سمجھوتہ نہیں ہو سکتا

ٹی ایل پی اور ہمارا مقصد ایک طریقہ مختلف، عمران خان

Spread the love

مقصد ایک طریقہ مختلف

اسلام آباد (جے ٹی این آن لائن نیوز) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ فرانس کے سفیر کو واپس

بھیجنے سے نقصان فرانس کا نہیں پاکستان کا ہو گا اور اگر ہم فرانس کے سفیر کو واپس بھیجنے کا

مطلب یورپ سے تعلقات منقطع کرنا ہے، تحریک لبیک پاکستان کے لوگ جس مقصد کے تحت لوگوں

کو گھروں سے نکال رہے ہیں، میں یقین دلاتا ہوں کہ وہی میرا اور میری حکومت کا مقصد ہے، ہم

بھی چاہتے ہیں کہ دنیا میں کہیں بھی ہمارے نبیؐ کی شان میں گستاخی نہ ہو، باہر سے پاکستان کے

دشمن بھی اس معاملے میں کود پڑے اور اب تک ہم نے جن چار لاکھ ٹوئٹس کو دیکھا ہے ان میں سے

70فیصد جعلی اکاؤنٹ سے تھیں، افسوس کہ مسلم لیگ (ن)اور جمعیت علمائے اسلام بھی اس میں

شامل ہو گئی کہ کسی طرح حکومت کو عدم استحکام شکار کریں۔پیر کو قوم سے براہ راست خطاب

کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ یہ جو پچھلے ہفتے حالات ہوئے اس کی وجہ سے میں نے فیصلہ

کیا کہ میں آپ کے سامنے آؤں اور خطاب کروں۔ان کا کہنا تھا کہ ہمارا ملک دنیا واحد ملک ہے جو

اسلام کے نام پر بنا اور اس کا نعرہ تھا ‘پاکستان کا مطلب کیا، لاالہ الااﷲ، ہماے لوگ دین پر عمل

کریں یا نہ کریں لیکن نبی اکرم ؐ ہمارے لوگوں کے دلوں میں بستے ہیں، اس لیے ان کی شان میں دنیا

میں کہیں بھی گستاخی ہوتی ہے، تو ہمیں تکلیف پہنچتی ہے۔انہوں نے کہا کہ میں دنیا پھرا ہوں اور اس

عمل سے صرف ہمیں ہی تکلیف نہیں پہنچتی بلکہ دنیا بھی جہاں کہیں بھی مسلمان بستا ہے تو اسے

تکلیف ہوتی ہے۔عمران خان نے کہا کہ پچھلے ہفتے جو افسوناک حالات ہوئے، ایک جماعت نے

ایسے پیش کیا کہ جیسے انہیں اپنے نبیؐ سے دیگر پاکستانیوں سے زیادہ پیار ہے۔ان کا کہنا تھا کہ

تحریک لبیک پاکستان کے لوگ جس مقصد کے تحت لوگوں کو گھروں سے نکال رہے ہیں، میں یقین

دلاتا ہوں کہ وہی میرا اور میری حکومت کا مقصد ہے، ہم بھی ان کی طرح یہی چاہتے ہیں کہ دنیا میں

کہیں بھی ہمارے نبی کی شان میں گستاخی نہ ہو، صرف ہمارا طریقہ کار مختلف ہے۔انہوں نے کہا کہ

تحریک لبیک پاکستان یہ کہہ رہی ہے کہ فرانس میں جو ہوا تو اس پر فرانس کے سفیر کو واپس بھیجا

جائے، ان سے تمام رابطے ختم کر دیے جائیں، ہماری حکومت کا طریقہ کار مختلف ہے لیکن مقصد

ایک ہی ہے، وہ بھی یہ چاہتے ہیں کہ کسی ملک میں کسی کی جرات نہ ہو کہ ان کی بے حرمتی

کرے، ہمارا بھی وہی مقصد ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ سن 1990 کے قریب سلمان رشدی نے ایک

کتاب لکھی، اس کتاب میں اس نے ہمارے نبی اکرم ؐ کی شان میں گستاخی کی، پاکستان میں عوام

