Artificial Intelligence

مصنوعی ذہانت، 5 سال کا کام ایک برس میں مکمل

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ٹوکیو(جتن آن لائن خصوصی رپورٹ) مصنوعی ذہانت

مصنوعی ذہانت نے 5 سال کے عرصے میں تیار کی جانیوالی ایک دوا کو ایک سال کی قلیل مدت میں تیار کر لیا۔ مزید پڑھیں

برطانوی اور جاپانی دو فارماسوٹیکل کمپنیوں کا کامیاب تجربہ

تفصیلات کے مطابق مصنوعی ذہانت سے پہلی دفعہ ادویات تیار کرلی گئی ہیں۔ادویات، برطانوی اور جاپانی دو فارماسوٹیکل کمپنیوں کی مشترکہ کوششوں سے تیار کی گئی ہیں۔ مرّوج طریقے سے ایک دوا کی تیاری میں اوسطاً 5 سال کا عرصہ لگتا ہے لیکن مصنوعی ذہانت کی مدد سے اسے ایک سال کی مختصر مدت میں تیار کر لیا گیا ہے۔ آبسیس کومپلسیو ڈِس آرڈر کے مریضوں کے لئے تیار کی گئی اس دوا کا انسانوں پر تجربہ کیا جائے گا۔

کامیابی ادویات کے سیکٹر کیلئے انتہائی مفید

اطلاعات کے مطابق دوا کی پیداوار کے دوران درست مالیکیول کے انتخاب کے لئے ایک سے زائد فیصلوں کی ضرورت پڑتی ہے اور مصنوعی ذہانت اس پیچیدہ مرحلے کو نہایت سرعت اور کامیابی سے مکمل کر لیتی ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق یہ کامیابی ادویات کے سیکٹر میں اس کے استعمال کے لئے ایک سنگِ میل ثابت ہو گی۔

چین اور امریکہ سر فہرست

یاد رہے حالیہ برسوں میں مصنوعی ذہانت کے شعبے میں زبردست پیش رفت ہوئی ہے۔ اس عرصے میں ہونیوالی ترقی کیساتھ ساتھ مصنوعی ذہانت سے متعلق بڑی تعداد میں ایجادات لوگوں کے سامنے آئی ہیں اور اس لحاظ سے چین اور امریکہ عالمی سطح پر پیش پیش رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے تحت علمی اثاثوں کی عالمی تنظیم کی جاری کردہ ایک رپورٹ میں کیا گیا ہے کہ مریکہ اور چین نے واضح طور پر اس شعبے کی قیادت سنبھال لی ہے۔ ایجادات کے جملہ حقوق کے تحفظ کیلئے دی جانیوالی درخواستوں اور سائنسی ایجادات کے حوالے سے دیکھا جائے تو چین اور امریکہ سر فہرست ہیں۔ چین سب سے زیادہ پیٹنٹ ایپلی کیشنز حاصل کرنیوالا ملک بن چکا ہے- ان ایجادات سے انسانیت کو فائدے کیساتھ ساتھ کچھ چیلنجز کا سامنا بھی کرنا پڑے گا۔

یہ بھی پڑھیں : مادر پدرآزاد فارماسیوٹیکل کمپنیاں اورڈریپ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply