Kashmir Curfio

مقبوضہ کشمیر،مسلسل 87ویں روز بھی معمولات زندگی بری طرح مفلوج

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سرینگر(مانیٹرنگ ڈیسک)مقبوضہ کشمیر میں سرینگر اور دیگر علاقوں میں پر

امن مظاہرین پر بھارتی فورسز کی طرف سے فائرنگ میں متعدد افراد زخمی ہو

گئے ہیں۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق یورپی پارلیمنٹ کے ارکان کے ایک وفد

کے دورے پرمقبوضہ علاقے میں احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔ بھارتی فورسز

نے سرینگر شہر کے مختلف علاقوں سمیت وادی کشمیر کے دیگر قصبوںمیں

آزادی کے حق میں مظاہروں کے شرکاء پر گولیوں، پیلٹ گنوںاور آنسو گیس سمیت

طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا۔ سرینگر اور دیگر علاقوںمیں مظاہرین اور فورسز

اہلکاروںکے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجی

محاصرے اورانٹرنیٹ پر پابندی کے باعث وادی کشمیر اور جموںکے مسلم اکثریتی

علاقوں میں آج مسلسل 87ویں روز بھی معمولات زندگی بری طرح مفلوج ہیں۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق علاقے میں دفعہ 144کے تحت سخت پابندیاں نافذ

ہیں جبکہ انٹرنیٹ اور پری پیڈ موبائل فون سروس بھی معطل ہے۔ دکانیں اور

کاروباری مراکز بھی دن بھر بندرہتے ہیں جبکہ تعلیمی ادارے ویرانی کا منظر

پیش کرر ہے ہیںاور دفاتر میں سرکاری ملازمین کی حاضری کم ہے۔دوسری جانب

کانگریس کے رہنماء راہول گاندھی نے یورپی یونین کے وفد کو مقبوضہ کشمیر

کے دورہ کی اجازت دینے کے بھارتی حکومت کے اقدام پر سوال اٹھاتے ہوئے

کہاہے کہ یورپی اراکین پارلیمنٹ کو تو مقبوضہ کشمیر کے دورے کی اجازت

دیدی گئی ہے تاہم بھارتی اراکین پارلیمنٹ کا جموںوکشمیر میں داخلہ ممنوع ہے۔

انہوںنے کہاکہ یہ طرز عمل درست نہیں ہے۔ کانگرس کے ایک اور لیڈر جے رام

رمیش نے کہاہے کہ یہ اقدام بھارت میںپارلیمنٹ اور جمہوریت کی توہین ہے۔

بھارت کی حکمران جماعت بی جے پی سے تعلق رکھنے والے رکن پارلیمنٹ

سبرامنیم سوامی نے بھی یورپی یونین کے وفد کو مقبوضہ کشمیر کے دورے کی

اجازت دینے کے حکومتی فیصلے کو ہدف تنقید بنایا۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply