مسجد اقصیٰ میں فلسطینی نمازیوں پر اسرائیلی حملے، 250 زخمی، پوپ کی مذمت

مسجد اقصیٰ میں فلسطینی نمازیوں پر اسرائیلی حملے، 250 زخمی، پوپ کی مذمت

Spread the love

مقبوضہ بیت المقدس ( جے ٹی این آن لائن انٹرنیشنل نیوز) مسجد اقصیٰ اسرائیلی حملے

اسرائیلی فورسز نے بیت المقدس میں لیلتہ القدر پر خصوصی عبادات کے لیے

مسجد اقصیٰ کے قریب جمع ہونے سیکڑوں فلسطینیوں کو مسلسل دوسری رات بھی

تشدد کا نشانہ بنایا جس سے زخمی ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 250 سے زیادہ

ہو گئی ہے۔ زخمیوں میں بچے بھی شامل ہیں۔ ترکی اور برطانیہ میں فلسطینیوں

کے حق میں اسرائیلی سفارت خانے کے سامنے مظاہرے کیا گیا۔ نہتے فلسطینیوں

پر اسرائیلی فورسز کے مظالم کم نہ ہو سکے، جبکہ کیتھولک عیسائیوں کے مذہبی

پیشوا پوپ فرانسس نے مقبوضہ بیت المقدس میں تشدد روکنے کا مطالبہ کرتے

ہوئے کہا تشدد سے تشدد ہی جنم لیتا ہے، جھڑپوں کو فوری روکا جائے-

=-= ایسی ہی مزید معلومات پر مبنی خبریں ( =–= پڑھیں =–= )

عالمی میڈیا کے مطابق ہنگامہ آرائی کے دوران فلسطینی نوجوانوں نے پتھراؤ کیا

اور اسرائیلی فورسز کی جانب سے کھڑی کی گئی رکاوٹیں گراتے ہوئے آ گے

بڑھے۔ جس کے نتیجے میں پیدل اور گھوڑوں پر سوار اسرائیلی فورسز نے

فلسطینیوں پر بدترین تشدد کیا اور انہیں پسپا کرنے کے لیے دستی بم گولیوں اور

واٹر کینن کا استعمال کیا۔ فلسطین ریڈ کریسنٹ کے مطابق اس واقعے میں 80 افراد

زخمی ہوئے جن میں کم سن اور ایک سال کی عمر کا بچہ بھی شامل ہے۔ دوسری

جانب اسرائیلی پولیس نے بتایا کہ کم از کم ایک افسر زخمی ہوا ہے۔ پرانے شہر

کے دمشق دروازے کے قریب تقریر کرتے ہوئے 27 سالہ محمود المربو نے کہا وہ

نہیں چاہتے کہ ہم دعا کریں، یہاں ہر روز لڑائی اور جھڑپیں ہوتی ہیں۔ پولیس اور

نوجوان کے مابین ہنگامہ آرائی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا اسرائیلی پولیس

تھنڈر فلیش استعمال کرتے ہیں، دیکھو وہ کس طرح ہم پر فائرنگ کر رہے ہیں، ہم

کیسے زندہ رہ سکتے ہیں؟

=-= قارئین ہماری کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

غزہ پر حکمرانی کرنے والے حماس کے ایک رہنما موسا ابو مرزوق نے ٹوئٹر پر

کہا کہ ‘ ہم الاقصیٰ کے لوگوں کو سلام پیش کرتے ہیں اور ہم فلسطین میں اپنے

بھائیوں کی ہر طرح سے مدد کرنے کے لیے زور دیتے ہیں۔ دوسری جانب اسرائیل

نے کہا کہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے اور غزہ میں گزشتہ رات مسجد اقصیٰ میں

شدید جھڑپوں کے بعد مزید محاذ آرائی کے پیش نظر سیکیورٹی بڑھا رہا ہے۔ ایک

فلسطینی عہدیدار نے بتایا مصر مزید کشیدگی کو روکنے کے لیے فریقین کے

مابین ثالثی کر رہا ہے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے بیت المقدس میں

اسرائیلی فورسز کے حملوں کے بعد فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل

کرنے کے تل ابیب کے منصوبوں کی مذمت کی ہے۔ ہلال احمر فلسطین کے مطابق

تازہ جھڑپوں میں القدس اور اس کے اطراف میں 53 زخمی ہوئے ہیں جن میں سے

8 کو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ صہیونی فوج کی طرف سے فلسطینی شہریوں پر

آنسوگیس کی شیلنگ، دھاتی گولیوں اور صوتی بموں کا استعمال کیا گیا

=–= اسرائیل دہشت گرد ریاست ہے، ترک صدر رجب طیب اردوان

کیتھولک عیسائیوں کے مذہبی پیشوا پوپ فرانسس نے مزید کہا کہ بیت المقدس تشدد

کی نہیں عبادت کی جگہ ہے، کثیرالمذاہب اور کثیرالثقافتی شناخت والے مقدس شہر

کا احترام برقرار رہنا چاہیے۔ بھائی چارہ قائم رکھنے کیلئے سب کو مشترکہ قرار

داد کی دعوت دیتا ہوں۔ تیونس نے مقبوضہ بیت المقدس کی صورتحال پر اقوام

متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانےکا مطالبہ کیا ہے جبکہ ترک

صدر رجب طیب اردوان نے فلسطینیوں پر مسجد اقصیٰ میں ربڑ کی گولیاں فائر

کرنے، گرینیڈ سے حملوں اور تشدد پر اسرائیل کو دہشت گرد ریاست قرار دے دیا۔

رجب طیب اردوان نے کہا کہ انقرہ نے واقعہ پر عالمی اداروں کو جھنجوڑنا شروع

کردیا ہے۔

=–= اسرائیلی سپریم کورٹ کا معاملے کی سماعت کا اعلان

دریں اثنا اسرائیلی فورسز کی مسجد اقصیٰ میں پرتشدد کارروائیوں کے خلاف اور

فلسطینیوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے برطانیہ مین احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جبکہ

برطانیہ کی رکن پارلیمنٹ نے اسرائیل فوج کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے

وزیراعظم بورس جانسن سے معاملے پر آواز اٹھانے کا مطالبہ کردیا ہے۔ دوسری

جانب بریڈ فورڈ میں واقع ٹاﺅن ہال کے سامنے فلسطینیوں سے اظہارِ یکجہتی کے

لیے مظاہرہ بھی کیا گیا، جس میں رکن پارلیمنٹ ناز شاہ بھی شریک ہوئیں۔

مظاہرے میں خواتین اور بچے بھی موجود تھے، جنہوں نے فلسطینیوں کے حق

میں اور اسرائیل کے خلاف نعرے لگائے۔ شرکا نے فلسطین کے پرچم اور پلے

کارڈ اٹھا رکھے ہیں۔ جن پر مظالم فوری بند کرو کے الفاظ درج تھے۔

مسجد اقصیٰ اسرائیلی حملے

Leave a Reply