مسجد اقصیٰ پر یہودی آباد کاروں کا پھر دھاوا، کئی فلسطینی نمازی گرفتار

مسجد اقصیٰ پر یہودی آباد کاروں کا پھر دھاوا، کئی فلسطینی نمازی گرفتار

Spread the love

مقبوضہ بیت المقدس (جے ٹی این آن لائن انٹرنیشنل نیوز) مسجد اقصیٰ یہودی دھاوا

بیت المقدس میں اسرائیلی پولیس نے3 ہفتوں تک روکے رکھنے کے بعد اپنی زیر

نگرانی اتوار کے روز درجنوں یہودی مذہبی افراد کو مسجد اقصی کے صحنوں

میں داخلے کی اجازت دیدی، اس سے قبل فجر کے وقت اسرائیلی فورسز نے

نمازیوں پر دھاوا بول کر 6 افراد کو گرفتار کر لیا، جبکہ فلسطینی وزارت خارجہ

نے مسجد اقصی کے صحنوں پر اسرائیلی سکیورٹی فورسز اور یہودی آباد کاروں

کے مسلسل دھاوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بحالی امن کو مضبوط

بنانے کی کوششوں کو روندنے کے مترادف ہے۔

=-= دنیا بھر سے مزید خبریں ( =–= پڑھیں =–= )

فلسطینی سرکاری خبر رساں ایجنسی وفا کے مطابق گرفتار ہونیوالوں میں اسلامی

اوقاف کا ایک پہرے دار اور ملازم بھی شامل ہیں۔ اسی طرح اسرائیلی پولیس نے

45 برس سے کم عمر افراد کو مسجد اقصی میں داخل ہونے سے روک دیا۔ پولیس

نے مسجد کے دروازوں پر سیکورٹی اقدامات سخت کر دیے اور نمازیوں کی

شناخت کی تفصیلی جانچ شروع کر دی۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فورسز نے

مسجد اقصی کے احاطے کے اندر مسجد کے اطراف کی جگہ فلسطینی نمازیوں

سے خالی کروا لی اور وہاں خود تعینات ہو گئے تا کہ یہود آباد کاروں کا داخلہ

آسان بنایا جا سکے۔ اسرائیلی پولیس نے گذشتہ روز ہفتے کی شب سے لے کر

اتوارکی علی الصبح تک مغربی کنارے کے مختلف علاقوں سے 20 فلسطینیوں کو

گرفتار کر لیا تھا۔ اس سے قبل ہفتے کی شام مشرقی بیت المقدس کے علاقے شیخ

جراح میں فلسطینیوں اور اسرائیلی فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔

=-= قارئین کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

دوسری جانب غزہ کی پٹی میں اسرائیل اور فلسطینی گروپوں کے بیچ فائر بندی

ابھی تک جاری و ساری ہے۔ اس فائر بندی کا آغاز جمعرات اور جمعے کی

درمیانی شب 2 بجے سے ہوا۔ اسرائیل اور حماس کے درمیان ثالثی کا کردار ادا

کرنے والے ملک مصر نے جمعرات کے روز اعلان کیا تھا کہ 11 روز کی لڑائی

کے بعد فریقین فائر بندی پر آمادہ ہو گئے ہیں۔ غزہ کی پٹی پر اسرائیل کی وحشیانہ

بم باری کے نتیجے میں تقریبا ڈیڑھ ہفتے کے دوران میں 248 فلسطینی شہید ہوئے

اور کروڑوں ڈالروں کا مادی نقصان بھی پہنچا۔

مسجد اقصیٰ یہودی دھاوا

Leave a Reply