مستحکم پاکستان کیلئے قبائلستان، ہزارہ، پوٹھوہار و سرائیکستان صوبے ضروری

مستحکم پاکستان کیلئے قبائلستان، ہزارہ، پوٹھوہار و سرائیکستان صوبے ضروری

Spread the love

اسلام آباد (جتن رپورٹر سردار یاسر احمد) مستحکم پاکستان کیلئے

تحریک صوبہ ہزارہ، تحریک صوبہ پوٹھوہاراور قبائل تحفظ موومنٹ کے رہنماﺅں

نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ جہاں بھی صوبے بنانے کی ضرورت ہے وہاں

نئے صوبے بنائے جائیں، ہزارہ اور پوٹھوار کو صوبے کی حیثیت دی جائے، فاٹا

کا کے پی کے میں جبری انضمام ختم، الگ اور خود مختارصوبہ بنایا جائے- ملک

میں 12 صوبوں کا ہونا ضروری ہے، نئے صوبے بننے سے مہنگائی کم ہو گی

جبکہ ملک ترقی کرے گا، صوبہ قبائلستان، صوبہ ہزارہ، صوبہ پوٹھوہار اور

صوبہ سرائیکستان لے کر رہیں گے-

=-،-= خیبر پختونخوا سے متعلق مزید خبریں (=-= پڑھیں =-=)

این پی سی میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے تحریک صوبہ ہزارہ کے

چیئرمین سردار گوہر زمان، چئیرمین تحریک صوبہ پوٹھوہار راجہ اعجاز اور

جنرل سیکرٹری قبائل تحفظ موومنٹ داؤد شاہ آفریدی نے کہا جہاں بھی صوبے

بنانے کی ضرورت ہے وہاں نئے صوبے ضرور بنائے جانے چاہیئں، ہزارہ اور

پوٹھوار کو صوبے کی حیثیت دی جائے جبکہ فاٹا کو کے پی کے میں ضم کرنے

کی بجائے ایک الگ اور خودمختارصوبہ بنایا جائے کیونکہ فاٹا کا جبری انضمام

کیا گیا اس میں ہماری مرضی شامل نہیں، تحریک صوبہ ہزارہ کے چیئرمین سردار

گوہر زمان نے کہا ملک میں 12 صوبوں کا ہونا ضروری ہے، اسلیے جلد سے جلد

نئے صوبے بنائے جائیں تاکہ ملک میں مہنگائی اور کرپشن پر قابو پایا جا سکے،

اس معاملے پر تینوں تحریکیں اکھٹی ہیں اور اپنے مقصد کو حاصل کرنے تک اپنی

جان بھی دیں گے، اب ہم اپنے اور بچوں کے مستقبل کیلیے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں-

=-،-= صوبہ پنجاب سے متعلق مزید خبریں ( =،= پڑھیں =،=)

اس موقع پر جنرل سیکرٹری قبائل تحفظ موومنٹ حاجی داؤد شاہ آفرید ی نے کہنا

تھا ملکی معیشت اور پُر امن پاکستان کیلیے ہم نے مشترکہ اجلاس منعقد کیا، قبائل

تحفظ موومنٹ کا موقف ہے پاکستان سے قبل قبائل موجود تھے، ہم نے اس ملک

کیلیے قربانی دی، ہمیں ایک غریب صوبے کی دُم بنا دیا گیا ہے جس کا کوئی فائدہ

نہیں، فاٹا کا جبری انضمام کیا گیا مگر اس میں ہماری مرضی شامل نہیں، آج بھی

قبائل میں امن قائم نہیں ہے ہمیں تخت پشاور کے ماتحت کرنے کی سازش کی گئی

ہے، فاٹا انضمام ایک مغربی ایجنڈا ہے ہمارا استحصال کیا گیا ہے، ہم تخت پشاور

سے آئینی و قانونی بغاوت کا اعلان کرتے ہیں، ریاست پاکستان نے فاٹا کے حوالے

سے جو تجاویز پیش کی تھیں ان پر کوئی عملدرآمد نہیں ہوا، ہم ایک لویہ جرگہ

وزیرستان میں کرنا چاہتے تھے جس کی ہمیں اجازت نہیں دی گئی، ہم پُر امن

پاکستانی شہری ہیں، ہمارا حق ہے کہ ہم جہاں پر چاہیں جرگہ کر سکتے ہیں-

=-= قارئین= کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

پاکستان افغانستان کیساتھ معاملات اس نہج پر طے کرے کہ معاملہ حل ہو، لویہ

جرگہ اس میں اپنا کردار ادا کر سکتا ہے، بارڈر پر لگائی گئیں پابندیاں نرم کی

جائیں تاکہ ہم اپنے لوگوں سے مل سکیں، صوبہ قبائلستان، صوبہ ہزارہ، صوبہ

پوٹھوہار اور صوبہ سرائیکستان لیکر رہیں گے، اس کیلئے مشترکہ ہیڈ آفس اسلام

آباد میں بنائیں گے، چئیرمین تحریک صوبہ پوٹھوہارراجہ اعجازنے میڈیا کو بتایا

کہ ہم گزشتہ دس سال سے صوبہ پوٹھوہار کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ اجلاس میں

طے پایا ہے کہ ہم صوبوں کے قیام کیلیے مشترکہ جدوجہد جاری رکھیں گے،

انتظامی یونٹ زیادہ ہونے سے ترقی زیادہ ہو گی۔

مستحکم پاکستان کیلئے ، مستحکم پاکستان کیلئے ، مستحکم پاکستان کیلئے

Leave a Reply