سڑکوں پر نکلی، یہاں امریکی سفارتخانے پر حملہ کیا اور لوگوں کی شہادتیں بھی ہوئیں، اس کے بعد

آپ دیکھیں مغرب کے کسی نہ کسی ملک میں ان کی شان میں گستاخی کرتا ہے تو مسلمانوں کو تکلیف

ہوتی ہے جس پر کبھی کبھار باہر ممالک میں ردعمل بھی آتا ہے، یہاں ہمارے ملک میں بھی مظاہرے

ہوتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ کیا اس طرز عمل سے کوئی فرق پڑا، یہی سوچ ٹی ایل پی کررہی ہے، وہ

کہہ رہے ہیں کہ اگر ہم ایکشن نہ لیں تو وہ سڑکوں پر آ جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ میرا سوال یہ ہے

کہ کیا فرانس کے سفیر کو واپس بھیجنا اور ان سے تمام تعلقات ختم کردینے سے یہ سب رک جائے

گا، کیا کوئی گارنٹی ہے کہ اس کے بعد کوئی گستاخی نہیں کرے گا۔عمران خان نے کہا کہ میں مغرب

کو جانتا ہوں اور میں آپ کا گارنٹی دیتا ہوں کہ اگر پاکستان یہ کرے گا تو اس کے بعد کسی اور یورپی

ملک میں آزادی اظہار رائے کے نام پر یہی ہو گا۔ان کا کہنا تھا کہ جب دیگر ممالک کو پتہ چلا گا کہ

ہم نے ایسا کیا ہے تو بھی آزادی اظہار کے نام پر یہی کریں گے تو کیا ہم پھر اس کے سفیر کو بھی

واپس بھیجیں گے۔وزیر اعظم نے کہا کہ 50مسلمان ملک ہیں، کہیں بھی اس طرح مظاہرے نہیں ہوئے،

کوئی بھی اس طرح نہیں کہہ رہا اور وہ بھی یہ نہیں کہہ رہے کہ سفیر کو واپس بھیجو انہوں نے کہا

کہ اگر تمام اسلامی ممالک مل کر تجارتی بائیکاٹ کریں تو معاملہ حل ہو سکتا ہے مین خود اس مہم

کی قیادت کرونگا۔انہوں نے کہا کہ سفیر واپس بھیجنے سے فرانس کو کوئی فرق نہیں پڑے گا لیکن

پاکستان کو اس سے بہت فرق پڑے گا کیونکہ ہماری معیشت بہت مشکل سے اٹھ رہی ہے، بہت

عرصے کے بعد پاکستان میں انڈسٹری اوپر جا رہی ہے، لوگوں کو نوکریاں مل رہی ہیں اور ملک کی

دولت میں اضافہ ہو رہا ہے، ہمارا روپیہ مضبوط ہوتا جا رہا ہے لیکن اگر ہم فرانس کے سفیر کو واپس

بھیج کر تعلقات توڑیں گے تو اس کا مطلب ہے کہ ہم یورپی یونین سے تعلقات توڑیں گے۔ان کا کہنا تھا

کہ ہماری آدھی ٹیسٹائل کی ایکسپورٹس یورپی یونین میں جاتی ہیں تو تعلقات ختم کرتے ہیں تو آدھی

ٹیسٹائل ایکسپورٹ ختم ہو جائیں گی، اس کا مطلب بے روزگاری ہو گی اور فیکٹریاں بند ہو جائیں گی

اور ہمارے روپے پر بھی دبا پڑے گا، روپیہ گرے گا، مہنگائی بڑھے، غربت بڑھے گی، تو نقصان

ہمیں ہو گا، فرانس کو کوئی نقصان نہیں ہو گا۔عمران خان نے کہا کہ ہمارے حکومت کے دو ڈھائی

مہیئنے سے تحریک لبیک سے مذاکرات جاری تھے، ہم ان کو یہی چیزیں سمجھا رہے تھے کہ اس

سے نقصان ہمیں اور ہمارے عوام کو ہو گا، مذاکرات جاری تھے اور انہوں نے کہا کہ اسمبلی میں

معاملہ لائیں اور اسمبلی جو فیصلہ کرتی ہے وہ کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے ان کی بات ماننے

کے ساتھ ساتھ یہ بھی دیکھا کہ یہ نچلی سطح پر متحرک تھے اور یہ اسلام آباد آنے کے لیے تیاریاں

کررہے تھے اور انہوں نے مذاکرات کے دورنا ہی فیصلہ کر لیا کہ اگر آپ نے فرانس کے سفیر کو نہ

نکالا تو ہم سارے اسلام آباد میں دھرنا دیں گے، اس کے بعد یہ گرفتار ہوئے۔ان کا کہنا تھا کہ اب تک

40 پولیس کی گاڑیوں کو جلایا جا چکا ہے، لوگوں کی نجی املاک کو لاکھوں کروڑوں روپے کا

نقصان ہوا ہے، چار پولیس اہلکار شہید ہوئے ہیں، 800 سے زائد زخمی ہوئے ہیں، پہلے دن 100

سڑکیں بند کردیں جس عوام اور ہسپتالوں میں موجود مریضوں کو نقصان پہنچا۔وزیراعظم نے انکشاف

کیا کہ باہر سے پاکستان کے دشمن بھی اس معاملے میں کود پڑے اور اب تک ہم نے جن چار لاکھ

ٹوئٹس کو دیکھا ہے ان میں سے 70فیصد جعلی اکاؤنٹ سے تھیں، یہ اس طرح کا پراپیگنڈا ہے جس کا

یورپی یونین کی ڈس انفارمیشن لیب نے انکشاف کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ ہمیں پتہ چلا کہ بھارت کے

380 واٹس ایپ گروپ تھے جو جعلی خبریں چلا رہے تھے کہ پاکستان میں خانہ جنگی ہو گئی ہے۔

وزیراعظم نے سیاسی جماعتوں کے رویے پر بھی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مجھے افسوس

سے کہنا پڑتا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کی جمعیت علمائے اسلام بھی اس میں شامل ہو گئی کہ کسی

طرح حکومت کو عدم استحکام شکار کریں اور مسلم لیگ ن بھی اس کا حصہ بن گئی۔مارگلہ ہائی وے

کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ

بدقسمتی سے ملک میں مذہبی اورسیاسی جماعتیں اسلام کا غلط استعمال کرتی ہیں،یہ جماعتیں اسلام

کو استعمال کرکے ملک کو نقصان پہنچا دیتی ہیں،بعض مغربی ممالک مسلم دنیا کی دل آزاری کرتے

ہیں، میں نے پاکستان کے عوام میں نبی اکرم ﷺ سے جو عشق دیکھا ہے کسی ملک میں نہیں دیکھا،

اپنے ملک میں مظاہرے اور توڑ پھوڑ کرکے مغربی ملکوں کو کوئی فرق نہیں پڑے گا،یقین دلاتا ہوں

کہ دنیا کے دیگر ممالک کو ساتھ ملا کر ہم مہم چلائیں گے۔ اسلام آباد میں مارگلہ ہائی وے کا سنگ

بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کے دوران وزیر اعظم نے کہا کہ اس سے دوسروں کو کوئی فرق

نہیں پڑتا مگر ہم خود نقصان اٹھاتے ہیں، میں انہیں واضح کردوں کہ یہاں سب نبی اکرم ﷺ سے محبت

کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب کا مقصد ایک ہے، پوری دنیا میں سب سے زیادہ ہماری قوم اپنے

دین اور اپنے نبی ﷺ سے محبت کرتی ہے ۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ جب ہمارے نبیﷺ کی شان میں

گستاخی ہوتی ہے تو کیا حکومت کو تکلیف نہیں ہوتی، کس نے دلوں کو چیر کر دیکھا ہے کہ کسے

زیادہ تکلیف ہوئی اور کسے کم ۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘اس کام کے لیے دنیا میں ایک مہم چلانے کی

