سی پیک پر بیان بےبنیاد، امریکہ سرد جنگ کی ذہنیت ترک کردے، چین

مسئلہ فلسطین کا واحد حل دو ریاستوں کا قیام ہے ، چین

Spread the love

مسئلہ فلسطین کا حل

واشنگٹن (جے ٹی این آن لائن نیوز) اسرائیل اور فلسطینی جنگ جو گروہ حماس کے درمیان جنگ

دوسرے ہفتے میں داخل ہوگئی ہے اور جنگ بندی کی بین الاقوامی کوششیں ابھی تک ناکام رہی ہیں۔

نیویارک سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق وہاں اتوار کے روز چینی وزیر خارجہ وانگ ژی کی

صدارت میں ہونے والا سلامتی کونسل کے پندرہ ارکان کا اجلاس جنگ بندی کی مشترکہ قرارداد

منظور کرنے میں ناکام رہا کیونکہ امریکہ نے دوسری مرتبہ اسے ’’بلاک‘‘ کر دیا۔ امریکہ جنگ

بندی کا حامی ہے لیکن اسے قرارداد کے متن سے اختلاف تھا۔ اس دوران وائٹ ہاؤس کی طرف سے

جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ حماس اور اسرائیل کے درمیان موجودہ تنازعے کے

تصفیے کی کوششیں تبھی کامیاب ہوسکیں گی جب دونوں فریق جنگ بندی پر تیار ہوں۔ وائٹ ہاؤس

کے ذرائع نے اس تاثر کی تردید کی کہ بائیڈن انتظامیہ اسرائیل کے ساتھ ترجیحی سلوک کر رہی ہے

ان کا کہناہے کہ امریکہ کا موقف یہ ہے کہ اس خطے میں فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کو محفوظ زندگی

گزارنے کا برابر کا حق حاصل ہے اور وہ فلسطین اور اسرائیل کی الگ الگ خودمختار اور آزاد دو

ریاستوں کے قیام کا حامی ہے۔ سلامتی کونسل کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے چینی وزیر

خارجہ وانگ ژی نے اسرائیل اور فلسطین کی صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے اپنا موقف بیان کیا۔

انہوں نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ موجودہ کشیدگی کم کرنے اور صورتحال کو مزید

بگڑنے سے بچانے کیلئے اپنا موثر کردار ادا کرے۔ چینی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ اس وقت

اولین اور فوری ترجیح جنگ بندی ہے تاکہ اس تنازعے میں معصوم شہریوں کی جانوں کو بچایا

جاسکے۔ ویڈیو لنک کے ذریعے سلامتی کونسل کے ارکان کے کھلے اجلاس نے خطاب کرتے ہوئے

انہوں نے شہریوں پر تشدد کی واضح الفاظ میں مزمت کی اور حملوں کو فوری طور پر بند کرنے کا

مطالبہ کیا۔ انہوں نے خاص طور پر اسرائیل پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کرے اور بین الاقوامی

معاہدوں کے مطابق غزہ میں محاصرہ ختم کرکے شہریوں کو خوراک اور دیگر سامان کی ترسیل کا

راستہ کھولے۔ انہوں نے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی کہ وہ فلسطینیوں کو انسانی ہمدردی کی

امداد فراہم کے۔ چینی وزیرخاجہ نے اپنے ملک کے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ

’’دوریاستی نظریئے‘‘ پر عملدرآمد کرکے ہی اس تنازعے کو مستقل طور پر حل کیا جاسکتا ہے۔ اقوامِ

متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں شریک تمام اراکین نے اسرائیل نے زور دیا ہے کہ

مقبوضہ علاقے میں آبادیاتی اور علاقائی تبدیلیاں نہ کرے اور اور احملے فوری طور پر ختم کرے۔

رپورٹ کے مطابق سلامتی کونسل کے اراکین نے فلسطینیوں کے لیے بین الاقوامی تسلیم شدہ سرحد

کے ساتھ آزاد ریاست والے 2 ریاستی حل کی ضرورت پر زور دیا۔ ۔اجلاس میں خطاب کرنے والے

پہلے 2 درجن افراد میں شامل اقوامِ متحدہ کے سربراہ انتونیوگوتریس نے خبردار کیا کہ حالیہ پر تشدد

کارروائیاں صرف موت، تباہ اور مایوسی کے چکروں کو دوام بخشتا ہے اور مایوسی، اور بقائے

باہمی اور امن کی امید کا افق مزید دور کردیتی ہے۔تمام فریقین سے امن کے مطالبے پر دھیان دینے

کی اپیل کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لڑائی لازمی رکنی چاہیے اسے فوری طور پر رکنا چاہیے۔

مسئلہ فلسطین کا حل

ستاروں کا مکمل احوال جاننے کیلئے وزٹ کریں ….. ( جتن آن لائن کُنڈلی )
قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply