Kashmir Curfio

مقبوضہ کشمیر، فوجی محاصرے کا 131واں روز، صورتحال بدستور ابتر

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سرینگر(مانیٹرنگ ڈیسک)مقبوضہ کشمیر میں جمعتہ المبارک کومسلسل 131ویں روز بھی بھارتی

فوجی محاصرہ جاری رہا جس کی وجہ سے وادی کشمیر اور جموںخطے کے مسلم اکثریتی علاقوں

میںصورتحال بدستور ابتر ہے۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق دفعہ 144کے تحت نافذ پابندیوں اور

انٹرنیٹ اور پری پیڈ موبائل فون سروسز کی معطلی کے باعث کشمیریوںکو سخت مشکلات کا سامنا

ہے ۔ محاصرے اور پابندیوں کیوجہ سے لوگوں کو غذا، زندگی بچانے والی ادویات اور دیگر بنیادی

ضروریات زندگی کی سخت قلت درپیش ہے جبکہ بڑھتی ہوئی ٹھنڈ نے بھی انکی مشکلات بڑھا دی

ہیں۔ دریں اثنا مقبوضہ علاقے کے دور دراز دیہاتوں میں دل کے امراض میں مبتلا لوگوں کا علاج

کرنے والے ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں انٹرنیٹ کی معطلی لوگوں کی زندگیوں کے

زیاں کا سبب بن سکتی ہے ۔ انٹرنیٹ کی عدم دستیابی کی وجہ سے سیو ہارٹ انیشیٹو(Save Heart

Initiative) کے نام سے باسوڈاکٹروں پر مشتمل وٹس ایپ گروپ رواں برس پانچ اگست سے

معطل ہے۔گروپ کے ایک بانی ڈاکٹر ناصر شمس کا کہنا ہے کہ مذکورہ گروپ انکے لیے لوگوں کی

زندگیاں بچانے کا ایک ذریعہ تھا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ گروپ حقیقت میں ایک چلتا پھرتا ہسپتا ل تھا

جس کے ذریعے سے کشمیر بھر میں دل کے مریضوں کی مدد کی جاتی تھی۔ڈاکٹر شمس نے مطالبہ

کیا کہ مقبوضہ کشمیر میں انٹرنیٹ بحال کیا جائے تاکہ وہ اپنے گروپ کو دوبارہ سے فعال کر سکے۔

ادھر امریکی کانگرس کے رکن اسٹیو واٹکنز نے 5 اگست کو بھارتی حکومت کی جانب سے آئین کی

دفعہ 370 جس کے تحت جموںوکشمیر کو خصوصی حیثیت حاصل تھی کی منسوخی کے بعد مقبوضہ

کشمیر کی موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اسٹیو واٹکنز نے کشمیر کی صورتحال پر

تشویش کا اظہار بھارتی نژاد امریکی کانگرس کی خاتون رکن پرامیلا جیاپال کی طرف سے امریکی

ایوان نمائندگان میں کشمیر کے بارے میں ایک مذمتی قرارداد پیش کرنے کے چند دن بعد کیا ہے۔انہوں

نے ایوان نمائندگان سے اپنے خطاب میں جموں و کشمیر کے عوام کیلئے جمہوریت اور آزادی کی

حمایت کی اور مقبوضہ علاقے میں مذہبی اقلیتوں کے تحفظ کی اہمیت کو اجاگر کیا ۔دریں اثناء

سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف)کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر میں طویل بندشیں اور غیر

اعلانیہ ہڑتال کی وجہ سے سلامتی کے لیے حالات خراب ہوسکتے ہیں۔ سی آر پی ایف کی جانب سے

جاری کردہ رپورٹ کے مطابق وادی کشمیر کی موجودہ صورتحال کے دوران پریشانی پیدا کرنے

والوں کو احتجاج اور مسلح جدوجہد کی نئی لہر شروع کرنیکا موقع مل سکتا ہے۔ فوجی اہلکار پر

حملہ ہونے کا بھی زیادہ خطرہ بن سکتا ہے، کیونکہ وہ عارضی کیمپوں میں مقیم ہیں۔مرکزی حکومت

کی جانب سے 5 اگست کو دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد سے سی آر پی ایف کی سات اضافی بٹالین

(تقریبا 75000 سکیورٹی اہلکار)کو وادی کشمیر بھیج دیا گیا۔وادی کشمیر میں مسلسل 131 دن سے

پابندیاں اور غیر یقینی صورتحال جاری ہے۔رپورٹ کے مطابق وادی میں موجود سی آر پی ایف

اہلکاروں کی بڑی تعداد وہاں فوجیوں کے لئے اطمینان کا باعث نہیں ہے۔ ایک سیکورٹی اہلکار نے

بتایا ہے کہ وادی کشمیر میں شدت پسندوں کی دراندازی اور نقل و حرکت میں اضافے کے باوجود اب

تک مجموعی طور پر سکیورٹی کی صورتحال میں عسکریت پسندوں کی طرف سے بڑے حملے نہیں

ہوئے ہیں۔ وادی میں طویل عرصے سے لاک ڈاؤن احتجاج اور مسلح جدوجہد کی نئی لہر دوبارہ

شروع ہونے کا موقع فراہم کرسکتا ہے۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply