oh my God jtn-online

مغرب کو کرونا وباء، لاک ڈاؤن کے بعد ایک اور سنگین بحران کا خطرہ

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نیویارک (جے ٹی این آن لائن خصوصی رپورٹ) مغرب کرونا وباء

نفسیاتی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ لاک ڈاؤن کے ختم ہوتے ہی نفسیاتی مسائل

کے شکار افراد کا سونامی آئے گا- کیونکہ ممکنہ طور پر لاک ڈاؤن کے دوران

بہت سارے لوگ ذہنی مسائل کا شکار بن رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ذہنی مسائل

سے عمر رسیدہ افراد اور بچے زیادہ متاثر ہوسکتے ہیں-

——————————————————————————
یہ بھی پڑھیں : روس میں اپنے بچوں کی قاتل مائوں کی تعداد میں اضافہ
——————————————————————————

ماہرین کا کہنا ہے سکولوں کی بندش اور عمر رسیدہ افراد کو تنہا رکھنے کی

کوشش کے باعث وہ الجھن کا شکار بن رہے ہیں، انہیں ہسپتالوں میں بھی اس وقت

علاج کی سہولیات نہیں مل رہیں۔ ایک سروے سے معلوم ہوا کہ نفسیاتی ماہرین کی

جانب معمول کے مطابق آنیوالے مریضوں کے بجائے ایمرجنسی میں آنیوالے

مریضوں میں اضافہ ہوا ہے۔

کرونا وائرس کے ذہنی صحت پر منفی اثرات ، مریضوں کی تعداد میں اضافہ
—————————————————————————

رائل کالج آف سائیکاٹرسٹس کے صدر وینی برن کے مطابق کرونا وائرس کے

ذہنی صحت پر منفی اثرات کو دیکھا گیا تھا، مگر اب ایسے مریضوں کے مرض

میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ ذہنی

مسائل کا شکار ہونیوالے افراد کو طبی امداد ہی نہیں مل پا رہی، جنہیں اس کی

ضرورت ہے، اور اسی وجہ سے لاک ڈاؤن کے بعد ذہنی بیماریوں کا سونامی آنے

کا اندیشہ ہے۔

ایمرجنسی کیسز میں 43 فیصد اضافہ
————————————

برطانیہ بھر میں 1300 نفسیاتی ماہرین سے کیے جانیوالے سروے سے معلوم ہوا

کہ انکے ہاں ایمرجنسی میں آنیوالے کیسز میں 43 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ معمول

کے مطابق آنیوالے کیسز میں حیران کن طور پر 45 فیصد کمی دیکھی گئی۔ ایک

ماہر نفسیات کے مطابق انکے خیال میں ذہنی مسائل میں مبتلا پرانے مریض جو

کہ معمول کے مطابق چیک اپ کیلئے آتے تھے وہ سنگین مسائل کا شکار ہیں-

لاک ڈاؤن سے ذہنی مسائل اور نفسیاتی دباؤ میں اضافہ
—————————————————–

وہ مدد اور طبی امداد لینے سے خوف زدہ ہیں۔ ایک اور ماہر نفسیات کے مطابق

کرونا وائرس نے براہ راست لوگوں کی ذہنی صحت پر اثرات مرتب کیے ہیں، اور

لوگ ذہنی مسائل کا شکار بن رہے ہیں، لاک ڈاؤن سے ذہنی دباؤ میں اضافہ ہوا ہے۔

بچے، نو عمر اور عمررسیدہ افراد زیادہ متاثر
——————————————–

رائل کالج آف سائیکاٹرسٹ میں نو عمرافراد کی نفسیات کی فیکلٹی کے سربراہ کے

مطابق انہیں اس بات پر شدید تحفظات ہیں کہ بچے اور نو عمر افراد جس لاک

ڈاؤن کے باعث ذہنی مسائل کا شکار ہیں، وہ طبی امداد نہیں لے پا رہے۔

بزرگ افراد کی مشکلات لاک ڈاؤن میں مزید بڑھ گئیں
—————————————————–

عمر رسیدہ افراد کے ذہنی مسائل کی ماہر ڈاکٹر امانڈا تھامپسل کے مطابق بزرگ

افراد پہلے ہی ٹیکنالوجی کا استعمال کم کرتے تھے، اور لاک ڈاؤن میں ان کی

مشکلات میں مزید اضافہ ہوا ہے، وہ ٹیکنالوجی کو استعمال نہ کرپانے اور اپنے

معالج کے پاس نہ آ پانے کی وجہ سے سخت مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

خود کو غیر محفوظ سمجھنے کا رحجان بڑھ گیا
———————————————–

ذہنی صحت پر کام کرنیوالی تنظیم ری تھنک مینٹل النیس نے بھی کرونا وائرس

اور لاک ڈاؤن کے دوران لوگوں میں ذہنی مسائل بڑھ جانے کی تصدیق کی ہے۔

تنظیم کی جانب سے ایک ہزار افراد سے کیے گئے سروے میں زیادہ تر افراد نے

یہی بتایا کہ وبائی مرض پھیلنے اور لاک ڈاؤن کے بعد ان کے ذہنی مسائل بڑھ

گئے ہیں، اور ماضی کی طرح معمول کے مطابق زندگی نہیں گزار رہے، اور خود

کو پہلے کی طرح محفوظ بھی نہیں سمجھتے۔

——————————————————————————
دوستو : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر کریں، فالو کریں اپڈیٹ رہیں
——————————————————————————

تنظیم کی عہدیدارڈینیلا ہم کا کہنا تھا کہ برطانیہ کا قومی ادارہ صحت اچھا کام کر

رہا ہے، مگر ذہنی صحت سے متعلق کام کرنے کو ترجیح ہونا چاہیے، اس شعبے

پر مزید سرمایہ کرکے مستقبل کے حالات سے نمٹا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق

ذہنی مسائل کا شکار ہونیوالے افراد کو صحتیاب ہونے میں کئی سال لگ سکتے

ہیں-

مغرب کرونا وباء

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply