مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی نے سوشل میڈیا پر کریک ڈائون کی مخالفت کر دی

Spread the love

اسلام آباد(جے ٹی این آن لائن) پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی نے حکومت کی جانب سے سوشل میڈیا پر کریک ڈائون کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے وزیر اطلاعات نیب ہیں، ایف آئی اے یا عدالت ہیں؟ یکطرفہ احتساب کے بجائے اداروں کو مضبوط کریں،

ہرمعاملے پر ٹوئٹ کرنے والے فواد چوہدری علیمہ خان کے معاملہ پر ٹوئٹ کیوں نہیں کرتے؟ سب سے زیادہ مقدمات تو خود تحریک انصاف کے لوگوں پر بنیں گے،سائبر کرائم سے متعلق قوانین کی موجودگی میں نیا ادارہ بنانے کی کوئی ضرورت نہیں۔

ایک انٹرویو میں مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہاکہ حکومت انصاف کے نام پر ناانصافی کر رہی ہے۔آپ کون ہیں کریک ڈاؤن اور گرفتاریاں کریں گے۔انہوں نے حکومت کو انتباہ جاری کر تے ہوئے کہا کل یہ کام آپ کے ساتھ ہوگا تو لگ پتہ جائے گا،

وزیر اطلاعات بنی گالہ کی غیر قانونی تعمیرات پر بات کیوں نہیں کرتے۔غریبوں کے مکانات گرانے والے بنی گالہ کیوں نہیں گراتے ۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی چیئرپرسن اور پیپلز پارٹی کی سینیٹر روبینہ خالد نے سو شل میڈیا کے خلاف کریک ڈائون کی مخالفت کرتے ہوئے کہا آزادی اظہار رائے کے خلاف کریک ڈائون کی کوئی منطق نہیں بنتی۔

لوگوں کی آواز نہ بند کریں انہیں بولنے دیں۔اس طرح کی بات تحریک انصاف کی جانب سے آنا حیرانگی کی بات ہے۔ تحریک انصاف نے ماضی میں سوشل میڈیا کو سیاسی مخالفین کے خلاف بدزبانی کے لیے استعمال کیا۔ سب سے زیادہ مقدمات تو خود تحریک انصاف کے لوگوں پر بنیں گے۔

سائبر کرائم کے حوالے سے موجود قوانین کو ہی موثر بنایا جائے۔ سائبر کرائم سے متعلق قوانین کی موجودگی میں نیا ادارہ بنانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ الگ سے محکمہ بنانے کا الگ سے خرچہ ہوگا۔

Leave a Reply