین اپریل 2019ء کو انکے خلاف کرپشن الزامات کے تحت باقاعدہ سماعت

شروع کردی گئی ہے۔سابق وزیراعظم نجیب رزاق پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے

اقتدار کے دور میں ملائیشین ڈویلپمنٹ برہاد نامی فنڈ سے 68کروڑ10لاکھ ڈالر

خورد برد کئے یہ فنڈ عوام کی فلاح و بہبود کیلئے قائم کیا گیا مگر یہ چند افراد کے

ہاتھوں میں چلاگیا جسے مہنگی جائیدادیں، مصوری کے قیمتی فن پارے، نجی

طیارے خریدنے اور ہالی وڈ کی فلم وولف آف دی وال سٹریٹ میں سرمایہ کاری

کیلئے استعمال کیا گیا ۔فنڈ زکا ٹھیکیدار اور کالے دھن کو سفید کرنیوالا سہولت کار

سرکاری پیسے کوعیاشی میں لٹاتا رہا ۔

نجیب رزاق کے خلاف دائر بدعنوانی کے پہلے مقدمے کی سماعت دارالحکومت

کوالالمپور کی ایک عدالت میں بدھ کے روز شروع ہو ئی۔سماعت کے دوران نجیب

رزاق نے کٹہرے میں کھڑے ہو کر استغاثہ کی طرف سے پیش کیے گئے الزامات

کو سنا۔ ان میں مجرمانہ انداز میں اعتماد توڑنے کا ارتکاب، اختیارات کا ناجائز

استعمال، منی لانڈرنگ اور ریاستی ترقیاتی فنڈ کی ایک ذیلی شاخ ایس آر سی

(SRC) میں سے دس ملین ڈالر کی غیر اصولی منتقلی جیسے الزامات خاص طور

پر نمایاں ہیں۔نجیب رزاق نے عدالت میں عائد ساتوں الزامات کو تسلیم کرنے سے

انکار کیا۔نجیب رزاق کی وکلا کی ٹیم کے قریبی حلقوں نے ایسا امکان ظاہر کیا گیا

ہے کہ عدالت اس مقدمے کی سماعت کو ملتوی کر دے گی کیونکہ دفاعی وکلاء

نے اعلیٰ عدالت کے مقدمے کے حوالے سے دئیے گئے ایک فیصلے کے خلاف

نظرثانی درخواست دائر کر دی ہے۔ اس مقدمے کی باضابطہ سماعت رواں برس

فروری میں شروع ہونا تھی لیکن بعض عدالتی اپیلوں کی وجہ سے یہ مؤخر ہوتا

چلا گیا۔ دفاعی وکلاء نے عدالتی کارروائی کیلئے حکم امتناعی حاصل کرنے کی

کوششیں بھی کی تھیں۔نجیب رزاق کیخلاف منی لانڈرنگ کی فرد جرم کا نفاذ

گزشتہ سال 8اگست کو کیا گیاتھا۔

محمد نجیب رزاق 23جولائی 1953ء کو حاجی عبدالرزاق کے ہاں پیدا ہوئے وہ

2009ء سے 2018ء تک ملائیشیا ء کے وزیراعظم رہے وہ یونائٹیڈ ملائیشین نیشنل

آرگنائزیشن پارٹی کے 2015ء تک صدر بھی رہے جسے 2018ء میں مہاتیر محمد

کے اتحاد شکست دی۔ مہاتیر محمد بھی اپنے پہلے ادور میں اسی پارٹی کے سربراہ

رہے تاہم ان انتخابات میں انہوں نے اپنی ہی سابق پارٹی کے خلاف الیکشن لڑا اور

اس پارٹی کا کئی دہائیوں پرمحیط اقتدار ختم کیا۔ نجیب رزاق کے والد حاجی

عبدالرزاق بھی ملائیشیا ء کے وزیراعظم رہے جبکہ ان کے چچا حسین عون بھی

ان کے والد کی وفات کے بعد ملائیشیا ء کے وزیراعظم بنے۔ نجیب رزاق اپنے والد

کی وفات پر 1976ء میں اپنے والد کی سیٹ پر پارلیمنٹ کے بلا مقابلہ رکن منتخب

ہوئے اس وقت ان کی عمر 23سال تھی۔ 1982ء سے 1986ء تک وہ پہانگ

صوبے کے وزیراعلیٰ رہے انہوں نے 1980ء سے 1990ء کے دوران دفاع اور

تعلیم کی وزارتوں پر بھی متعدد بار خدمات انجام دیں۔ وہ 2004ء میں وزیراعظم

عبداللہ پوروی کی کابینہ میں ڈپٹی وزیراعظم کے عہدے پر تعینات ہوئے اور

2009ء میں ان کی جگہ وزیراعظم منتخب ہوگئے۔

ملائیشیا کے ترانوے سالہ وزیراعظم مہاتیر محمد نے مخالفین کیخلاف کرپشن

الزامات کی بنیاد پر کامیاب انتخابی مہم چلائی تھی۔مہاتیر محمد نے منصب وزارت

عظمیٰ سنبھالنے کے فوری بعد ہی نجیب رزاق کے خلاف کرپشن کے الزامات کی

تفتیش کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔ اس دوران اْن کی رہائش گاہ کے علاوہ مختلف

ٹھکانوں پر پولیس نے چھاپے مار کر کئی قیمتی اشیاء اپنے قبضے میں لے لی

تھیں۔دوسری جانب ڈھائی سو ملین ڈالر کی مالیت کی سپر کشتی کو ملائیشیائی

بندرگاہ پر پہنچا دیا گیا ہے۔ یہ کشتی ملائیشیا کے کئی اربوں ڈالر کے مالی

بدعنوانی سکینڈل کا حصہ ہے۔ اس کشتی پر کوالالمپور حکام نے تقریباً چھ ماہ قبل

قبضہ حاصل کیا تھا۔دوسری طرف نجیب رزاق کے خاندانی گھر میں پولیس

کارروائی براہ راست سٹریم کی گئی اور لاکھوں افراد نے اسے لائیودیکھا۔ یہ ایک

ایسا غیر معمولی واقعہ ہے جس کے بارے میں چند ماہ قبل تک سوچا جانا بھی

شاید ممکن نہیں تھا۔ جس کے بعد ملائیشیا کے سابق وزیر اعظم نجیب رزاق کو

گرفتار کر لیا گیاتھا۔اگر ان پر الزام ثابت ہو جاتے ہیں تو مسٹر نجیب رزاق کو کئی

برس جیل میں گزارنا پڑ سکتے ہیں ۔

ون ملائیشین ڈویلپمنٹ برہاد(ون ایم ڈی بی )دنیا کے سب سے بڑے معاشی گھپلوں

میں سے ایک کہانی ہے۔ملائیشیا کے ’’ون ملائیشین ڈویلپمنٹ برہاد‘‘میں ہونیوالے

اس مبینہ غبن پر دنیا بھر میں بہت شور ہوا جسکے بعد دنیا کے کم از کم 6ملکوں

میں بھاری رقوم کو ادھر سے ادھر کرنے کے معاملے کی تفتیش شروع کردی گئی

، جسکا دائرہ سوئٹزرلینڈ کے بینکوں سے لیکر ٹیکس فری جزیروں اور وہاں سے

جنوب مشرقی ایشیا ء تک پھیلا ہوا ہے۔اس حوالے سے اب نیویارک کے سب سے

طاقتور بینکوں میں سے ایک ’’گولڈمین سیکس‘‘کو ملائیشیا ء میں مقدمات کا سامنا

ہے جنکے بارے میں بینک کا کہنا ہے وہ پوری ثبوتوںسے اپنا دفاع کرے گا۔ اسی

دوران ایک ایسا مفرور پلے بوائے بھی ابھی تک حکام کے ہاتھ نہیں آیا ہے جو

امریکہ اور ملائیشیاء دونوں کو مطلوب ہے، تاہم اس پلے بوائے کی عیش و عشرت

کے سامان سے لیس ایک نہایت مہنگی کشتی حکام کے ہاتھ لگ چکی ہے۔یہ وہی

سکینڈل ہے جس میں نجیب رزاق کی سیاسی جماعت کی حکومت کا بھی تختہ الٹ

دیا گیا جو ملائیشیا ء کی آزادی کے بعد سے وہاں حکمران رہی ہے۔

اس سکینڈل کے حوالے سے اب تمام نظریں کوالالمپور پر لگی ہوئی ہیں جہاں

سابق وزیراعظم اور ون ملائیشین ڈویلپمنٹ برہادکے بورڈ کے سابق چیئرمین نجیب

رزاق کے خلاف پہلے مقدمے کی کارروائی شروع ہو چکی ہے۔اس سکینڈل کے

کرداروں کی کہانی واقعی ایک عالمی سطح پر پھیلے ہوئے سکینڈل کی تصویر

پیش کرتی ہے جس میں کئی صحافی مختلف ممالک میں بکھرے ہوئے ان افراد کا

سراغ لگاتے نظر آتے ہیں جنہوں نے مبینہ طور پر اس سکینڈ ل میں خوب پیسے

بنائے۔

رزاق نجیب

اس کہانی کے مرکزی کردار ملائیشیا ء کے سابق وزیر اعظم ہیں جن کے بارے

میں کہا جاتا تھا کہ کوئی ان پر ہاتھ نہیں ڈال سکتا تھا۔ یہ نجیب رزاق ہی تھے

جنہوں نے 2009 ء میں اپنی قوم کی معاشی ترقی کیلئے ایک دلیرانہ قدم اٹھاتے

ہوئے اس فنڈ کی بنیاد رکھی تھی۔ لیکن یہی وہ ’’دلیرانہ قدم‘ ‘تھا جس نے 9سال

بعد نہ صرف نجیب رزاق کی سیاسی بادشاہت کا خاتمہ کر دیا بلکہ انکی عزت کو

بھی خاک میں ملا دیا۔نجیب رزاق کی شخصیت کو سمجھنے کیلئے ہمیں انکے پس

منظر کو سمجھنا پڑے گا۔ ملائیشیا ء کے دوسرے وزیراعظم عبدالرزاق کے بڑے

صاحبزادے اور تیسرے وزیر اعظم کے اس بھتیجے کا تعلق ملائیشیاء کی سیاسی

اشرافیہ سے ہے۔ اس لیے جب وہ آخر کار 2009 ء میں خود ملک کے وزیر اعظم

بنے تو سب کو یہی لگا کہ یہ تو ان کے مقدر میں لکھا ہوا تھا۔برطانیہ کے دلدادہ

نجیب رزاق نے ابتدائی تعلیم برطانیہ کے مشہور پرائیویٹ سکول میلورن کالج سے

مکمل کی جس کے بعد انہوں نے نوٹنگھم یونیورسٹی سے صنعتی معاشیات میں

ڈگری حاصل کی۔اپنے اس پس منظر اور اور پھر ’’معتدل ‘‘اسلام کے بارے میں

اپنے زبردست خیالات کیوجہ سے نجیب رزاق ڈیوڈ کیمرون اور براک اوباما سمیت

کئی مغربی رہنماؤں اور دیگر شخصیات کے ذاتی دوست بن گئے۔ایک ایسا وقت

بھی تھا جب مسٹر نجیب اور براک اوباما اکٹھے گولف بھی کھیلا کرتے تھے۔لیکن

وزیر اعظم بنتے ہی ان کے سر پر بادل چھانا شروع ہو گئے تھے۔ اس سے پہلے

جب وہ 2002 ء میں وزیر دفاع تھے تو انہوں نے فرانس سے آبدوزیں خریدنے کا

جو معاہدہ کیا تھا اس نے نجیب رزاق کو گھیر لیا تھا۔ الزام تھا کہ 1.2ارب ڈالر کے

اس معاہدے میں تقریباً 130 ملین ڈالر رشوت لی گئی تھی، تاہم نجیب اس الزام سے

ہمیشہ انکار کرتے رہے ہیں۔لیکن بعد میں جب منگولیا سے تعلق رکھنے والی اس

ماڈل کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا جس نے آبدوزوں کے معاہدے میں مترجم کا

کردار ادا کیا تھا، تو اس معاہدہے پر مزید سوال اٹھنا شروع ہو گئے۔ اس قتل کے

سلسلے میں فرانس میں ابھی تک تفتیش ہو رہی ہے جبکہ ملائیشیاء کی موجودہ

حکومت نے بھی اس مقدمے کو ایک مرتبہ پھر کھول دیا ہے۔ مسٹر نجیب کا

اصرار ہے کہ وہ مذکورہ خاتون سے کبھی بھی نہیں ملے۔نجیب رزاق نے جب

2009 ء میں ’’ون ایم ڈی بی‘ ‘کی بنیاد رکھی تھی اس کا مقصد قدرتی وسائل سے

مالا مال ملائیشیاء کی دولت کو بڑی حکمت عملی کے ساتھ عوام کی بھلائی کیلئے

سرمایہ کاری میں استعمال کرنا قرار دیا گیا تھا۔ لیکن جب 2015 ء میں یہ فنڈ بینک

کو 11ارب ڈالر کے قرضے کی قسط واپس کرنے میں ناکام ہوا تو خطرے کی

گھنٹیاں بجنا شروع ہو گئیں۔ مختلف تفتیش کار اور صحافی اس واقعے سے پہلے

ہی اس سارے معاملے کو شک کی نظر سے دیکھ رہے تھے اور اپنے تئیں

معاملے کی تہہ کرنے تک پہنچنے کی کوشش بھی کر رہے تھے اور پھر جولائی

2016 ء میں امریکی محکمہ انصاف نے ایک دیوانی مقدمہ دائر کیا جس میں الزام

لگایا گیا کہ ساڑھے 3ارب ڈالر خورد برد کر دئیے گئے ہیں،بعد میں اس رقم میں

اضافہ کر دیا گیا اور یہ ساڑھے چار ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔امریکی اٹارنی جنرل

لوریٹا لِنچ کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں ’ ’کئی بدعنوان سرکاری افسروںنے عوام

کے پیسے کو ذاتی بینک اکاؤنٹ کی طرح استعمال کیا‘‘۔امریکی استغاثہ نے اس

جرم میں مبینہ طور پر شامل تمام ملزمان کے نام بتائے لیکن ’’ملائیشین آفیشل نمبر

ایک‘ ‘کو بے نام رکھا، تاہم یہ بتایا گیا کہ اس شخصیت نے فنڈ سے 681 ملین ڈالر

نکالے تھے مگر بعد میں زیادہ تر رقم واپس کر دی۔ بعد میں ملائیشیاء کی حکومت

نے بتایا کہ ’’ملائیشین آفیشل نمبر ایک‘ ‘سے مراد نجیب رزاق ہیں۔نجیب رزاق

جب وزیر اعظم تھے تو ملائیشیاء کی حکومت نے انہیںکسی بھی قسم کی ہیرا

پھیری سے بری قرار دیدیا تھالیکن گزشتہ انتخابات میں ان کی جماعت کی بری

شکست کے بعد حالات نے پلٹا کھایااور مسٹر نجیب کی کئی رہائشگاہوں پر چھاپوں

میں پولیس نے نہایت قیمتی اشیاء کے علاوہ دو کروڑ 86 لاکھ ڈالر کیش تحویل میں

لے لیا۔ اب تک نجیب رزاق کے خلاف 42 مقدمات قائم کیے جا چکے ہیں جن میں

مبینہ بدعنوانی، منی لانڈرنگ اور طاقت کے ناجائز استعمال کے الزامات شامل ہیں۔

مسٹر نجیب نے تمام الزامات سے انکار کیا ہے اور ان کہنا ہے کہ وہ بے قصور

ہیں۔

روسمہ منصور

نجیب رزاق کی دوسری اہلیہ کی شاہ خرچیوں کا مقابلہ فلپائن کی امیلڈا مارکوس

اور فرانس کی آخری ملکہ ماریہ انتونت سے کیا جاتا ہے۔ شوہر کے ہاتھ سے

اقتدار جانے کے بعد 67 سالہ روسمہ منصور پر کالے دھن کو سفید کرنے کے

الزام کے تحت باقاعدہ مقدمہ قائم کیا جا چکا ہے، تاہم عدالت میں انہوں نے اس

الزام سے انکار کیا ہے۔ملائیشیاء میں مس روسمہ کو اپنے مہنگے شوق کی وجہ

سے شدید تنقید اور تمسخر کا سامنا ہے ۔ 2018 میں پولیس نے مس روسمہ اور ان

کے شوہر کے مختلف گھروں پر چھاپے مارے اور وہاں سے برآمد ہونے والے

500 سے زیادہ مہنگے بیگوں، سینکڑوں گھڑیوں، 12 ہزار اقسام کے زیورات

سمیت کئی قیمتی اشیاء کی تصاویر منظر عام پر آئیں تو سوشل میڈیا پر ہر کوئی

اس بارے میں بات کر رہا تھا۔ پولیس کے مطابق ان اشیاء کے مجموعی قیمت 273

ملین ڈالر کے برابر ہے۔اب جب بھی مس روسمہ عدالت میں پیش ہوتی ہیں تو ہر

کوئی ان کے مہنگے ہینڈ بیگ کی بات کر رہا ہوتا ہے۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply