Kashmir Curfio 94

مقبوضہ کشمیر میںکرفیو کا 85واں روز،سوپور میں دھماکہ، 15افراد زخمی، درگاہ چرارشریف میں زائرین کا داخلہ بند

Spread the love

سرینگر،برسلز، (مانیٹرنگ ڈیسک)مقبوضہ کشمیر میں5اگست سے جاری بھارتی

فوجی محاصرے اور انٹرنیٹ کی بندش کے باعث وادی کشمیر اور جموںکے مسلم

اکثریتی علاقوں میں پیر کو مسلسل 85ویں روز بھی معمولات زندگی مفلوج رہے ۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق علاقے میں سخت پابندیاں نافذ جبکہ انٹرنیٹ اور

پری پیڈ موبائل فون سروس معطل ہے۔جموںوکشمیر پر بھارتی قبضے اور حالیہ

اقدامات کے خلاف وادی کشمیر میں بڑے پیمانے پر غیرعلانیہ سول نافرمانی

جاری ہے ۔ دکانداروں نے اپنی دکانیں بند کررکھی ہیں، طلباء سکولوں سے غائب

جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ معطل ہے۔ قابض انتظامیہ نے مقبوضہ کشمیر میں حالات

معمول کے مطابق ہونے کے اپنے دعوئوں کی نفی کرتے ہوئے ضلع بڈگام کے

علاقے چرار شریف میں لوگوں کو درگاہ پر منعقدہ شبانہ عبادت میں شرکت سے

روک دیا ہے۔ بھارتی فورسز نے معروف صوفی بزرگ شیخ نورالدین ولی کی

درگاہ پر سالانہ دعائیہ مجلس میں شرکت کے لیے وادی کشمیر کے دوردراز

علاقوں سے آنے والے عقیدت مندوں کو درگاہ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں

دی۔ قابض انتظامیہ نے سالانہ تقریب سے ایک دن پہلے ہی علاقے کو بند کردیا

تھا۔سوپور بس اسٹینڈکے قریب ایک دستی بم کے حملے میںکم سے کم15 افراد

زخمی ہوگئے ہیں۔ فورسز نے علاقے کا محاصرہ کر کے گھر گھر تلاشی کی

کارروائی شروع کر دی ہے ۔ادھر 27اکتوبر کو جب بھارت نے جموںوکشمیر پر

غیر قانونی طورپر قبضہ کرلیاتھا کے سلسلے میں منائے جانیوالے یوم سیاہ کے

موقع پر یورپ کے دو بڑے دارلحکومتوں لندن اور برسلز میں بھارت مخالف

مظاہرے کئے گئے ۔ لندن کی 10ڈائوننگ اسٹریٹ پر احتجاجی مظاہرے کے

شرکاء نے وزیر اعظم کے دفتر میں ایک یادداشت پیش کی جس میںبرطانوی

حکومت پر کشمیری عوام کی مشکلات دور کرنے کیلئے اقوام متحدہ کی سلامتی

کونسل میںیہ معاملہ اٹھانے پر زوردیاگیا ۔کشمیر کونسل یورپی یونین کے زیر اہتمام

برسلز میں بھارتی سفارتخانے کے باہر ایک اور احتجاجی مظاہرے میں بھارتی

حکومت سے پابندیاںاٹھانے ، کشمیر سے فوجی انخلاء، اور کشمیریوںکو انکا حق

خودارادیت دینے کا مطالبہ کیاگیا۔دریںاثناء یورپی اراکین پارلیمنٹ کا 28رکنی وفد

کل مقبوضہ کشمیر کا دورہ کرے گا۔ یورپی رکن پارلیمنٹ بی این ڈن(BN

Dunn)نے جو وفد کا حصہ ہیں نئی دلی میں ایک ٹویٹ میں کہاہے کہ وفد

مقبوضہ کشمیر کی زمینی صورتحال کا جائزہ اور مقامی لوگوںسے بات کرنا چاہتا

ہے ۔

Leave a Reply