مقدس پیشے کی آڑ میں قبیح دھندہ، پشاور کا ایک اور گھر اُجاڑ دیا گیا
Spread the love

پشاور(بیورو چیف عمران رشید خان خصوصی رپورٹ) مقدس پیشے کی آڑ

Journalist Imran Rasheed

نجی طبی مراکز ہوں یا این جی اوز کے زیرِ نگرانی چلنے والے ہسپتال وہاں طبی

عملہ، مسیحاؤں کی غفلت اور سہولیات کی عدم دستیابی یا غیر تجربہ کار سٹاف کی

جانب سے زچگی کے حساس کیسز ہینڈل کرنے کے دوران زچہ و بچہ کی اموات

جیسے واقعات عام سی بات بن چکے ہیں، جبکہ ستم بالائے ستم مرنے والوں کے

ورثاء کا احتجاج بھی بے سود ثابت ہوتا ہے، کیوں کہ حکام کو اس ضمن میں دی

جانے والی درخواستیں ردی کی ٹوکری یا پھر سرد خانے کی نذر ہو جاتی ہیں- نا

تو ان انسانوں کے مبینہ مذبح خانوں کے نا تجربہ کار سٹاف کو کسی کا ڈر خوف

ہے اور نہ ہی آج تک ایک مقدس پیشے کو اندھا دھند کمائی کا ذریعہ بنانے والے

مسیحاؤں کو سزا مل سکی ہے- گذشتہ دنوں ایسا ہی ایک اور المناک واقعہ روخانہ

کور فیملی ہیلتھ ہسپتال میں پیش آیا-

=–= صحت سے متعلق مزید خبریں ( =–= پڑھیں =–= )

جے ٹی این آن لائن کو پشاور کے رہائشی حامد نثار کی اہلیہ کیساتھ روخانہ کور

فیملی ہیلتھ ہسپتال میں پیش آنیوالے انسانیت سوز اور انتہائی افسوسناک واقعہ کی

جو درد ناک کہانی بتائی گئی اسے یہاں بعد میں بیان کریں گے، ہمارا سوال یہ ہے

کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان جو خود کو پورے صوبے کا وزیراعلیٰ

کہتے ہیں اس ظلم کیخلاف کوئی ایکشن لے لیں گے—؟

=–= خواتین سے متعلق مزید خبریں ( =–= پڑھیں =–= )

متاثرہ مریضہ کے خاوند حامد نثار کے مطابق وہ ایک پرائیویٹ فرم میں ملازم

ہیں، انہوں نے اپنی زوجہ کا حمل ٹھہرنے سے لے کر زچگی تک کا علاج روخانہ

کور سے کروانا شروع کیا اور نو ماہ تک یہیں سے علاج کرواتے رہے، جس کی

تمام رپورٹس ان کے پاس موجود ہیں، حامد نثار کا کہنا تھا ڈاکٹرز کے چیک اپ

اور خاص کر ہمیں جن سینئر ایل ایچ ویز کے حوالے کیا گیا اور کہا گیا ڈیلیوری

کے وقت اصل یہی مددگار ہوں گی، ڈاکٹرز نے تسلی دی کہ ہم بھی موجود ہوں

گے، جس شام ہمارے ساتھ درد ناک واقعہ ہوا تین ایل ایچ ویز عذرا، ثمرین اور بینا

موجود تھیں۔ یہ واقعہ 23 نومبر بروز منگل کو دو بجے کا ہے کہ میری زوجہ

زچگی کے درد سے ہسپتال آئی تو اس وقت اسے وارڈ میں داخل کر دیا گیا، اور

اس کے چیک اپ کے بعد میری مریضہ اہلیہ کو تسلی دی گئی، کہ سب ٹھیک ہے

ڈیلوری نارمل ہے، ہمیں فیس جمع کرانے کا کہا گیا سو 4500 روپے فیس میں نے

جمع کروا دی، ایل ایچ وی عذرا نے کہا کچھ دیر انتظار کرتے ہیں، پھر مریضہ کو

لیبر روم لے جائیں گے، مغرب کی اذان کے بعد مریضہ کو لیبر روم لے جایا گیا-

حامد نثار نے کہا جب ڈاکٹر کے بارے میں استفسار کیا گیا تو سینئر ایل ایچ وی

عذرا نے کہا آپ فکر نہ کریں، یہ ہمارا کام ہے، ڈاکٹر کی ضرورت نہیں، ان کے

ساتھ ایل ایچ وی ثمرین اور بینا بھی تھیں، جنہوں نے اس بات کی تائید کی، ہمیں

اس وقت ان کی بات ماننے کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں تھا، اور بظاہر ایسا کوئی

مسئلہ بھی نظر نہیں آ رہا تھا، جس پر اپنی تسلی اور مریضہ کے حوصلے کیلئے

ایل ایچ ویز سے میری اہلیہ کے ساتھ آئی ان کی خاتون رشتہ دار نے کہا کہ وہ بھی
لیبر روم میں مریضہ کی تسلی کیلئے ساتھ جائیں گی-

=-،-= خیبر پختونخوا سے مزید خبریں (=-= پڑھیں =-=)

خاتون رشتہ دار کے حوالے سے حامد نثار نے مزید بتایا جب مریضہ کا ڈیلیوری

پراسس شروع ہوا تو کچھ منٹوں بعد اندازہ ہونے لگا، یہ نارمل کیس نہیں، خاتوں

رشتہ دار نے کہا کہ مریض کو مزید تکلیف اور درد دینے کی بجائے اسکا الٹرا

ساؤنڈ کروائیں اور کسی ڈاکٹر کو بلوائیں، تو جواب دیا گیا الٹراساؤنڈ مشین اس

وقت میسر نہیں پھر، وائکیوم کا کہا گیا تو جواب ملا جس کمرے میں الٹراساؤنڈ

مشین ہے، اسی میں وائکیوم بھی بند ہے، اس کی چابی ہمارے پاس نہیں، جس پر

رشتہ دار خاتون سر پکڑ کر بیٹھ گئی، اس دوران مریضہ کیساتھ جو ناروا سلوک

کیا گیا اور اسے جس کرب سے گزارا گیا ناقابل بیان ہے-

=-،-= عذرا ایل ایچ وی ڈیلیوری کے بعد غائب

حامد نثار نے آہ بھرتے ہوئے کہا حتیٰ کے بار بار چیخ کر انہیں کہا گیا کہ یہ

سیزیرین آپریشن ہے، ڈاکٹر کو بلوائیں مگر ایک نہ سنی گئی اور میری بچی کو

کھینچ کر نکالا گیا، اس کے سر کو ایسے دبایا گیا تھا جیسے کوئی گاڑی کا ٹائر

گزرا ہو، اور اس بچی کو ایک کپڑے کے ٹکڑے میں لپیٹ کر بنچ پر لا کر رکھ

دیا گیا۔ انسانیت کی اس سے بڑی تذلیل اور کیا ہو گی، کہ اتنی بڑی این جی او کے

زیر اہتمام چلنے والے ہسپتال میں کاٹن تک نہیں تھی، کہ مردہ بچی کو صاف کیا

جاتا، عذرا ایل ایچ وی تو ڈیلیوری کے بعد خاتون رشتہ دار کو کہا ماں کی حالت

اچھی نہیں اسے بچی کے بارے میں ابھی نہ بتانا، کہیں وہ صدمے سے کومہ میں

نہ چلی جائے، آپ مریضہ کو لے کر گھر چلی جائیں یہ کہہ کر خود غائب ہو گئی-

=-،-= سفید کوٹ میں کالے ڈاکوؤں کیخلاف سخت ایکشن لیا جائے، متاثرین

متاثرہ مریضہ کے شوہر حامد نثار نے مزید بتایا ان ایل ایچ ویز نے میری اہلیہ اور

بچی کے ساتھ جو حیوانی سلوک کیا اس پر میری اہلیہ اپنے حواس میں نہیں، میرا

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان اور صوبائی وزیر صحت تیمور جھگڑا سے

مطالبہ ہے کہ ان سفید کوٹ میں کالے ڈاکوؤں کیخلاف سخت ایکشن لیا جائے تاکہ

آئندہ یہ کسی کی جان سے نہ کھیل سکیں۔ اس موقع پر متاثرہ مریضہ نے کہا کہ

اگر مجھے انصاف نہ ملا تو میں چالیس دن گزارنے کے بعد انصاف کے حصول

کیلئے ان کیخلاف عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاؤں گی، کیونکہ بھاری فیسیں پہلے

وصول کی جاتی ہیں، اور علاج کی سہولیات ناپید، یہ کیسی ریاست مدینہ ہے جس

میں مائوں کے بچے ان کے سامنے مارے جاتے ہیں۔ روخانہ کور ہسپتال کے اس

سٹاف کو فوری معطل کیا جائے، تاکہ یہ مزید انسانی جانوں سے نہ کھیلیں اور اس

مقدس پیشے کو مزید بدنام نہ کریں۔

=-،-= متاثرہ خاتون کا وزیراعلیٰ، وزیر صحت سے ایکشن کا مطالبہ

حامد نثار کی اہلیہ نے مزید کہا روخانہ کور فیملی ہیلتھ ہسپتال، رہنما فیملی پلاننگ

ایسوسی ایشن آف پاکستان گلبہار کالونی نمبر 1 پشاور کی ناتجربہ کار ایل ایچ ویز

زچہ و بچہ کی زندگیوں سے کھیلنے لگی ہیں، روخانہ فیملی ہیلتھ ہسپتال کی

انتظامیہ صرف مریضوں سے پیسے بٹورنے، ٹیسٹ اور ڈیلیوری چارجز کے نام

پر مریضوں کو لوٹنے کے بعد زچہ کو ناتجربہ کار ایل ایچ ویز کے آسرے پر

چھوڑ کر مردہ بچے انہیں تھما کر ٹرخا رہی ہے، جبکہ لیڈی ڈاکٹرز 2 بجے دوپہر

کے بعد ہسپتال میں ہوتیں ہی نہیں، ایمرجنسی کی صورت میں شام کو بھی ڈاکٹرز

کو بلانے کی زحمت تک نہیں کی جاتی، جس کی وجہ سے کئی بچے ضائع ہو

چکے ہیں، کیا متاثرہ مریضہ زوجہ حامد نثار کی کہانی سن کر وزیراعلیٰ خیبر

پختونخوا محمود خان اور وزیر صحت تیمور جھگڑا اس ظلم کیخلاف کوئی ایکشن

لے لیں گے، متاثرین کیساتھ ساتھ ہم بھی منتظر ہیں۔

مقدس پیشے کی آڑ ، مقدس پیشے کی آڑ ، مقدس پیشے کی آڑ ، مقدس پیشے کی آڑ

مقدس پیشے کی آڑ ، مقدس پیشے کی آڑ، مقدس پیشے کی آڑ ، مقدس پیشے کی آڑ

=-= قارئین= کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply

%d bloggers like this: