Kashmir Curfio 87

مقبوضہ کشمیر،پابندیاں 60روز بھی مسلسل جاری‘نظام زندگی درہم برہم

Spread the love

سرینگر(مانیٹرنگ ڈیسک)مقبوضہ وادی کشمیر اور جموںکے مسلم اکثریتی علاقوں

میںآج فوجی محاصرے اور مواصلاتی پابندیوں کو 60روز مکمل ہوگئے ہیںجس کی

وجہ سے کشمیری عوام کو شدید مشکلات کاسامنا ہے ۔ کشمیرمیڈیاسروس کے

مطابق مقبوضہ علاقے کے اطراف و اکناف میں بڑی تعداد میں تعینات بھارتی

فوجیوںکی وجہ سے کشمیری عوام مسلسل شدید خوف و ہراس کا شکار ہیں۔

کشمیری عوام مواصلات سے پہلے کے دور میں زندگی بسر کررہے ہیں کیوں کہ

موبائل فون اور انٹرنیٹ سروسز موجود نہیں ہیں۔ اگرچہ کچھ علاقوں میں لینڈ لائن

سروس بحال کردی گئی ہے تاہم موبائل فون کے مقابلے میں لینڈ لائن کنکشنوں کی

تعدادکافی کم ہے۔تمام مرکزی بازار بند ہیں۔ دفاتر اور تعلیمی ادارے اگرچہ کھلے

ہوئے ہیں لیکن شاید ہی کوئی وہاں کا رخ کرتاہے ۔ پبلک ٹرانسپورٹ کی عدم

موجودگی کے باعث کچھ کلومیٹر کا فاصلہ بھی انتہائی طویل لگتا ہے کیونکہ وہاں

تک پہنچنے کیلئے کئی سیکیورٹی چیک پوسٹیں عبورکرنا پڑتی ہیں۔مواصلاتی

پابندیوںکی وجہ سے وادی کشمیر کے مختلف حصوںمیں رہنے والے کشمیریوںکا

ایک دوسرے سے کوئی رابطہ نہیں ہے ۔ اگرچہ مقامی اخبارات روزانہ شائع ہوتے

ہیں ، لیکن وہ اب صرف چند صفحات تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں اوران بنیادی

طور پر حکومت کے موقف اور بعض سیاسی معاملات کو اجاگر کیاجاتا ہے ۔

انٹرنیٹ کی عدم موجودگی میں بیشتر اخبارات 5 اگست کے بعد سے اپنے آن لائن

ایڈیشن اپ ڈیٹ نہیں کر پارہے ہیں۔ مواصلاتی پابندیوں کے باعث ہسپتال بری طرح

متاثرہو ئے ہیں صحت کی مختلف اسکیموں کے تحت بہت سے کیسز کی کلیئرنس

تاخیر کا شکار ہے ۔ مختلف اسپتالوں نے انتظامیہ سے کم سے کم لیز لائن دینے کی

درخواست کی ہے تاکہ وہ ان کیسز کو جلد سے جلد نمٹایاجاسکے ۔تاہم ان کی

درخواستوں پر کوئی کارروائی نہ ہونے سے مریضوں کو بدترین صورتحال کا

سامنا ہے ۔ایک ہسپتال کی انتظامیہ نے میڈیا کو بتایا کہ انٹرنیٹ نہ ہونے کے باعث

ہم تذبذب کا شکار ہیں کیونکہ ہم مریضوںکو ہسپتال سے نکال بھی نہیں سکتے اور

ہم ان کے کیسز پرکارروائی بھی نہیں کرسکتے ۔ انٹرنیٹ کی بندش کے باعث

ہسپتالوںکے مختلف شعبوں کیلئے ضروری ترقیاتی منصوبوںپر کام بھی بری طرح

متاثر ہو اہے کیونکہ ٹینڈرز جاری نہیں کئے جاسکے ہیں۔ صورہ انسٹیٹیوٹ آف

میڈیکل سائنسز مختلف اخبارات میں ای ٹینڈرز شائع کرتاہے تاہم انٹرنیٹ کی عدم

موجودی کے باعث ٹینڈر جاری نہیں کئے جاسکے اورکام کا مزید بوجھ بڑھ گیا

ہے ۔

Leave a Reply