Kashmir Curfio 139

مقبوضہ کشمیر،بھارتی فوجی محاصرہ اورپابندیاں 125ویں روز بھی جاری

Spread the love

سرینگر(مانیٹرنگ ڈیسک)مقبوضہ کشمیر میں آج مسلسل125ویں روز بھی بھارتی فوجی محاصرہ اور

سخت پابندیا ں بر قرار ہیں جس کی وجہ سے وادی کشمیر اور جموںکے مسلم اکثریتی علاقوں میں

خوف ودہشت کا ماحول بدستور قائم اور غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ کشمیرمیڈیا سروس کے

مطابق مقبوضہ علاقے میں دفعہ 144کے تحت سخت پابندیاں نافذ ہیں ، چپے چپے پر لاکھوں بھارتی

فوجی تعینات ہیں جبکہ انٹرنیٹ ، پری پیڈ موبائل اور ایس ایم ایس سروسز بدستور معطل ہیں جسکے

سبب معمولات زندگی بری طرح سے مفلوج ہیں۔ سکول اور دفاتر ویرانی کا منظر پیش کر رہے ہیں

جبکہ سڑکوں پر پبلک ٹرانسپورٹ کم نظر آرہی ہے۔ دریں اثناء کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ

انڈسٹریز(کے سی سی آئی) کے صدر شیخ عاشق حسین نے سرینگر میں ایک انٹرویومیںکہاکہ بھارت

کی طرف سے رواں برس پانچ اگست سے مسلط کر دہ فوجی محاصرے اور انٹرنیٹ کی بندش کے

سبب مقبوضہ علاقے کی معیشت کو اب تک 15ہزار کروڑ کا نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ

معیشت کو پہنچے والے نقصان کے حوالے سے یہ محض ایک ابتدائی جائزہ ہے جبکہ وہ نقصانات

کے حوالے سے جامع اعداد و شمار ایک ہفتے کے اندر اندر سامنے لائیں گے۔ شیخ عاشق حسین نے

کہا کہ ہوٹلوں اور ریستوران میں کام کرنے والے 30ہزار سے زائد ملازمیں ملازمت سے محروم ہو

چکے ہیں جبکہ ای کامرس کے شعبہ سے وابستہ 10ہزار افراد ملازمت سے فارغ ہو گئے۔ کے سی

سی آئی کے صدر نے مزید کہا کہ کشمیر میں پانچ اگست کے بعد تجارتی برادری کے بہت سے ارکان

کو بھی حراست میں لیا گیا ہے جنہیں تاحال رہا نہیں کیا گیا۔ شیخ عاشق حسین نے کہا کہ جب لوگوں

کو غیر یقینی صورتحال کا مسلسل سامنا ہو تو ایسی حالت میں کوئی ترقی یا کاروباری سرگرمی نہیں

ہوسکتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ کے سی سی آئی جلد ایک جامع رپورٹ جاری کرے گی جس میں

ہر شعبے کو پہنچنے والے نقصانات کے علیحدہ علیحدہ اعداد وشمار پیش کیے جائیں گے۔دوسری

جانبجموںو کشمیر لبریشن فرنٹ نے نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں غیر قانونی طور پر نظر بند پارٹی

چیئرمین محمد یاسین ملک کی زندگی کی درپیش خطرات کے حوالے سے اسلام آباد میں اقوام متحدہ

کے مبصرین دفتر میں عالمی ادارے کے سیکرٹری جنرل انتونیو گرتریس کے نام ایک یاد داشت پیش

کی ہے۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق یاد داشت پیش کرنے والے لبریشن فرنٹ کے وفد کی قیادت

وائس چیئرمین حافظ محمد انور سماوی کر رہے تھے جبکہ وفد میں پارٹی کے مرکزی ترجمان محمد

رفیق ڈار، وائس چیئرمین سلیم ہارون، راولپنڈی اسلام آباد ڈویژن کے صدر سردار جمشید کے علاوہ

پارٹی رہنما وحید شوکت شامل تھے۔ یادداشت میں سیکرٹری جنرل کو تفصیل سے آگاہ کیا گیا کہ محمد

یاسین ملک کو رواں سال 22 فروری کو سرینگر میں گرفتاری کے بعد کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ

کے تحت پہلے 7 مارچ کو جموں جیل اور پھر وہاں سے 9 مئی کو تہاڑ جیل منتقل کیا گیاجہاں انہیں

بدنام زمانہ بھارتی تحقیقاتی ادارے نے حکومت کی ایماء پر ایک جھوٹے مقدمے میں تاحال ایک تنگ

و تاریک کال کوٹھری میں پابند سلاسل کر رکھا ہے۔یاد داشت میںکہا گیا کہ محمد یاسین ملک کو طبی

سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے جس کی وجہ سے ان کی صحت کافی گرچکی ہے۔ یادداشت میں کہا

گیا ہے کہ بھارتی حکومت محمد یاسین ملک کو کشمیریوں کیلئے حق خود ارادیت کا مطالبہ کرنے کی

پاداش میںسیاسی انتقام کا نشانہ بنا رہی ہے اور وہ ان کی جان لینے کے در پے ہے۔محمد رفیق ڈار کی

طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یادداشت میں محمد مقبول بٹ شہید اور محمد افضل

گورو شہید کی مثالیں دیکر سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سے اپیل کی گئی کہ وہ یاسین ملک کی

جان بچانے کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔

Leave a Reply