مریکا دہشتگردی کیخلاف دیانتدار نہیں، ترک صدر

Spread the love

ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے اعلان کیا ہے کہ شام میں لڑنے والے امریکی حمایت یافتہ کرد باغیوں کے خلاف نیا فوجی آپریشن شروع کیا جائے گا جس کے بعد نیٹو ممالک سے ترکی کے تعلقات پر اثر پڑنے کے خدشات ظاہر کیے جارہے ہیں۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق جمعرات کو اردگان کا کہنا تھا کہ ہم فرات کے مشرقی حصے کو علیحدگی پسند گروپس سے بچانے کے لیے چند دنوں میں آپریشن شروع کریں گے۔انہوں نے واضح کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا ہدف امریکی فوجی نہیں ہیں، یہ ایک دہشت گردی تظیم ہے جو خطے میں متحرک ہے۔ترک صدر نے امریکا کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس حوالے سیدیانت دار نہیں ہیں، انہوں نے تاحال مانبج سے دہشت گردوں کو ختم نہیں کیا اس لیے ہم خود کریں گے۔اردوان کی طرف سے یہ اعلان دفاعی صنعت کے حوالے سے ایک اجلاس کے بعد سامنے آیا جس کا مقصد شمالی شام میں ترکی کی شکایات کے باوجود امریکا کی جانب سے قائم کی گئی پوسٹ کا جائزہ لینا تھا۔ترکی کا موقف ہے کہ امریکی پوسٹس کا مقصد کرد ملیشیا وائی پی جی کو تحفظ دینا ہے جبکہ امریکا کا کہنا ہے کہ یہ پوسٹس ترکی کے تحفظات کو ختم کرنے کے لیے بنائی گئی ہیں۔طیب اردوان نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ امریکا کی جانب سے ریڈار اور پوسٹس قائم کری جا رہی ہیں۔

Leave a Reply