0

مقبوضہ کشمیرمیں 24اسلامی اورپاکستانی ٹی وی چینلزکی نشریات پر پابندی

Spread the love

سرینگر(مانیٹرنگ)مقبوضہ کشمیر میں قابض انتظامیہ نے ضلع بانڈی پورہ میں 24اسلامی اور پاکستانی چینلز کی نشریات پر پابندی لگائی ہے تاکہ پلوامہ حملے کے بعد پیدا ہونی والی صورتحال سے عوام کو بے خبر رکھا جائے۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق بانڈی پوہ کے ضلع مجسٹریٹ کی طرف سے جاری کئے گئے حکمنامے میںتمام کیبل آپریٹرز کو کہاگیا ہے کہ وہ فوری طورپر ان چینلز کی نشریات بند کردیں۔ حکمنامے میں کہاگیا ہے کہ کیبل آپریٹرزضلع بانڈی پورہ میںایسے پروگرام نشر کررہے ہیں جن سے امن وقانون کے مسائل پیدا ہورہے ہیں۔ ان چینلز میں پیس ٹی وی اردو، پیس ٹی وی انگلش، اے آروائی کیو ٹی وی،مدنی چینل، نور ٹی وی، ہادی ٹی وی، پیغام، ہدایت، سعودی السنہ النبویہ،سعودی القرآن الکریم، سحر،میسیج ٹی وی، ہم ٹی وی، اے آر وائی ڈیجیٹل ایشیا،ہم ستارے، اے آر وائی زندگی، پی ٹی وی سپورٹس، اے آر وائی میوزک، ٹی وی ون، اے آروائی مسالہ، اے آر وائی زوگ،اے ٹی وی، کربلا ٹی وی، جیو نیوز، اے آر وائی نیوایشیا ، اب تک نیوز، واسب ٹی وی ،92 نیوز، دنیا نیوز، سماء نیوز، جیو تیز، ایکسپریس نیوز ، اے آر وائی نیوزاور اہل بیت ٹی وی شامل ہیں۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ مقبوضہ علاقے میں ان تمام چینلز پر پہلے ہی پابندی عائد ہے۔دوسری جانب مقبوضہ کشمیرمیں والدین اپنے بچوں کوبھارت کے ان تعلیمی اداروں میں واپس بھیجنے پرتذبذب کا شکا رہیں جو مختلف بھارتی ریاستوں میں حملوں کے بعد واپس اپنے گھر آئے تھے ۔کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق پلوامہ واقعے کے بعدکشمیریوںبالخصوص بھارت کی مختلف ریاستوں میں زیر تعلیم طلباء پر حملے اورہراساں کرکے تعلیمی ادارے چھوڑنے پر مجبور کیا گیا تھا۔ ان حملوںسے ہزاروں کشمیری طلباء کی تعلیم شدید متاثر ہوئی ہے اوروہ تعلیم ادھوری چھوڑکر واپس اپنے گھروں کو آگئے ہیں۔ سرینگر کے ایک رہائشی ہاشم اندرابی نے صحافیوںکو بتایا کہ ان کا بیٹا دہرادون کے دیو بھومی کالج میں ہندو انتہا پسندوں کے حملے میں بال بال بچ گئے جہاں وہ انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کررہا تھا ۔ انہوں نے کہاکہ میں اب اس کو وہاں دوبارہ بھیجنے کا خطرہ مول نہیں لوں گا۔ شاہینہ پنڈت نے جن کی بیٹی اترا کھنڈ کے پی جی کالج میں زیر تعلیم تھی۔

Leave a Reply