Kashmir Curfio 99

مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی محاصرے کو 140 روزہو گئے،کشمیریوں کی مشکلات میں اضافہ

سرینگر(مانیٹرنگ ڈیسک)مقبوضہ وادی کشمیر میں ہفتہ کو139روز بھی صورتحال ابتر رہی جبکہ آج

شروع ہونیوالے سردی کے سخت ترین دورانیہ ’’چلہ کلاں‘‘کی وجہ سے محصور لوگوں کی

مشکلات بڑھ گئی ہیں۔ وادی کشمیر کو بیرونی دنیا سے ملانیوالی واحد سرینگر جموں شاہراہ شدید

برف باری کی وجہ سے موسم سرما میں اکثر وقت بند رہتی ہے اور لوگ صدیوں پرانی روایت کے

مطابق موسم سرما کیلئے اشیائے ضروریہ ذخیرہ کر لیتے ہیں تاہم مسلسل بھارتی محاصرے کی وجہ

سے وہ اس مرتبہ ایسا نہیں کر سکے ہیں، ادھرمقبوضہ کشمیر میں غیر قانونی طور پر نظر بند شبیر

احمد شاہ کی جماعت ’’جموںوکشمیر ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی‘‘ نے تحریک آزادی کو تمام تر رکاو ٹو

ں کے باوجود اسکے منطقی انجام تک جاری رکھنے کے کشمیریو ں کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ

کیا ہے ۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی نے سرینگر میں منعقدہ اجلاس میں

مقبوضہ کشمیر کی سیاسی و انسانی حقوق کی تیزی سے بگڑ تی صورتحال پر سخت تشویش کا اظہار

کیا اور تنازعہ کشمیر کو عالمی سطح پر تسلیم شدہ حق خود ارادیت جس کی ضمانت اقوام متحدہ نے

بھی دے رکھی ہے کی بنیاد پرجلد حل کرنے کا مطالبہ کیا، مگر افسوس کشمیر میں بھارتی مظالم پر

عالمی برادری خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ اجلاس میں پارٹی چیئرمین شبیر احمد شاہ اور دیگر

آزادی پسند رہنمائوں کی گزشتہ دو برس سے زائد عرصے سے نئی دلی کی بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں

غیر قانونی نظر بندی کی شدید مذمت کی گئی ۔ اجلاس میںمحصور کشمیریوںکے حق میں عالمی

سطح پر آواز اٹھانے پر پاکستان ، ترکی ، ملائیشیا اور چین کا شکریہ ادا کیا گیا۔ادھر کئی سماجی و

سیاسی تنظیموں کے نمائندوں نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنما میر شاہد سلیم کی زیر

صدارت جموں میں اجلاس کے دوران بھارتی پارلیمنٹ کی طرف سے منظور کر دہ اقلیتوں خاص

طورپر مسلم مخالف شہریت ترمیمی بل کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بھارت میں مسلمانوں کو

ہدف بنانے کی گہری سازش کا حصہ قرار دیا ۔ واشنگٹن میں امریکی ایوان نمائندگان اور سینیٹ کے

پاس کردہ وفاقی حکومت کے مالی اعانت پیکیج بل میں بھارتی حکومت پر زور دیا گیا ہے کہ وہ

مقبوضہ کشمیر میں اپنے اقدامات واپس لے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں