شوکت ترین نیب اپیلیں

معیشت استحکام کی طرف گامزن ، بجلی مہنگی کرنے سے صاف انکار کر دیا،وزیر خزانہ

Spread the love

معیشت استحکام کی طرف

اسلام آباد (جے ٹی این آن لائن نیوز) وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے جوبائیڈن انتظامیہ کو پاکستان

کا پیغام پہنچاتے ہوئے کہا ہے کہ ہم امریکا سے پیسے نہیں بلکہ تجارت چاہتے ہیں۔ آئی ایم ایف کو

کہہ دیا ہے کہ ہم تنخواہ دار طبقے پر مزید بوجھ نہیں ڈالیں گے، ہم اور اپنے ذرائع سے ریونیو

بڑھائیں گے۔ بجلی کی قیمت بحائیں گے نہ ہی کوئی نیا ٹیکس لگایا جائیگا ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف

کے ساتھ مذاکرات چل رہے ہیں، دونوں کی منزل ایک ہے، ہم غریب طبقے پر مزید بوجھ نہیں ڈالیں

گے، عالمی مالیاتی ادارے کو ریونیو بڑھانے کیلئے متبادل پلان پیش کر دیا ہے۔وفاقی وزیر خزانہ

شوکت ترین نے انکشاف کیا عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے کہا تھا کہ بجلی مہنگی کرو، پر

وزیراعظم نے انکار کر دیا، آئی ایم ایف نے کہا ٹیکس بڑھاؤ، وہ بھی منع کردیا اور صاف کہا کہ

غریب اور تنخواہ دار پر بوجھ نہیں ڈال سکتے۔ قومی اقتصادی سروے کی پریس کانفرنس میں انکشاف

کرتے ہوئے شوکت ترین کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے عالمی ادارے کو بتادیا کہ نہ بجلی

مہنگی کریں گے ، نہ ٹیکس بڑھائیں گے۔ وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ پائیدار شرحِ نمو آئی ایم ایف اور

پاکستان کا مشترکہ ہدف ہے ،یہ ہدف کیسے حاصل ہوگا؟ عالمی ادارے سے متبادل ذرائع پر مذاکرات

جاری ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ چین ساڑھے 8 کروڑ نوکریاں آؤٹ سورس کررہا ہے ، اکنامک

زونز بنانے کے لیے چین کو مراعات دینے کو تیار ہیں شوکت ترین نے کہا کہ حکومتی پالیسیوں کے

باعث معیشت مستحکم ہوئی، بیشتر اہداف حاصل کر لئے ہیں۔ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ میں ایک بلین ڈالر

سے زائد ہو چکے ہیں۔ گیس بجلی، تعمیراتی اور زرعی شعبے میں مراعات دیں۔ اب مہنگائی کو

روکنے کی کرکوشش کر رہے ہیں۔وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے مالی سال 21-2020 کا قومی

اقتصادی سروے پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ معیشت بہتراور ہم استحکام کی طرف بڑ ھ رہے ہیں

،گندم، چینی، دالیں، گھی درآمد کررہے ہیں جس کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر قیمتوں میں آنے

والے اتار چڑھاؤ سے متاثر ہیں ،بچ نہیں سکتے،عالمی منڈی میں گندم کی قیمت میں 29 فیصد اضافہ

ہوا تو ہمیں بھی 29 فیصد ہی بڑھانی پڑی اس میں فرق نہیں،ہم قیمتیں کنٹرول کرنے کی کوشش

کررہے ہیں ،یہ ابھی بھی زیادہ ہیں جس کا اثر عام آدمی پر پڑ رہا ہے ،بجٹ میں غریب پر توجہ دی

گئی ہے،،زرعی شعبے اشیائے خورونوش کے گودام اور کولڈ اسٹوریج لارہے ہیں جس سے آڑھتیوں

سے جان چھوٹے گی ، ہم 4 سے 5 اہم چیزوں، گندم، چینی، دالیں میں اسٹریٹجک ریزرو بنا رہے ہیں

،کووڈ میں 2 کروڑ افراد بے روزگار ہوئے،احساس پروگرام کو ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے ایک کروڑ 50

لاکھ گھرانوں تک پہنچایا ،ایمرجنسی کیش اور دیگر مراعات دی گئیں،وزیراعظم کے کامیاب جواب

پروگرام سے ساڑھے 8 سے 9 ہزار افراد مستفید ہوچکے ہیں،رواں مالی سال کے دوران معاشی شرح

نمو 4 فیصد سے زائد رہے گی،ترسیلات زر 26 ارب ڈالر سے تجاوز کرچکی ہیں ، ہمارے اندازے

کے مطابق 29 ارب ڈالر تک جائیں گی،قرضوں میں اضافہ گزشتہ برس کے مقابلے نصف سے بھی

کم ہے،مارچ کے بعد سے ماہانہ بنیاد پر ٹیکس کلیکشن کی نمو 50 سے 60 فیصد زیادہ ہے ، ٹیکس

کلیکشن تخمینے سے بڑھنے کا امکان ہے،ہم 47 کھرب روپے کے تخمینے سے بھی آگے نکل جائیں

گے، ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے اچھی کارکردگی ہے ،آئندہ جائزاتی اجلاس میں ہمیں ریلیف مل

جائیگا، میں اس وقت پیش گوئی نہیں کرسکتا ہم گرے سے وائٹ لسٹ پر آجائیں گے ،کب تک ہم

معیشت مستحکم کرنے میں لگے رہیں گے معیشت کا پہیہ تیز چلا کر جب شرح نمو 7 سے 8 فیصد پر

لے جائیں گے اسی وقت نوجوان نسل کو درکار روزگار فراہم کرسکیں گے،ہمارے کمرشل بینکوں کو

نچلے طبقے کو قرض دینا آتا ہی نہیں ، ہم بجٹ میں بتائیں گے 40 سے 60 لاکھ غریب گھرانوں کے

خواب کو کس طرح پورا کریں گے۔ وہ جمعرات کو پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے ۔ اس

موقع پر ان کے ہمراہ وفاقی وزیر صنعت و پیداوار مخدوم خسرو بختیار، احساس پروگرام کی

چیئرپرسن و سینیٹر ڈاکٹر ثانیہ نشتر، وزیر اعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داؤد اور معاون

خصوصی برائے محصولات ڈاکٹر وقار مسعود بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہاکہ مالی سال 2021 کا

آغاز عالمی وبا کورونا وائرس کے دوران ہوا۔انہوں نے کہا کہ اس حکومت نے مؤثر پالیسی کی بدولت

کووِڈ کے اثرات کو زائل کیا اور گزشتہ برس جولائی میں معاشی سرگرمیاں بحال ہونا شروع ہوگئیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے دور اندیش فیصلے کیے جس میں وزیراعظم کا اسمارٹ لاک ڈاؤن کا بڑا

فیصلہ بھی شامل ہے اس کے علاوہ مانیٹری اور فسکل فیصلے ہوئے، اہم وزارتوں میں مراعات کے

فیصلے کیے گئے جن میں تعمیرات کا شعبہ بھی شامل ہے اور وزیراعظم نے اس میں آئی ایم ایف

سے خصوصی مراعات لیں۔وزیر خزانہ نے بتایا کہ اس کے بعد تیزی سے ویکسینیشن کا سلسلہ شروع

ہوا اور این سی او سی کا قیام اور ایک چھت تلے فیصلہ لینا بہت بڑا عمل تھا جس کی وجہ سے گزشتہ

برس بھی کووِڈ پر قابو پایا گیا اور فروری مارچ میں تیسری لہر کے دوران بھی اسے کنٹرول کرلیا

گیا۔شوکت ترین نے بتایا کہ جب کووِڈ 19 شروع ہوا اس وقت تقریباً 5 کروڑ 60 لاکھ افراد برسرِ

روزگار تھے جن کی تعداد گر کر 3 کروڑ 50 لاکھ پر آگئی یعنی 2 کروڑ لوگ بے روزگار ہوگئے۔

انہوں نے کہاکہ کووڈ سے متعلق وزیراعظم کی بڑی محتاط قسم کی پالیسیاں تھیں جس پر بہت سے

ممالک نے عمل نہیں کیا بلکہ خود ہمارے ملک میں ابتدا میں اس پر شک و شبہ ظاہر کیا جاتا رہا۔

انہوں نے کہا کہ ان پالیسیوں کی بدولت اکتوبر 2020 میں برسر روزگار افراد کی تعداد دوبارہ 5 تقریباً

کروڑ 30 لاکھ ہوگئی اس کا مطلب ساڑھے 5 کروڑ میں سے 25 لاکھ کے قریب لوگ باقی رہ گئے

اور معیشت بھی بحالی کی جانب گامزن ہونا شروع ہوگئی۔وزیر خزانہ نے کہا کہ گزشتہ بجٹ میں

حکومت کا اپنا اندازہ 2.1 فیصد شرح نمو کا تھا جبکہ آئی ایم ایف اور عالمی بینک کا تخمینہ تو اس

سے بھی کم تھا لیکن حکومت نے جو فیصلے لیے مینوفیکچرنگ، ٹیکسٹائل، زراعت اور تعمیراتی

شعبے کو گیس، بجلی اور دیگر مد میں مراعات دی گئیں جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے کی

مینوفیکچرنگ نے مثبت نمو کا مظاہرہ کیا جو تقریباً 9 فیصد تھی۔انہوں نے کہاکہ زراعت نے 2.77

فیصد نمو کی حالانکہ کپاس خراب ہونے کی وجہ سے ہمیں نمو منفی ہونے کا اندیشہ تھا لیکن باقی 4

فصلوں، گندم، چاول، گنا اور مکئی نے بہتر کارکردگی دکھائی۔انہوں نے کہا کہ ترسیلات زرِ نے

ریکارڈ قائم کردیا اور اس وقت ترسیلات زر 26 ارب ڈالر سے تجاوز کرچکی ہیں اور ہمارے اندازے

کے مطابق 29 ارب ڈالر تک جائیں گی۔وزیر خزانہ نے کہا کہ معیشت نے نمو کرنا شروع کیا تو تیل

کی قیمت بڑھی اور اشیائے خورونوش کی درآمد میں اضافہ ہوا، ہم نے گندم اور چینی درآمد کی اور

جو پاکستان اشیائے خورونوش برآمد کرنے والا تھا وہ درآمد کنندہ بن گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ

ترسیلات زرِ میں اضافہ سمندر پار پاکستانیوں کا وزیراعظم عمران خان سے خصوصی تعلق کو ظاہر

کرتا ہے، عالمی بینک اور متعدد تحقیقات میں خیال ظاہر کیا گیا تھا کہ کووِڈ بحران کے باعث

ترسیلات زر میں کمی آئے گی لیکن اﷲ کا کرنا یہ ہوا کہ اس وقت 29 فیصد سے بڑھ رہی ہیں جو

ریکارڈ ہے۔انہوں نے کہا کہ ترسیلات زر کو اﷲ نے ہمارے لیے فرشتہ بنا کر بھیج دیا کیوں کہ

ہمارے غیر ملکی زرِ مبادلہ کے لیے یہ انتہائی اہم تھا جس سے ہمارا کرنٹ اکاؤنٹ گزشتہ 10 ماہ

سے سرپلس ہے۔وزیر خزانہ نے بتایا کہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس میں ایک ارب ڈالر سے زیادہ رقم

آچکی ہے جبکہ اسٹیٹ بینک کے زرِ مبادلہ کے ذخائر جو 19-2018 میں 7 ارب ڈالر پر چلے گئے

تھے اب 16 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں جو 4 سال کی بلند ترین سطح ہے۔شوکت ترین نے کہا کہ

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس(ایف اے ٹی ایف) کے حوالے سے اچھی کارکردگی ہے اور ہمارا خیال

ہے کہ آئندہ جائزاتی اجلاس میں ہمیں ریلیف مل جائے گا، میں اس وقت یہ پیش گوئی نہیں کرسکتا کہ

ہم گرے سے وائٹ لسٹ پر آجائیں گے لیکن ان کی کمیٹیوں سے ملنے والا فیڈ بیک خاصہ تسلی بخش

ہے۔انہوں نے کہاکہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی ٹیکس کلیکشن بھی بہت بہتر ہے اور 11

ماہ کے دوران ہم 42 کھرب روپے تک پہنچ گئے ہیں جو گزشتہ برس سے 18 فیصد زائد ہے حالانکہ

مالی سال کے آغاز میں کسی کو اتنا بہتر ہونے کا اندازہ نہیں تھا۔انہوں نے بتایا کہ مارچ کے بعد سے

ماہانہ بنیاد پر ٹیکس کلیکشن کی نمو 50 سے 60 فیصد زیادہ ہے اس لیے ہمارا اندازہ ہے کہ ہم 47

کھرب روپے کے تخمینے سے بھی آگے نکل جائیں گے۔انہوں نے کہا اسی اندازے کی بنیاد پر اگلے

سال کے بجٹ میں یہ تخمینہ 58 کھرب روپے رکھا ہے، پرائمری بیلنس کو سرپلس میں لے کر چلے

گئے ہیں جو 12 سال میں پہلی مرتبہ ہوا۔وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی کی بات ہوتی ہے لیکن ہم

خالصتاً اشیائے خورونوش درآمد کرنے والا ملک بن گئے ہیں ہم گندم، چینی، دالیں، گھی درآمد

کررہے ہیں جس کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر قیمتوں میں آنے والے اتار چڑھاؤ سے متاثر ہیں

اس سے بچ نہیں سکتے۔وزیر خزانہ کے مطابق گزشتہ 12 ماہ کے دوران چینی کی عالمی قیمتیں 58

فیصد بڑھیں جبکہ ہمارے ہاں چینی کی قیمت 19 فیصد بڑھی، پام آئل کی قیمت میں 102 فیصد،

سویابین کی قیمت میں 119 فیصد ہوا جبکہ ہمارے ہاں پام آئل کی قیمت میں صرف 20 فیصد اضافہ

ہوا۔انہوں نے کہا خام تیل کی قیمت میں 119 فیصد اضافہ ہوا جس کے اثرات ہم نے عوام تک پہنچنے

نہیں دئیے اور گزشتہ سوا ماہ سے بالکل بھی تیل کی قیمت میں اضافہ نہیں کیا جارہا، مجموعی طور

پر ہمارے ہاں تیل کی قیمت میں 32 فیصد اضافہ ہوا یعنی 86 فیصد ہم نے جذب کرلیا۔وزیر خزانہ کے

مطابق عالمی منڈی میں گندم کی قیمت میں 29 فیصد اضافہ ہوا تو ہمیں بھی 29 فیصد ہی بڑھانی پڑی

اس میں فرق نہیں ہے البتہ چائے کی قیمت 8 فیصد بڑھی لیکن ہم نیکوئی اضافہ نہیں کیا۔انہوں نے کہا

کہ ہم قیمتیں کنٹرول کرنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن یہ ابھی بھی زیادہ ہیں جس کا اثر عام آدمی پر

پڑ رہا ہے اور اس کا حل اپنی زرعی پیداوار میں اضافہ کرنا ہے جس پر بجٹ میں بہت زور دیا گیا

ہے اور ہماری کوشش ہے کہ ہم دوبارہ نیٹ ایکسپورٹر بنیں کیوں کہ اپنی پیداوار کی قیمتیں ہم کنٹرول

کرسکتے ہیں۔وزیر خزانہ نے کہا کہ ہول سیل مارکیٹ میں لوگ بہت زیادہ مارجن بنا رہے ہیں جسے

ہم ختم کرنا چاہتے ہیں ہم زرعی شعبے اشیائے خورونوش کے گودام اور کولڈ اسٹوریج لارہے ہیں

جس سے آڑھتیوں سے جان چھوٹے گی اور ہم 4 سے 5 اہم چیزوں، گندم، چینی، دالیں میں اسٹریٹجک

ریزرو بنا رہے ہیں تا کہ ذخیرہ اندوزی نہ ہوسکے۔انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ ہماری اسٹاک

مارکیٹ ایشیا میں سب سے بہترین ہے، شرح سود میں اضافہ، ایکسچینج ریٹ بڑھنے سے قرضوں کی

ادائیگیاں 15 سو ارب سے بڑھ کر 3 ہزار ارب روپے تک جا پہنچیں۔وزیر خزانہ نے کہا کہ مارچ کے

اختتام تک ہمارا مجموعی قرض 380 کھرب روپے تھا جس میں سے ڈھائی سو کھرب مقامی قرض

جبکہ تقریباً 120 کھرب غیر ملکی قرض ہے جس میں گزشتہ برس کے مقابلے صرف تقریباً 17کھرب

روپے کا اضافہ ہوا ہے جبکہ اس سے پہلے والے سال میں یہ اضافہ 36 کھرب روپے تھا۔انہوں نے

بتایا کہ اس دفعہ قرضوں میں اضافہ گزشتہ برس کے مقابلے نصف سے بھی کم ہے، گزشتہ برس کے

مقابلے غیر ملکی قرض 7کھرب روپے کم ہے اور یہ جون 2020 میں 131 کھرب روپے تھا جو 125

کھرب روپے پر آگیا ہے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ قرض مجبوری ہے مالی خسارہ زیادہ ہوگا تو کہیں

سے تو ریفنڈ کرنا ہے یا تو ریونیو بڑھ جائے اور یہ عارضی بھی تھا کیوں کہ ایک وقت میں شرح

سود 13.25 فیصد تک جا پہنچی تھی جو واپس 7 فیصد پر آنے سے اس میں استحکام آتا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان بین الاقوامی مارکیٹ میں گیا 5 ارب 30 کروڑ روپے کی ڈیمانڈ تھی جس پر

