71

مقبوضہ کشمیر کے لوگ انتہائی مشکل صورتحال سے دوچار ہیں ، ڈیبی ابراہمس

Spread the love

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) برطانوی پارلیمانی گروپ برائے کشمیر مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور ب

ھارتی فوج اور حکومت کے مظالم کیخلاف ڈٹ گیا نئی دہلی سے ڈی پورٹ ہونے والی برطانوی رکن پارلیمنٹ اپنے پ

ارلیمانی گروپ کے ہمراہ پاکستان پہنچ گئیں اسلام آباد انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹڈیز کے تحت مقبوضہ کشمیر کی

صورتحال پر آل پارٹی پارلیمانی کانفرنس مین خطاب کرتے ہوئیبرطانوی رکن پارلیمنٹ ڈیبی ابراہمز کا کہنا تھا کہ مقبوضہ

کشمیر کے عوام انتہائی مشکل صورتحال سے دوچار ہیں ،کشمیریوں کو اپنے مستقبل کے فیصلے کرنے کا اختیار ملنا چاہیے۔

کانفرنس میں مسئلہ کشمیر کے حوالے سے دورہ پاکستان پر آئے برطانوی پارلیمانی وفد نے بھی شرکت کی۔ان کا کہنا تھا کہ ب

رطانیہ نہ پاکستان کا حامی ہے اور نہ ہی بھارت کا مخالف ہے بلکہ ہماری تشویش انسانی حقوق کی پامالی پر ہے۔ڈیبی ابراہمز

کا کہنا تھا کہ کشمیریوں کو اپنے مستقبل کے فیصلے کرنے کا اختیار ملنا چاہیے۔ برطانوی رکن پارلیمنٹ کا کہنا تھا کہ ب

ھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کا دورہ کرنے کی اجازت نہیں دی، دورے کا مقصد زمینی حقائق معلوم کرنا تھا۔انہوں ن

ے ہر ممکن تعاون پر پاکستانی حکومت کا شکر یہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ بھی جلد پ

اکستان کا دور ہ کریں گے۔اس موقع پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ 5 اگست کے بعد بھارتی اقدامات سے

مقبوضہ کشمیر کی صورتحال مزید بگڑ گئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ برطانوی پارلیمانی ارکان جہاں جانا چاہیں جاسکتے ہیں، ب

ھارتی اقدامات سے مودی حکومت کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے آگیا۔اس سے قبل مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہ

وئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میںپانچ اگست سے مسلسل کرفیو جاری ہے۔ برطانوی گروپ

مقبوضہ اور آزاد کشمیر کا خود جائزہ لے کر رپورٹ اقوام متحدہ میں پیش کرے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ یورپین پ

ارلیمنٹ،یو ایس کانگریس سمیت دنیا کی پارلیمنٹس کو مقبوضہ کشمیر میں مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کیخلاف آ

واز اٹھانا چاہیئے۔ چیئرپرسن آل پارٹی پارلیمانی گروپ برائے کشمیر اور برطانوی پارلیمنٹ کے 8 ممبران کو پاکستان میں

خوش آمدید کہتا ہوں اور ان کے دورے پر مسرت کا اظہار کرتے ہیں۔ وزیرخارجہ نے کہا کہ ڈیبی ابراہمس کو چند روز قبل

دہلی سے بھارتی نے مقبوضہ کشمیر جانے سے روکا تھا اور انہیں غیر جانبدارانہ منظر دیکھنے سے روکنے کی کوشش کی۔ ا

نہوں نے کا کہ پاکستان آمد پر ڈیبی ابراہمس سے کہتے ہیں کہ آپ جس سے چاہیں، جہاں چاہیں، آزاد کشمیر جانا چاہتی ہیں،

میڈیا سے ملنا چاہتی ہیں،آپ کو ہر جگہ جانے کی مکمل آزادی ہے، اس کے بعد پھر اپنی رائے قائم کرنے کی اجازت بھیہے

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ جمہوری معاشروں کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر اپنا کردار ادا کرنا ہوتا ہے۔ دنیا مقبوضہ

کشمیر کی ابتر صورتحال سے آگاہ ہے تاہم کئی ممالک اپنے تجارتی مفاد کے باعث مسئلہ کشمیر پر خاموش ہیں۔وزیر خارجہ

کا کہنا تھا کہ شہریت کا متنازعہ قانون نام نہاد سیکولر بھارت کے چہرے پر داغ ہے۔ خود بھارتی اسے کالا قانون کہہ رہے ہ

یں۔ ادھر سلامتی کونسل مقبوضہ کشمیرکی صورتحال کو نیوکلئیر فلیش پوائنٹ قرار دے چکی ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ ب

ھارت کی جانب سے پانچ اگست کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کے بعد دنیا کے مختلف ملکوں کیساتھ رابطے کئے، ب

ڑی منڈی ہونے اور اقتصادی و تجارتی مفادات کی وجہ سے کئی ممالک مصلحتا خاموش ہیں۔

Leave a Reply