Kashmir Curfio 157

مقبوضہ کشمیر ، بھارتی فوج کے ہاتھوں نوجوان شہید،کرفیوبرقرار،ادویات اور خوراک کی شدید قلت

Spread the love

سرینگر(مانیٹرنگ ڈیسک)مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے اپنی ریاستی

دہشت گردی کی تازہ کارروائی کے دوران ضلع گاندربل میں ایک اور کشمیری

نوجوان کو شہید کردیا ۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق فوجیوںنے نوجوان کو

گاندربل قصبے میں تلاشی اور محاصرے کے دوران شہید کیا۔ کشمیر میڈیا سروس

کے مطابق وادی میں سخت ترین کرفیوبرقرار، وادی میں خوراک اور ادویات کا

بحران سنگین ترین ہوگیا ،قابض فوج نے ستمبر میں خاتون اور 2بچوں

سمیت16کشمیریوں کو شہید کیا، پرامن مظاہرین پر فائرنگ، شیلنگ اور پیلٹ گن

کے حملوں میں281 افراد زخمی کر دئیے۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی

فوج نے ہسپتالوں، تعلیمی اداروں، مساجد اور امام بارگاہوں پر تالے لگا دیئے ہیں

جبکہ موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس سمیت تمام تر مواصلاتی رابطے منقطع ہیں۔

کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سیدعلی گیلانی نے وادی کشمیر ،جموں

ریجن اور لداخ کے عوام سے چٹان کی طرح متحد رہنے کی اپیل کرتے ہوئے اس

عزم کا اعادہ کیا ہے کہ کشمیری عوام اپنی شناخت ، مذہب اور عزت و وقار پر

کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے ۔کشمیرمیڈیاسروس کوسرینگر سے موصول ہونے

والے ایک پیغام میں بزرگ رہنماء نے اس بات پر اعتماد کا اظہار کیا کہ کشمیری

عوام کی بے مثال قربانیاں ہرگزرائیگاںنہیں جائیں گی اور کشمیر کی آزادی کا

سورج جلد طلوع ہو گا۔ انہوںنے تمام کشمیری سیاست دانوں پر زوردیا کہ وہ

کشمیریوں کے خلاف بھارت کے مذموم عزائم میں اس کا آلہ کار بننے سے اجتناب

کریں۔ بھارتی تحقیقاتی ادارہ این آئی اے نے حریت قیادت پر مزید دبائو بڑھانے کی

غرض سے جموںوکشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک ، دختران

ملت کی سربراہ آسیہ اندرابی اورکل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنماء

مسرت عالم بٹ کے خلاف جھوٹے مقدمات میں ضمنی چارج شیٹ دائرکرنے کی

تیاریاں مکمل کرلی ہیں ۔نئی دلی کی تہاڑ جیل کی انتظامیہ نے غیر قانونی طورپر

نظربند محمد یاسین ملک کو ان کے خلاف تین دھائیاںقبل درج کئے گئے ایک

جھوٹے مقدمے میں انہیں جموںکی عدالت میںپیش کرنے سے انکار کردیا ۔دوسری

جانب بھارتی سپریم کورٹ نے آرٹیکل370کے خلاف درخواستوں کی سماعت

کرتے ہوئے نریندر مودی کی حکومت کوجواب داخل کرنے کے لیے 4ہفتوں کی

مہلت دے دی۔بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی سپریم کورٹ کے ججز پر مشتمل

پانچ رکنی بنچ نے آرٹیکل 370منسوخ کرنے اور کشمیر کے موجودہ حالات سے

متعلق دائرکردہ درخواستوں کی سماعت کی۔سماعت میں بھارتی حکومت کے

اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال نے حکومت کی جانب سے جواب داخل کرانے

کے لیے چار ہفتوں کا وقت طلب کیا جبکہ اتنا ہی وقت بھارت مقبوضہ ریاست

کشمیر کے وکیل نے بھی جواب دہی کیلیے طلب کیا۔بھارتی سپریم کورٹ نے

جواب دہی کے لیے حکومت کو 28 دن کی مہلت دیتے ہوئے ہر صورت جواب

داخل کرانے کی ہدایت کی اور کہا کہ کشمیر کے معاملے پر مزید نئی درخواستیں

نہیں لی جائیں گی۔عدالت نے درخواست گزاروں کو بھی حکم دیا کہ حکومت کی

جانب سے جواب جمع کرانے کے ایک ہفتے کے اندر حکومتی جواب پر اپنا

ردعمل جمع کرائیں گے۔ بھارتی سپریم کورٹ 14 نومبر کو حکومتی جواب پر

درخواست گزاروں کے دلائل سنے گا۔

Leave a Reply