ضرورت ہے، ملک میں مظاہرے کرکے توڑ پھوڑ کرکے مغرب کو کوئی فرق نہیں پڑے گا ۔ انہوں

نے کہا کہ ‘اس حوالے سے مسلمان ممالک کے سربراہان کو شامل کرکے ایک مہم چلائیں گے، اس

سے جو دبا کی وجہ سے یہ جو بار بار ہمیں تکلیف دی جاتی ہے اس میں تبدیلی آئے گی ۔ عمران خان

کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ اور یورپی یونین میں موجودہ حکومت اس طرح کی مہم چلارہی ہے۔ انہوں

نے مزید کہا کہ جب تک ہم اپنے ملک میں توڑ پھوڑ کرتے رہیں گے اس سے اس مسئلے کا کوئی حل

نہیں نکلے گا، ہم جو مہم لائیں گے اس سے بڑی تبدیلی آئے گی ۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے

منصوبے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا یہ منصوبہ پرانا ہے تاہم اس پر کام نہیں کیا

گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ پچھلے 20 سالوں میں اسلام آباد کی آبادی ڈیڑھ گنا زیادہ بڑھی ہے، آبادی

زیادہ بڑھنے کا مطلب انفرا اسٹرکچر بھی بڑھنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں جتنی بارش ہوتی

ہے اتنی ہی لندن میں بھی ہوتی ہے، اس شہر میں گرمی کم پڑتی ہے، ہریالی ہے اس لیے یہاں کے

لوگ ماحولیات کی فکر کرتے ہیں۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ‘میں ایسے تمام لوگوں کو یقین دلانا چاہتا

ہوں کہ پاکستان کی تاریخ میں کسی حکومت نے ماحولیات کی فکر کی ہے تو وہ موجودہ حکومت ہے

۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان جب سے بنا ہے ہم نے صرف 60 کروڑ درخت لگائے تھے، ہم نے مزید

جنگل بنانے کے بجائے انگریزوں کے بنائے جنگلوں کو بھی کاٹ دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جنگلات

کے کاٹنے کا سب سے بڑا اثر ماحولیاتی تبدیلی پر پڑے گا۔ انہوں نے بتایا کہ دنیا بھر میں گرمی

بڑھتی جارہی ہے اس کے بڑے اثرات سامنے آئیں گے اور پاکستان اس سے سب سے زیادہ متاثر

ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کی آبادی بڑھتی جارہی ہے اور

اس رنگ روڈ سے اس شہر کے ٹریفک کا مسئلہ حل ہوگا۔دوسری طرف وزیراعظم عمران خان نے

ایک بار پھر اپنے ترجمانوں کو مذہبی معاملات پر سخت بیان بازی سے روک دیا۔وزیراعظم کی زیر

صدارت ترجمانوں کا اجلاس ہوا، جس میں ملکی حالات، امن و امان کی صورتحال، سیاسی امور اور

مہنگائی پر گفتگو ہوئی۔ترجمانوں سے خطاب میں عمران خان نے کہا کہ تحفظ ناموس رسالت صلی اللّٰہ

علیہ وسلم کے معاملے پر ہم سب ایک ہیں۔انہوں نے کہا کہ ناموس رسالتؐ کے معاملے پر کوئی

سمجھوتا نہیں ہوسکتا ہے، اس معاملے پر مسلم ممالک کے ساتھ مل کر عالمی مہم چلارہے ہیں۔

وزیراعظم نے دوران اجلاس ترجمانوں کو ہدایات دیں کہ وہ کوئی بھی مذہبی معاملات پر سخت بیان

بازی نہ کریں۔دوران اجلاس اپوزیشن لیڈر شہباز شریف سے متعلق لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے پر

بھی گفتگو کی گئی، ترجمانوں کو اس کیس سے متعلق مکمل بریفنگ دی گئی۔

مقصد ایک طریقہ مختلف، مقصد ایک طریقہ مختلف، مقصد ایک طریقہ مختلف، مقصد ایک طریقہ مختلف

ستاروں کا مکمل احوال جاننے کیلئے وزٹ کریں ….. ( جتن آن لائن کُنڈلی )
قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply