91

مسلم لیگ ق کا حکومتی نمائندے کے ساتھ مذاکرات سے انکار

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک ،سٹاف رپورٹر) اتحادی حکومت کے الجھے ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی،حکومتی

جماعت تحریک انصاف اور ان کی اتحادی جماعت مسلم لیگ(ق)کے مابین برف نہ پگھل سکی اور ق لیگی قیادت نے وفاقی

وزیرشفقت محمود سے اتحاد کے معاملے پر بات کرنے سے معذرت کرلی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیر اعظم عمران خان

کی قائم کردہ رابطہ کمیٹی کے رکن وفاقی وزیر شفقت محمود نے سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی سے ملاقات کی،

جس میں اتحادی حکومت کے تحفظات اور باہمی دلچسپی پر بات چیت کی گئی۔ وفاقی وزیر شفقت محمود اور اسپیکر پ

نجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی کے درمیان ملاقات میں برف نہ پگھل سکی، شفقت محمودمسلم لیگ ق کی قیادت کو نئی

کمیٹی سے مذاکرات کے لئے قائل نہ کرسکے، مسلم لیگ (ق)کی قیادت نے نئی حکومتی کمیٹی کے رکن شفقت محمود سے ا

تحاد کے معاملات پر بات چیت سے گریز کیا اور کہا کہ وفاقی وزیر کی ملاقات ذاتی حیثیت میں ہوئی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ

مسلم لیگ(ق)اپنے مطالبے پر ڈٹ گئی ہے اور ان کی قیادت کا کہنا ہے کہ پہلے جہانگیر ترین اور پرویز خٹک کی کمیٹی میں

طے شدہ معاملات پر عمل کیا جائے پھر نئی کمیٹی سے بات ہو گی، نئے سرے سے زیرو سے دوبارہ اتحاد کے معاملات پر ب

ات نہیں کر سکتے، جہانگیر ترین کی کمیٹی میں جو طے ہوا اس پر عمل کیا جائے، شفقت محمود سے ملاقات حکومتی کمیٹی

کے رکن کی حیثیت سے نہیں ذاتی حیثیت میں ہوئی۔دوسری جانب ملاقات کے بعد شفقت محمود نے اکیلے ہی میڈیا سے بات

کی اور ان کے ساتھ مسلم لیگ(ق)کا کوئی رہنما شریک نہ ہوا۔ وزیراعظم کی جانب سے قائم کمیٹی کے آج پہلے رابطے کے

حوالے سے وفاقی وزیر شفقت محمود کا کہنا تھا کہ چودھری پرویز الہی سے ون ٹو ون ملاقات ہوئی ہم ان سے بہت کچھ

سیکھتے ہیں اور ملاقات اعزاز کی بات ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ(ق)لیگی قیادت سے انتہائی خوشگوار ماحول میں ملاقات ہ

وئی، ہمارا کچھ لو اور کچھ دو کا رشتہ نہیں، ہماری سوچ ایک ہے، ہمارا ساتھ اب بھی ہے اور آئندہ بھی رہے گا، مسلم لیگ

(ق)کے جو خدشات تھے وہ بڑی حد تک حل ہو چکے ہیں۔شفقت محمود کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ(ق)کو خدشہ تھا کہ نئی کمیٹی ب

نی ہے تو دوبارہ شروع سے بات ہوگی، ہماری کمیٹی کی مسلم لیگ (ق)کی کمیٹی کے ساتھ ملاقات جلد ہوگی، نئی کمیٹی ب

نانے کا مقصد پرانے معاہدوں کو زیربحث لانا نہیں تھا، ق لیگ سے کیے گئے پرانے معاہدوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی ب

لکہ جو معاہدے کیے ہیں انہیں ہی ساتھ لے کر چلیں گے، جو معاملات ہیں ان پر تفصیل سے بات چیت ہو گی، کمیٹیاں جب ب

یٹھیں گی تو معاہدوں پر عملدرآمد پر بات ہو گی۔ ادھر مسلم لیگ ق اور حکومت کے درمیان تحریری معاہدے میں طے ہونے

والے نکات سامنے آگئے۔ چار نکاتی معاہدے میں پاور شیئرنگ کے اصول طے کیے گئے تھے۔ وفاق میں 2 اور پنجاب میں

میں بھی 2 وزارتیں ملنا تھیں جس پرحکومت عمل نہ کرسکی۔پاور شیئرنگ کے تحت ضلعی سطح اور مختلف حکومتی ا

داروں میں مسلم لیگ ق کے رہنماوں کو نمائندگی ملنا تھی۔ ڈے ٹو ڈے افیئرز میں بھی تحریک انصاف اور مسلم لیگ ق کے

درمیان مشاورت کا معاہدہ ہوا۔ پالیسی میکنگ میں بھی حکومت نے معاہدے میں مسلم لیگ ق کو شریک کرنے کا معاہدہ کیا ت

ھا۔ ترقیاتی فنڈز اور عوامی مسائل کے حل کے لئے مسلم لیگ ق کے ارکان کو با اختیار بنانا بھی معاہدے کا حصہ تھا۔کامل

علی آغا کا کہنا تھا فیصلہ کیا ہے اتحادی امور طے پانے تک مسلم لیگ ق کی قیادت ہر چار پانچ روز بعد اجلاس کرے گی، ہم

حکومت پر واضح کرچکے ہیں کہ ہمیں مرکز میں دوسری وزارت نہیں چاہیے، مونس الہی کی وزارت کے معاملے پر منفی پ

راپیگنڈہ کیا گیا، پارٹی میں اختلاف پیدا کرنے کی بھی کوشش کی گئی، پنجاب میں بھی جو وزارتیں ملی ہیں ان میں کوئی ا

ختیار نہیں، ہر تین ماہ بعد پنجاب کی وزارتوں میں سیکرٹری تبدیل کر دیا جاتا ہے۔مسلم لیگ (ق )کے رہنما کامل علی آغا نے

کہا ہے کہ تبدیلی اچھی چیز ہے تاہم ہر روز اور بار بار کی تبدیلی بداعتمادی پیدا کرتی ہے۔ ایک انٹرویومیں انہوںنے کہاکہ اب ت

یسری کمیٹی بنائی گئی ہے جس پر سمجھ نہیں آرہا ہے کہ اس کی کیاضرورت تھی۔کامل علی آغا نے کہاکہ تبدیلی اچھی چیز ہ

ے تاہم ہر روز اور بار بار کی تبدیلی بداعتمادی پیدا کرتی ہے،ہم نے ملک کے مفاد میں اتحاد کیا ہے ہم آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔

ق لیگ کے رہنما نے کہا کہ حکومت کی جانب سے ایک ہفتے میں مطالبات پر عمل درآمد شروع کرنے کی یقین دہانی کرائی

گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے ہمیشہ ایسی تبدیلی آتی ہے جس سے بداعتمادی پیدا ہوتی ہے، ہم کھلے

دروازوں کی سیاست کرتے ہیں ،اگر11 بار بھی کسی نے ڈسا ہو اور وہ واپس آئے تو ہم گلے لگا لیتے ہیں۔دریں اثنا ذرائع کے

مطابق مسلم لیگ (ق) کی حکومت کے ساتھ ناراضگی طول پکڑنے لگی ، چوہدری برادران نے کہہ دیا اب عمران خان سے

ملنے نہیں جائیں گے اگر انہیں ضرورت ہے تو وہ خود ہمارے پاس آئیں ۔پیر کو میڈیا رپورٹس کے مطابق مسلم لیگ (ق) کے

رہنما وسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری الٰہی نے کہا ہے کہ پنجاب میں گورننس کے شدید مسائل ہیں ، تحریک انصاف کے لوگ ب

ھی ہمارے پاس مسائل لے کر آرہے ہیں ، ، 3فروری کو ہونے والی ملاقات میں وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کی

درخواست پر ہوئی ،چوہدری پرویز الٰہی کے لوگ شہر میں نہیں تھے اس لئے وہ خود شفقت محمود سے ملے ورنہ انہوں نے ا

ن سے بھی نہیں ملنا تھا ۔ ٹی وی رپورٹ میں تجزیہ کار کے حوالے سے بتایاگیا کہ معاملات بہت گھمبیر ہوگئے ہیں ،

کمیٹیوں کا جو بھی معاملہ ہے تحریک انصاف کو دیکھنا پڑے گا کہ چوہدری برادران کو کس طرح منانا ہے ۔

مسلم لیگ ق

اپنا تبصرہ بھیجیں