مفتی تقی عثمانی پر قاتلانہ حملہ ، موقع پر موجود عوام کی غفلت

Spread the love

(خصوصی رپورٹ)
پاک بھارت کشیدگی اور بھارتی جنگی طیاروں کے مار گرائے جانے کے بعد

حالات مزید خراب ہوئے اور بھارت کے معاندانہ رویئے میں فرق نہ آیا۔ بھارتی

وزیراعظم کو خفت کا سامنا ہوا تو یہ خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ پاکستان میں تخریب

کاری و دہشتگردی کی وارداتیں ہوں گی۔ اس سلسلے میں خود ہمارے وزیراعظم

نے بھی ایک سے زیادہ بار کہا بھارتی انتخابات تک کچھ بھی ہوسکتا ہے، ہمیں

خبردار رہنا ہوگا، چنانچہ بھارتی فضائیہ کی ہزیمت کے بعد ہی سے بلوچستان میں

بم دھماکے وفائرنگ کی وارداتوں میں اہلکار شہید ہوئے تو کراچی میں ٹارگٹ

کلنگ کی وارداتیں ہونے لگیں۔ اس عرصہ میں رینجرز اور پولیس نے متعدد

’’ٹارگٹ کلرز‘‘ کو گرفتار بھی کیا، بتایا گیا ہے کراچی میں بدامنی کے منصوبہ

کا ہدف حیدر آباد اور میر پور بھی ہوسکتے ہیں۔ اس سلسلے میں الرٹ بھی جاری

کیا گیا تھا۔ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ بہرحال ہوئی اور اکا دکا وارداتوں میں شہری

مارے بھی گئے۔ گزشتہ روز سینپا چورنگی کے قریب کی جانے والی فائرنگ

جہاں ٹارگٹ کلنگ ہے وہاں ایک گھمبیر سازش بھی ہے کہ کراچی کا امن تباہ

ہوسکے۔ ممتاز عالم دین شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی کی کار پر موٹر سائیکل

سوار قاتلوں نے فائرنگ کی۔ مفتی تقی عثمانی کے بقول فائرنگ دو مرتبہ کی

گئی، پہلی مرتبہ یہ ملزم فائرنگ کرکے چلے گئے۔ پھر واپس آئے اور دوبارہ

فائرنگ کی۔ اس حملے میں مفتی تقی عثمانی تو محفوظ رہے تاہم ان کا ڈرائیور

اور محافظ پولیس کانسٹیبل شہید ہوگئے۔ یہ ایک انتہائی افسوسناک واردات ہے

جس کی وزیراعظم سے لے کر تمام اکابرین نے بھرپور مذمت کی اور ایسی

وارداتوں کو روکنے کا حکم دیا اور مطالبہ کیا کراچی اور سندھ کے دوسرے

شہروں میں رینجرز اور پویس نے انتھک جدوجد کی اور جانوں کی قربانیاں دیں

جب کہیں امن بحال ہوا اور انتظامیہ پی ایس ایل کے آٹھ میچ کرانے میں کامیاب

رہی تھی۔ جس سے کراچی کی روشنیاں اور رونق لوٹ آئی تھی۔ دشمن کو یہ

گوارا نہیں ہے اس لئے بلوچستان اور کراچی میں خون بہایا گیا۔ رینجرز اور

پولیس پھر چوکس ہوئی اور اب ملزموں کے خلاف گھیرا تنگ ہونے لگا ہے تو

ایسی وارداتیں شروع کردی گئی ہیں جو بڑے فساد کا ذریعہ بن جائیں، تاہم اللہ کے

کرم سے یہ ممکن ہی نہ ہوا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ صرف رینجرز اور

پولیس ہی نہیں بلکہ پاکستان کے عوام کو بھی ہمہ وقت چوکس رہنا چاہیے تاکہ

دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملایا جا سکے ، جناب مفتی تقی عثمانی کی

بات کہ شرپسندوں نے دو مرتبہ ان پر فائر کی پر غور کیا جائے تو اس میں موقع

پر موجود لوگوں کی سستی و لاپرواہی بھی نظر آتی ہے ورنہ دوسری مرتبہ

دہشتگردوں کو فائرنگ کی جرات تک نہیں ہونی چاہیے تھے بلکہ اس سے قبل

قانون نافذ کرنےوالوں کو الرٹ کرنے کے ساتھ ساتھ کم از کم ایسے اقدامات

اٹھائے جاتے کہ دہشتگردوں کا ارتکاب واردات کے بعد وہاں سے فرار ممکن نہ

ہوپاتا.ہم امید کرتے ہیں کہ عوام بھی اپنے محافظ اداروں کے ساتھ بھرپور تعاون

کو یقینی بنائیں گے کیونکہ ارض پاک اورعوام کے محا فظ اداروں نے ثابت کر

دیا ہے کہ وہ چوکنا ہیں اور ملک و قوم کا تحفظ کرنا جانتے ہیں ،مگر یہ مسلمہ

حقیقت ہے کہ کوئی بھی ادارہ عوام کے تعاون کے بغیر اپنی کارکردگی کو بہتر

سے بہتر نہیں بنا سکتا .

Leave a Reply