مشترکہ مفادات کونسل ملک کا بڑا مسئلہ حل کرنے پر متفق، نئی مردم شماری کا کا فیصلہ

مشترکہ مفادات کونسل ملک کا بڑا مسئلہ حل کرنے پر متفق، نئی مردم شماری کا فیصلہ

Spread the love

اسلام آباد (جے ٹی این آن لائن نیوز) مشترکہ مفادات کونسل

مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت ہوا جس

میں چاروں وزرائے اعلیٰ اور ممبران، وفاقی وزراء شریک ہوئے۔ اجلاس میں

سندھ اور بلوچستان نے مردم شماری کے نتائج کے اجراء پر اپنے اپنے جواب

پیش کئے، اجلاس میں مردم شماری کے نتائج جاری کرنے کی منظوری دی گئی۔

جبکہ مشترکہ مفادات کونسل نے فوری نئی مردم شماری کرانے کا فیصلہ بھی کر

لیا-

=-= پاکستان سے متعلق مزید تازہ ترین خبریں ( =–= پڑھیں =–= )

وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے اجلاس کے بعد نیوز کانفرنس کرتے ہوئے

بتایا مردم شماری کے لئے 10 سال کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں، فوری بنیاد

پر نئی مردم شماری کرانی ہے، حالیہ مردم شماری کی آڈٹ کا کوئی طریقہ موجود

نہیں، حالیہ مردم شماری منظور یا مسترد کر سکتے ہیں، حالیہ مردم شماری مسترد

کرتے ہیں تو 1998ء پر چلے جائیں گے، اکثریت رائے سے فیصلہ کیا گیا ہے کہ

مردم شماری کے نتائج منظور کرتے ہیں، وفاقی وزیر نے کہا اگلے 6 ، 8 ماہ میں

نئی مردم شماری کا فریم ورک تیار ہو جائیگا-

=قارئین=کاوش اچھی لگے تو شیئر، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

وفاقی وزیر اسد عمر کا کہنا تھا مردم شماری میں ہم نے اقوام متحدہ کے اصولوں

کو اپنانا ہے، رواں سال اکتوبر تک نئی مردم شماری شروع ہوگی، 2023ء میں

مارچ ، اپریل تک مردم شماری مکمل ہوگی، نئی مردم شماری کی بنیاد پر حلقہ

بندی بھی کرائی جاسکے گی، حالیہ مردم شماری سے متعلق اجلاس میں ووٹنگ

کی گئی، بلوچستان، پنجاب، خیبر پختونخوا نے حق میں اور سندھ نے مخالفت میں

ووٹ دیا، حالیہ مردم شماری کو قبول نہیں کیا جاتا تو اسمبلی میں نمائندگی کم ہو

گی، ہمارے وسائل کا بٹوارہ بھی آبادی کے مطابق کیا جاتا ہے، پرانی مردم شماری

پر منصوبہ کریں تو چھوٹے صوبوں کی نمائندگی کم ہو گی۔

مشترکہ مفادات کونسل

Leave a Reply