ڈھائی ارب ڈالر لیے گئے۔انہوں نے کہا کہ صنعتوں میں سستے ٹیرف کے زریعے بجلی کی کھپت

بڑھانے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں 26 فیصد اضافہ ہوا، سیلولر فونز 18 کروڑ 20 لاکھ

ہوگئے ہیں جبکہ براڈ بینڈ کے تقریبا 10 کروڑ سبسکرائبر ہوگئے ہیں۔وزیر خزانہ نے کہا کہ احساس

پروگرام کو ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے ایک کروڑ 50 لاکھ گھرانوں تک پہنچایا اور اس میں ایمرجنسی کیش

اور دیگر مراعات دی گئیں۔اسی طرح وزیراعظم نے کامیاب جواب پروگرام کا اجرا کیا جس سے

ساڑھے 8 سے 9 ہزار افراد مستفید ہوچکے ہیں،۔وزیر خزانہ نے کہا کہ جو ممالک پائیدار ترقی

کرتے ہیں انہوں نے ہی 20 سے 30 سال تک مستحکم نمو کی ہے جبکہ ہماری نمو پیسے ادھار لے

کر، کریڈٹ کی بنیاد پر ہوتی ہے اور 4 سے 5 سال بعد ہم دوبارہ وہیں کھڑے ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا

کہ اس سے غریب شخص کے لیے گھر، کاروبار، صحت سہولیات، اسکل ڈیویلپمنٹ صرف خواب ہی

رہ جاتا ہے لیکن اس مرتبہ آپ بجٹ میں دیکھیں گے کہ ہم نے اس پر توجہ دی ہے، جو پہلے اس لیے

نہیں ہوا کہ انہیں طریقہ نہیں آتا تھا لیکن ہم اب طریقہ سکھائیں گے۔۔شوکت ترین نے کہا کہ اس وقت

انفارمیشن ٹیکنالوجی کا شعبہ 40 سے 50 فیصد نمو کررہا ہے جسے ہم آئندہ برس 100 فیصد تک

پہنچانا چاہتے ہیں اور اس سلسلے میں مراعات دی جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ سال 2000 میں بھارت

کی آئی ٹی ایکسپورٹ ایک ارب ڈالر تھی جو 2010 تک 100 ارب ڈالر پر پہنچ گئی تھی یعنی 10 سال

میں 100 گنا بڑھی تو کیا ہم 40 سے 50 فیصد نہیں بڑھا سکے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں برآمدات میں

اضافہ کرنا ہے کیوں کہ جب بھی درآمدات بڑھتی ہے تو اس سے ڈالر ختم ہوجاتے ہیں اسلیے ہمیں

ایکسپورٹ، ایف ڈی آئی میں اضافہ کرنا ہے اپنے پاس ڈالر کا انفلو بڑھانا ہے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ

ہاؤسنگ سیکٹر نے گزشتہ برس ساڑھے 8 فیصد ترقی کی جس میں اضافے کی گنجائش ہے اور ہم

اس میں نمو چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ توانائی ہمارے لہے بہت بڑا بلیک ہول ہے، گنجائش میں

ضرورت سے زیادہ اضافہ کردیا گیا اور اس کی ادائیگیاں اب ہمیں کرنی پڑ رہی ہیں کیوں کہ جتنی

گنجائش ہم پیدا کرچکے ہیں تو آئندہ 5 سے 6 برسوں میں 7 سے 8 فیصد نمو کرنے پر بھی مشکل

سے ہی استعمال ہوگی۔انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کی جانب سے بجلی کے نرخ بڑھانے پر اصرار

کیا گیا لیکن وزیراعظم نے بڑھانے سے انکار کردیا اس لیے ہماری کوشش ہے کہ اس میں جدت لائیں

جس سے نرخ بھی نہ بڑھیں اور گردشی قرض بھی ختم ہوجائے،۔ پاک چین اقتصادی راہداری (سی

پیک) کے حوالے سے وزیر خزانہ نے کہا کہ سی پیک کے تحت انفرا اسٹرکچر بنایا گیا ہے اور

خصوصی اقتصادی زونز بھی قائم کیے جاچکے ہیں لیکن گزشتہ 6 ، 7 برسوں سے ہم سے کوتاہی

ہوئی کہ ہمیں یہاں سرمایہ کار لے کر آنے چاہیے تھے، ہم چاہیں گے کہ وہ سی پیک استعمال کریں۔

معیشت استحکام کی طرف

ستاروں کا مکمل احوال جاننے کیلئے وزٹ کریں ….. ( جتن آن لائن کُنڈلی )
قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply