justice asif saeed khosa speech at federal judicial academy 140

مشرف کیس پر اثر انداز ہونےکا الزام میرے اورعدلیہ کیخلاف گھنائونی سازش ہے،چیف جسٹس

Spread the love

اسلام آباد( سٹاف رپورٹر)چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ انہیں اور عدلیہ کو

بدنام کرنے کی گھناؤنی سازش کی جا رہی ہے۔اپنے اعزاز میں فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے

آج سبکدوش ہونے والے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ خصوصی عدالت کے پرویز

مشرف سنگین غداری کیس کے تفصیلی فیصلے کے بعد میرے اورعدلیہ کے خلاف تضحیک آمیزمہم

چلائی گئی، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بھی الزام لگایا کہ میں نے صحافیوں سے ملاقات میں مشرف

کیخلاف فیصلے کی حمایت کی،جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ مشرف کیس پر اثرانداز ہونے

کا الزام بے بنیاداور میرے اور عدلیہ کے خلاف گھناؤنی سازش ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ ایک جج

کو بے خوف و خطر ہونا چاہیے، جج کا شیر جیسا دل اور لوہے جیسے اعصاب ہونے چاہئیں، آج میرا

ضمیر سو فیصد مطمئن ہے، کوشش کی کہ خود کوایک آئیڈیل کردار کا حامل جج بناؤں، قانونی تقاضوں

کو ملحوظ خاطر رکھ کر بغیر کسی خوف کے فیصلے کئے، اگر کسی فیصلے میں مجھ سے ناانصافی

ہوئی تو معذرت خواہ ہوں، بے شک اللہ تعالی معاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔آصف سعید کھوسہ

نے کہا کہ سچ ہمیشہ زندہ رہتا ہے، مجھ پرعائد الزام بے بنیاد اور غلط ہے، ہمیں اپنی حدود کا علم ہے

، سچ سامنے آئے گا اورسچ کا ہمیشہ بول بالا ہوگا۔ جج کی حیثیت سے میرے لیے یہ اہم نہیں کہ

دوسروں کا ردعمل یا نتائج کیا ہو سکتے ہیں، اپنے 22 سالہ کیرئیر کے دوران بلا خوف و خطر

فیصلے کیے۔چیف جسٹس نے اپنے خطاب میں کہا میری اپروچ کو فہمیدہ ریاض کی نظم، تم اپنی کرنی

کر گزرو، جو ہوگا دیکھا جائے گا، کچھ لوگ تمھیں سمجھائیں گے، وہ تم کو خوف دلائیں گے، میں

خوبصورتی سے سمو دیاگیا ہے۔ نطم پر حال تالیوں سے گونج اٹھانامزد چیف جسٹس گلزار احمد نے فل

کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئین پاکستان ایک زندہ جاوید دستاویز ہے اور عوام کا

تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے، سپریم کورٹ قانون کی حکمرانی، آئین کے تحفظ اور آزاد عدلیہ کے

چیلنجز سے نبرد آزما ہوتی آئی ہے۔قبل ازیں ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامررحمان نے فل کورٹ ریفرنس

سے خطاب میں کہا کہ خصوصی عدالت کا فیصلہ بنیادی حقوق اور فوجداری نظام کی روایت کے

خلاف ہے، اس میں عداوت اورانتقام نظرآتا ہے، سزا پرعملدرآمد کا جوطریقہ کارفیصلے میں بتایا گیا

وہ غیرقانونی اورغیرانسانی ہے، ایسے کنڈکٹ والا شخص اعلی عدلیہ کا جج نہیں رہ سکتا، بھاری دل

کے ساتھ کہتا ہوں چیف جسٹس نے بھی خصوصی عدالت کے مختصر فیصلے کی حمایت کی ہے۔وائس

چیئرمین پاکستان بار امجد شاہ نے خطاب میں کہا کہ پرویز مشرف کیخلاف فیصلہ آئین کی بالادستی اور

قانون کی عملداری کا غماز ہے، پاکستان بار کونسل جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو سزا دینے کے

فیصلے کو سراہتی ہے، آئندہ کسی طالع آزما کو آئین شکنی اور جمہوری حکومت کو گرانے کی جرات

نہ ہوگی، جسٹس وقار اور انکے ساتھی رکن جج کو ہمیشہ عزت و تکریم سے یاد رکھا جائے گا،

مشرف فیصلے پر حکومتی حلقوں کا ردعمل توہین آمیز ہے۔صدر سپریم کورٹ بار قلب حسن شاہ نے

سپریم کورٹ سے بھٹو ریفرنس سماعت کیلئے مقررکرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ عدلیہ پرعوامی

اعتماد کی بحالی کیلئے لازم ہے کہ بھٹوریفرنس سماعت کیلئے مقرر کیا جائے، ریاست کے تمام اداروں

کو اپنی حدود میں رہ کر کام کرنا چاہیے، عدلیہ کو اکثر ایگزیکٹو اور اداروں کے دبائو کا سامنا رہتا

ہے، سپریم کورٹ بار مشرف کیس میں خصوصی عدالت کے فیصلے کو سراہتی ہے۔

چیف جسٹس

Leave a Reply